Banner

جنگ زدہ ماحول میں پہلا آرمی چیف

Share

Share This Post

or copy the link

تحریر و تبصرہ
ایازہاشم بھٹو

پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی جرات و بہادری کی پوری دنیا تو پہلے ہی قائل تھی، لیکن حالیہ ایران امریکہ تنازع کے دوران انہوں نے جس دور اندیشی اور مدبرانہ حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے وہ واقعی بے مثال ہے۔ عالمی تاریخ میں ایسے لمحات کم ہی آتے ہیں جب ایک ملک کا فوجی سربراہ نہ صرف اپنے ملک کے مفادات کا تحفظ کرے بلکہ عالمی امن کی بھی ضمانت بن جائے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس جنگ زدہ ماحول میں پاکستان کی سفارتی قیادت کو ایک نئی بلندی عطا کی ہے۔ فروری 2026 میں جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے شروع کیے تو پوری دنیا میں افراتفری پھیل گئی۔ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی، ہرمز کی آبنائے کی بندش، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور علاقائی ممالک پر دباؤ نے ایک بڑی عالمی جنگ کے خطرات پیدا کر دیے تھے۔ اس نازک مرحلے پر پاکستان نے غیر جانبداری کا اعلان کیا مگر اس نے سفارتی محاذ پر فعال کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مشترکہ کاوشوں نے اس تنازع کو بڑھنے سے روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان نے دونوں فریقوں کے درمیان رابطے قائم کیے، خلیجی ممالک، ترکی، چین اور دیگر دوست ممالک کو شامل کیا اور بالآخر ایک دو ہفتوں کی جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا جو اپریل کے آغاز میں نافذ ہوا۔ یہ جنگ بندی پاکستان کی سفارتی کامیابی تھی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دن رات اس عمل کی نگرانی کی۔ ان کی دور اندیشی نے نہ صرف پاکستان کو اس جنگ کے براہ راست اثرات سے بچایا بلکہ عالمی معیشت کو بھی بڑے نقصان سے محفوظ رکھا۔ آبنائے ہرمز کی کی بندش سے ایشیا اور یورپ تک تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی تھی۔ پاکستان کی کوششوں سے یہ بحران تھوڑا سا کم ہوا اور مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔ اسلام آباد میں اپریل کے پہلے ہفتے میں شروع ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور اگرچہ بے نتیجہ رہا مگر اس نے دونوں فریقوں کو ایک میز پر لانے کی بنیاد ضرور رکھی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے اس بات کو یقینی بنایا کہ سفارت کاری کا راستہ کبھی بند نہ ہو۔ گزشتہ جمعے کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا تو فوراً ہی اگلے اقدامات کیے گئے۔ وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے خلیج کے ممالک کے دورے کیے، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر دوست ممالک سے مشاورت کی تاکہ دباؤ کم کیا جا سکے اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی امیز پر لایا جا سکے۔ یہ دورے نہ صرف علاقائی تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے تھے بلکہ امریکہ اور ایران دونوں کو یہ پیغام دینے کے لیے بھی تھے کہ پاکستان امن کا راستہ تلاش کرنے میں سنجیدہ ہے۔اب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچ گئے ہیں۔ یہ دورہ اس جنگ زدہ ماحول میں کسی بھی ملک کے آرمی چیف کا ایران کا پہلا اہم دورہ ہے۔ تہران میں ان کا بھرپور استقبال کیا گیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔ گرم جوشی سے ملے اور ایرانی وزیر خارجہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایران میں خوش آمدید کہتے ہوئے خوش ہوں۔ فیلڈ مارشل نے برادر اسلامی ملک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان ہمیشہ ایران کے ساتھ کھڑا رہے گا جب تک کہ امن کا راستہ تلاش کیا جا سکے۔ یہ جرات مندانہ اقدام تھا کیونکہ اس وقت علاقہ شدید تناؤ کا شکار ہے۔ امریکی بحری ناکہ بندی، ایران کی جانب سے جواب اور علاقائی عدم استحکام کے باوجود پاکستان کا آرمی چیف تہران جا کر مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی یہ حکمت عملی صرف سفارتی نہیں بلکہ اسٹریٹجک بھی ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو ایران کے ساتھ طویل سرحد رکھتا ہے۔ کوئی بھی بڑی جنگ پاکستان کی معیشت، سلامتی اور مہاجرین کے بحران کو براہ راست متاثر کر سکتی تھی۔ انہوں نے اس خطرے کو سمجھتے ہوئے فوری اقدامات کیے۔ ان کی قیادت میں پاک فوج نے نہ صرف سرحدی سیکورٹی کو مضبوط کیا بلکہ سفارتی سطح پر بھی حکومت کے ساتھ مل کر کام کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ ان کی ہم آہنگی نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ایک نئی جہت دی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے مل کر امریکہ کی قیادت کو قائل کیا کہ جنگ بندی کی طرف بڑھا جائے اور ایران کو بھی یقین دلایا کہ اس کے تحفظات کو سنا جائے گا۔ عالمی سطح پر اب پاکستان اور اس کے سپہ سالار کا نام گونج رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کیا ہے۔ ایرانی قیادت نے بھی فیلڈ مارشل کی کاوشوں کو سراہا ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جب پاکستان، جو کبھی صرف ایک فوجی طاقت کے طور پر دیکھا جاتا تھا، اب عالمی سفارت کاری کا اہم کھلاڑی بن چکا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شخصیت میں فوجی قیادت، اسٹریٹجک سوچ اور سفارتی مہارت کا انوکھا امتزاج ہے۔ انہوں نے مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ تنازع کے دوران بھی قوم کی قیادت کی تھی جس کے بعد انہیں فیلڈ مارشل کا اعزاز دیا گیا۔ اب 2026 کے ایران امریکہ بحران میں ان کی قیادت نے اس اعزاز کو مزید عزت بخشی ہے۔ تہران کے دورے کے دوران فیلڈ مارشل نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے، ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور علاقائی استحکام کی بحالی پر بات چیت ہوئی۔ پاکستان کا پیغام واضح ہے کہ جنگ سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ امن ہی دونوں فریقوں کے لیے بہتر راستہ ہے۔ یہ دورہ صرف بات چیت تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک پیغام بھی ہے کہ پاکستان برادر اسلامی ملک ایران کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ پاکستان کی یہ سفارتی حکمت عملی کئی پہلوؤں سے اہم ہے۔ سب سے پہلے یہ پاکستان کی خودمختاری اور غیر جانبداری کو اجاگر کرتی ہے۔ دوسرا، یہ علاقائی ممالک کو یہ اعتماد دیتی ہے کہ پاکستان امن کا محافظ بن سکتا ہے۔ تیسرا، یہ عالمی طاقتوں کو بتاتی ہے کہ پاکستان کا کردار اب صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح کا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جرات اس بات میں ہے کہ انہوں نے ایک ایسے وقت میں تہران کا دورہ کیا جب بہت سے ممالک اس سے گریز کر رہے تھے۔ انہوں نے برادر ملک کو سینے سے لگانے کی جرات کی اور اسے یقین دلایا کہ پاکستان اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس پورے عمل میں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ٹیم ورک قابل تحسین ہے۔ حکومت اور فوج کے درمیان ہم آہنگی نے پاکستان کو ایک مضبوط پوزیشن دی ہے۔ اسلام آباد کے مذاکرات کے بے نتیجہ ہونے کے باوجود فوری طور پر تہران کا دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان ہار نہیں مان رہا بلکہ مزید کوششیں کر رہا ہے۔ خلیج کے دوروں نے بھی بنیاد مضبوط کی ہے۔ اب توقع کی جا رہی ہے کہ جلد ہی دوسرے دور کے مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں جن میں پاکستان دوبارہ میزبان یا سہولت کار کا کردار ادا کرے گا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔ ان کی دور اندیشی نے ایک ممکنہ عالمی جنگ کو روکا ہے جو لاکھوں جانیں لے سکتی تھی اور معیشتوں کو تباہ کر سکتی تھی۔ آج جب پوری دنیا میں پاکستان کا نام امن کے سفیر کے طور پر لیا جا رہا ہے تو یہ فخر کی بات ہے۔ فیلڈ مارشل کی بہادری میدان جنگ میں ہی نہیں بلکہ سفارتی میز پر بھی ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ حقیقی قیادت وہ ہے جو امن کی راہ ہموار کرے اور تنازعات کو بات چیت سے حل کرے۔ اس تنازع میں پاکستان کا کردار ابھی جاری ہے۔ تہران سے واپسی کے بعد بھی فیلڈ مارشل اور حکومت کی ٹیم مزید رابطوں میں مصروف رہے گی۔ امریکہ کی جانب سے بھی مثبت اشارے مل رہے ہیں کہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔ یہ سب پاکستان کی مسلسل کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شخصیت میں قوم کو ایک ایسا رہنما ملا ہے جو نہ صرف فوجی طاقت کا استعمال جانتا ہے بلکہ اسے امن کے لیے استعمال کرنے کا فن بھی جانتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے لمحات کم ہیں جب ایک فوجی سربراہ عالمی سطح پر اتنا اہم کردار ادا کرے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ کر دکھایا ہے۔ ان کی جرات، حکمت اور وفاداری نے پاکستان کو ایک نئی شناخت دی ہے۔ جنگ زدہ ماحول میں تہران کا یہ دورہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ دورہ نہ صرف ایران امریکہ تنازع کو حل کرنے کی طرف ایک قدم ہے بلکہ پاکستان کی سفارتی پختگی کا بھی ثبوت ہے۔ آئندہ دنوں میں صورتحال مزید واضح ہو گی مگر اس وقت تک یہ کہا جا سکتا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان امن کا علمبردار ہے۔ ان کی کاوشیں نہ صرف موجودہ بحران کو حل کرنے میں مددگار ہوں گی بلکہ مستقبل میں بھی پاکستان کو عالمی فورمز پر ایک معتبر آواز بنائیں گی۔ قوم ان کی قیادت پر فخر کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ یہ سفارتی سفر کامیابی سے ہمکنار ہو گا۔ امن کی راہ ہمیشہ مشکل ہوتی ہے مگر فیلڈ مارشل عاصم منیر جیسی قیادت اسے ممکن بنا سکتی ہے

جنگ زدہ ماحول میں پہلا آرمی چیف

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us