Banner

بدلتی دنیا کے معاشی حالات و واقعات

Share

Share This Post

or copy the link

موجودہ دور میں عالمی منظر نامہ ایک ایسے سنگین اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے جہاں پرانی طاقتیں اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہیں اور نئی ابھرتی ہوئی معیشتیں عالمی نظام میں اپنا حصہ مانگ رہی ہیں، بین الاقوامی سیاست اب محض بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ معاشی پابندیوں، تجارتی راہداریوں اور ٹیکنالوجی کی برتری حاصل کرنے کا ایک پیچیدہ کھیل بن چکی ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، امریکہ اور چین کے مابین بڑھتی ہوئی مسابقت نے عالمی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے خام مال کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے اور غریب ممالک کے لیے اپنی عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے ایک بار پھر عالمی طاقتوں کو امتحان میں ڈال دیا ہے جہاں انسانی حقوق کے دعوے اور تزویراتی مفادات آپس میں ٹکرا رہے ہیں، اس کشمکش نے نہ صرف تیل کی قیمتوں کو غیر مستحکم کیا ہے بلکہ بین الاقوامی بحری راستوں کی حفاظت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں جو کہ عالمی تجارت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیے جاتے ہیں، دوسری جانب وسطی ایشیاء اور جنوبی ایشیاء کے ممالک اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث بڑی طاقتوں کے لیے مرکزِ نگاہ بنے ہوئے ہیں جہاں سی پیک جیسے منصوبے خطے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر وہیں یہ منصوبے عالمی سیاست کی نذر بھی ہو رہے ہیں۔
یورپ جو کبھی استحکام کی علامت سمجھا جاتا تھا اب اپنی سرحدوں پر جاری جنگ اور توانائی کے شدید بحران کے باعث دفاعی طور پر کمزور اور معاشی طور پر بوجھ تلے دبا ہوا محسوس ہوتا ہے، نیٹو کی توسیع اور روس کا ردعمل اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ دنیا ایک بار پھر بلاکوں کی سیاست کی طرف لوٹ رہی ہے جس میں غیر جانبدار رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، موسمیاتی تبدیلیاں اب کوئی خیالی خطرہ نہیں رہیں بلکہ گلیشیئرز کا پگھلنا، بے وقت بارشیں اور شدید گرمی کی لہریں عالمی زراعت کو تباہ کر رہی ہیں جس سے مستقبل میں خوراک کا عالمی بحران پیدا ہونے کا قوی خدشہ ہے، سائبر دنیا میں بڑھتی ہوئی مداخلت اور مصنوعی ذہانت کا بے لگام استعمال جہاں ترقی کے نئے راستے کھول رہا ہے وہیں یہ انسانی رازداری اور ریاستوں کے داخلی استحکام کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن کر ابھرا ہے کیونکہ اب جنگیں میدانِ کارزار کے بجائے ڈیجیٹل سکرینوں پر لڑی جا رہی ہیں، عالمی مالیاتی ادارے جیسے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اپنے ڈھانچے میں اصلاحات لانے میں ناکام رہے ہیں جس کی وجہ سے تیسری دنیا کے ممالک قرضوں کے لامتناہی چکر میں پھنس کر اپنی خودمختاری کھو رہے ہیں، ان تمام حالات کا تقاضا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک انفرادی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک ایسے مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہوں جو انسانیت کی فلاح، انصاف کی فراہمی اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنا سکے ورنہ یہ بے سمت دوڑ ہمیں ایک ایسی تباہی کی طرف لے جائے گی جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوگی، جدید عالمی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے طاقت کے بجائے قانون کی بالادستی کو تسلیم کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلیں ایک پرامن اور خوشحال دنیا میں سانس لے سکیں۔

بدلتی دنیا کے معاشی حالات و واقعات

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us