Banner

ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا — ایک فرد نہیں، انجمن

Share

Share This Post

or copy the link

ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا — ایک فرد نہیں، انجمن

منشاقاضی
حسبِ منشا

پاکستان کی فکری، سماجی اور انتظامی تاریخ میں چند شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا ذکر محض اُن کے عہدوں یا القابات تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اُن کی ذات ایک مکمل ادارہ، ایک نظریہ، اور ایک عہد کی نمائندہ ہوتی ہے۔ ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا انہی نابغہ ء روزگار ہستیوں میں سے ایک ہیں، جنہیں دیکھ کر انسان کو یقین ہوتا ہے کہ دیانت، علم، خدمت اور بصیرت آج بھی زندہ ہیں اور مسلسل نمو پا رہی ہیں۔ 1955ء میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا کا تعلق ایک علمی اور فکری پسِ منظر رکھنے والے گھرانے سے ہے۔ تعلیم کے ابتدائی مراحل سے ہی اُن کے رویے میں سنجیدگی، مطالعے سے شغف اور خدمتِ خلق کی چمک نمایاں تھی۔ اُنہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور وقت گزرنے کے ساتھ وہ نہ صرف ایک معزز سرکاری افسر بنے بلکہ علم و دانش کے ایسے مینار میں ڈھل گئے جو آنے والی نسلوں کو روشنی فراہم کرتا رہے گا۔
اداروں کا معمار — ایک وژنری لیڈر
ڈاکٹر رانجھا نے متعدد اہم قومی اداروں کی قیادت کی، جن میں:
ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ
قومی سطح پر صحت کے شعبے میں پالیسیاں تشکیل دینا، پبلک ہیلتھ سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کرنا، اور طبی سہولیات کے معیارات کو بلند کرنا ان کی نمایاں خدمات میں شامل ہے۔ انہوں نے صحت کے شعبے میں انسانی ہمدردی اور جدید نظام کو باہم جوڑنے کی بھرپور کوشش کی۔
پاکستان مین پاور انسٹیٹیوٹ
جہاں عام طور پر بیوروکریٹک ادارے محض اعداد و شمار کی حد تک محدود رہتے ہیں، ڈاکٹر رانجھا نے اس انسٹیٹیوٹ کو تحقیق، انسانی وسائل کی ترقی اور پالیسی ریفارمز کا عملی گہوارہ بنا دیا۔ انہوں نے ملک کے ہنرمند طبقے کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔
نیشنل ٹیلنٹ پول
یہ ادارہ اُن کے وژن کا مظہر ہے، جس کے تحت پاکستان کے بکھرے ہوئے ذہین اور ہنر مند افراد کو قومی ترقی میں شامل کیا گیا۔ اُنہوں نے اس پروگرام کو محض ایک رسمی ادارہ نہیں رہنے دیا، بلکہ اِسے ایک “ذہنی انقلاب” میں تبدیل کر دیا۔
فیڈرل یونیورسٹی آف آرٹس
سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، اسلام آباد
تعلیم سے اُن کا رشتہ محض انتظامی نہیں بلکہ روحانی ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی میں تحقیق، فنونِ لطیفہ، اور سائنسی علوم کو یکجا کر کے ایک ایسی علمی فضا قائم کی جو پاکستانی نوجوانوں کے لیئے مستقبل کی امید بنی۔
ایک اور اہم ترین کردار ڈاکٹر رانجھا کا “وفاقی محتسب” کے مشیر کی حیثیت سے رہا ہے۔ یہ وہ منصب تھا ۔ جہاں طاقت، عقل اور دردِ دل تینوں درکار ہوتے ہیں۔ عوامی شکایات کے ازالے، انصاف کی بروقت فراہمی، اور نظام کی خامیوں کی اصلاح میں اُن کا کردار نہایت مؤثر اور قابلِ تحسین رہا ہے۔ وہ ہر فرد کی بات سنتے تھے، سمجھتے تھے، اور خلوص دل سے راہ نکالتے تھے۔

