Banner

جنگی جنون عالمی مکروہ رویے اور انسانیت کی تذلیل

Share

Share This Post

or copy the link

قارئین صحافت۔انسانی تاریخ کے اوراق جنگوں کی ہولناکیوں سے بھرے پڑے ہیں جہاں فاتح اقوام نے اخلاقیات کے تمام لبادے اتار کر وہ سیاہ کارنامے انجام دیے جنہیں سن کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر جرمن خواتین کے ساتھ ہونے والا سلوک، جس کا تذکرہ مرائم گبر ہارڈ کی کتاب When the Soldiers Came میں تفصیل سے ملتا ہے، اس تلخ حقیقت کا محض ایک باب ہے۔ جنگی جنون میں مبتلا سپاہی جب کسی مفتوحہ علاقے میں داخل ہوتے ہیں تو ان کا پہلا نشانہ وہاں کی خواتین بنتی ہیں، کیونکہ جنگی حکمت عملی میں عصمت دری کو محض ایک جرم نہیں بلکہ دشمن کی انا اور وقار کو کچلنے کا ایک جنگی ہتھیار سمجھا جاتا رہا ہے۔ سوویت یونین کی سرخ فوج نے برلن میں داخل ہوتے ہی جس درندگی کا مظاہرہ کیا، اس نے انسانی حقوق کے تمام دعووں کی قلعی کھول دی، جہاں لاکھوں خواتین کو اجتماعی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور مزاحمت کرنے والوں کو گلی کوچوں میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ یہ المیہ صرف سوویت فوج تک محدود نہ تھا بلکہ امریکی، برطانوی اور فرانسیسی افواج نے بھی اپنے فاتحانہ غرور میں ہزاروں خواتین کی زندگیاں اجیرن کر دیں، جس کا ثبوت وہ ہزاروں بچے ہیں جو ان جبری تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہوئے اور جنہیں دہائیوں تک معاشرے میں نام اور شناخت کے لیے تڑپنا پڑا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی طاقت کا توازن بگڑتا ہے اور جنگی جنون عقل پر غالب آتا ہے، تو بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشنز محض کاغذ کے ٹکڑے بن کر رہ جاتے ہیں۔ روانڈا کی نسل کشی ہو یا بوسنیا کا بحران، ہر جگہ خواتین کے جسموں کو میدانِ جنگ بنا کر سیاسی و نسلی انتقام لیا گیا۔ بوسنیا کی جنگ میں ریپ کیمپس کا قیام جدید انسانی تاریخ کا وہ بدنما داغ ہے جس نے ثابت کیا کہ انسانی حقوق کے علمبردار ادارے اکثر اس وقت خاموش تماشائی بن جاتے ہیں جب خون کی پیاس بجھانے والے بااثر ممالک ہوں۔ افریقی ممالک میں جاری خانہ جنگیوں سے لے کر ایشیاء کے تنازعات تک، جنگی حالات میں خواتین کی بے حرمتی کو ایک جنگی انعام کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو فاتح فوج کے پست اخلاق کی عکاسی کرتا ہے۔ ان واقعات کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ان جرائم کے مرتکب ممالک آج عالمی اسٹیج پر بیٹھ کر خواتین کے حقوق اور انسانیت کی حرمت پر بھاشن دیتے ہیں۔ یہ منافقت اس وقت عروج پر پہنچ جاتی ہے جب ماضی کے ان مظالم کو جنگ کی ناگزیر ضرورت قرار دے کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ جنگ صرف زمینوں پر قبضے یا سیاسی غلبے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی ضمیر کی وہ شکست ہے جہاں فاتح خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے۔ جب تک عالمی برادری جنگی جرائم کی تعریف میں ان درندگیوں کو سنجیدگی سے شامل کر کے طاقتور ممالک کا احتساب نہیں کرے گی، تب تک تاریخ کے یہ خونی صفحات اسی طرح لکھے جاتے رہیں گے۔ سچ تو یہ ہے کہ جنگی جنون میں انسان اپنی انسانیت کھو کر درندہ بن جاتا ہے، اور اس درندگی کا سب سے زیادہ خمیازہ ان معصوموں کو بھگتنا پڑتا ہے جن کا سیاست یا اقتدار کی جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ کتاب When the Soldiers Came ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جمہوریت اور آزادی کے لبادے میں چھپے چہرے بھی کتنے بھیانک ہو سکتے ہیں جب انہیں بے لگام طاقت حاصل ہو جائے۔ یہ واقعات ہمیں اس کھوکھلے پن سے آگاہ کرتے ہیں جو عالمی طاقتوں کے انصاف کے دعووں میں پایا جاتا ہے، اور یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا کبھی انسانیت کو ان جنگی جنون کے علمبرداروں سے نجات مل سکے گی؟

جنگی جنون عالمی مکروہ رویے اور انسانیت کی تذلیل

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us