ڈاکٹر رانجھا نہ صرف ایک منتظم اور محقق ہیں بلکہ ایک بلند پایہ خطیب اور فکری رہنما بھی ہیں۔ اُن کی تقاریر میں الفاظ کے موتی بکھرتے ہیں، جن میں علم، تجربہ، سچائی، اور خلوص کا امتزاج ہوتا ہے۔ وہ دلوں کو روشن کرتے ہیں اور ذہنوں کو جگاتے ہیں۔ اُن کے خطبات سامعین کے دلوں میں امید، عزم، اور عمل کی جوت جگا دیتے ہیں۔
ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا کی شخصیت میں عاجزی، انکساری، سنجیدگی، اور حسِ مزاح کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ وہ عہدوں کے غرور سے آزاد، القابات کی چمک سے بے نیاز، اور خدمت کی حقیقی روح سے معمور انسان ہیں۔ اُنہیں دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ بڑی شخصیات وہ نہیں ہوتیں جو بڑی کرسیاں سنبھالیں، بلکہ وہ ہوتی ہیں جو دلوں کو سنبھالیں، معاشروں کو سدھاریں، اور قوموں کو بیدار کریں۔
ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا ایک فرد نہیں، بلکہ ایک فکر، ایک فلسفہ، اور ایک روشنی کا نام ہیں۔ اُن کی خدمات صرف دفتری فائلوں یا اداروں کی رپورٹوں تک محدود نہیں، بلکہ لاکھوں دلوں، ہزاروں ذہنوں اور سینکڑوں اداروں میں اُن کے اثرات نمایاں ہیں۔ رحمٰن فاؤنڈیشن کے چیئرمین اور ڈائریکٹر صاحبان کے دلوں میں بھی آپ کا نام خوش نظری اور احترام کا سزاوار ہے وہ ان چند خوش نصیبوں میں شامل ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے عہد کو متاثر کیا، بلکہ آنے والے وقتوں کے لیے بھی روشنی کا مینار قائم کر دیا۔
قوموں کی تاریخ میں ایسے افراد نایاب ہوتے ہیں — اور جب وہ ہوتے ہیں، تو صرف اپنا فرض ہی نہیں نبھاتے، بلکہ قوم کے خواب بھی تعبیر پاتے ہیں۔ میو ہسپتال کے ایم ایس کی حیثیت سے آپ کی گراں قدر خدمات کا اعتراف اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب نے جن الفاظ میں کیا تھا وہ آپ کی فرض شناسی اور ذمہ داری کا غماز ہے ، آپ کی آج بھی فرض شناسی کی بلائیں لینے کو جی چاہتا ہے ، ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا صاحب سے مل کر دوبارہ ملنے کی تمنا دل میں کروٹیں لیتی ہے ، آزما کر دیکھ لیں ، لوگوں کے کام آنا ان کی جائز ضروریات پوری کرنا فیاض رانجھا کی فیاضی اور فراخ دلی کا پتہ چلتا ہے ، ملک میں دو تین فیاض رانجھا اور مل جائیں ملک کی تقدیر بدل جائے ، آپ تعلقاتِ عامہ کے امام اور تعلقاتِ خاصا کے مجدد ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے توسط سے بڑی بڑی عبقری اور عسکری شخصیات سے ملنے کا اتفاق ہوا اور اتفاق ہی نہیں ہوا وہ شخصیات بھی ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا ثابت ہوئیں جن میں ممتاز سیاستدان سماجی شخصیت شہزادہ عالمگیر ، ڈاکٹر غلام نبی صاحب ، میجر جنرل مسعودالرحمٰن کیانی ، گھمن صاحب اور خاص طور پر پناہ کی پوری ٹیم اللہ انہیں اپنی پناہ میں رکھے پناہ کا مجھ سے بھی بے پناہ محبت کا رشتہ پیدا ہوا ہے ۔ ممتاز کالم نگار ارشد شاھد صاحب رابطے کا بہترین ماحول پیدا کرتے ہیں اور فون پر بات ہوتی ہے۔ ارشد شاھد صاحب کی کن کن خوبیوں کا ذکر کروں وہ خوبیوں کا پیکر ہیں ۔ ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا صاحب کے بارے میں وہ عموماْ یہ شعر فرماتے ہیں ۔

رکے تو چاند چلے تو ہواؤں جیسا ھے
یہ شخص دھوپ میں چھاؤں جیسا ہے

ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا — ایک فرد نہیں، انجمن

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us