Banner

پروفیسر ڈاکٹر شاہینہ آصف ایک کامیاب ماہر امراض نسواں

featured
Share

Share This Post

or copy the link

پروفیسر ڈاکٹر شاہینہ آصف
ایک کامیاب ماہر امراض نسواں

منشاقاضی
حسبِ منشا

ٹک نے کہا تھا جسم کے لیے ہمیں ڈاکٹر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے وہ دماغ کے لیے استاد کی دنیا میں صرف ان لوگوں کو عزت و عظمت حاصل ہوئی جنہوں نے استاد کا احترام کیا اور یہ حقیقت ہے کہ اج ہم جس ہستی کا ذکر کر رہے ہیں وہ استاد بھی ہیں اور پروفیسر ڈاکٹر بھی
پروفیسر ڈاکٹر شاھینہ آصف لاہور میں واقع سرجیمیڈ ہسپتال کی سربراہ اور معروف ماہر امراض نسواں (گائناکالوجسٹ) ہیں۔ وہ پاکستان کی اُن چند باصلاحیت خواتین ڈاکٹرز میں شامل ہیں جنہوں نے چالیس سالہ تجربے کے دوران نہ صرف ہزاروں مریضوں کا کامیاب علاج کیا بلکہ شعبہ طب میں تحقیق، تدریس اور تربیت کے میدان میں بھی نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ ان کا نام نہ صرف لاہور بلکہ پورے پاکستان میں عزت و اعتماد کے ساتھ لیا جاتا ہے، اور اُن کی طبی مہارت کو ملکی و غیر ملکی سطح پر سراہا گیا ہے۔
ڈاکٹر شاہینہ آصف نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز انتہائی لگن اور محنت سے کیا۔ اُن کی قیادت میں سرجیمیڈ ہسپتال نے جدید سہولیات، صاف ستھرا ماحول، اور مریض دوست انتظامات کے باعث نہایت جلد اعتماد حاصل کیا۔ ہسپتال میں خواتین کی مخصوص بیماریوں کے علاج کے لیے جدید ترین آلات اور طریقہ علاج استعمال کیے جاتے ہیں، جس سے ڈاکٹر شاہینہ آصف کی پیشہ ورانہ قابلیت اور اُن کی انسان دوستی جھلکتی ہے۔ وہ ہر مریض کے ساتھ انفرادی توجہ دیتی ہیں اور اپنی مشفقانہ طبیعت سے مریضوں کے دل جیت لیتی ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر شاہینہ آصف ایک محنتی معالج ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین استاد بھی ہیں۔ اُنہوں نے میڈیکل طلبہ کی تربیت میں کلیدی کردار ادا کیا اور کئی سینئر گائناکالوجسٹ اُن کی نگرانی میں تربیت حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی شخصیت علم، خدمت اور شفقت کا حسین امتزاج ہے۔ سرجیمیڈ ہسپتال کی کامیابی اُن کے وژن، اخلاص اور مسلسل محنت کا نتیجہ ہے، جو آج ایک معتبر طبی ادارے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ عربی زبان میں آفتاب مونث ہے اور ماہتاب مذکر ہے اس لیے تذکیر و تانیث کو کوئی امتیاز حاصل نہیں ہے سوائے اس کے کہ اس کا کام بولتا ہے پروفیسر ڈاکٹر شاہینہ آصف ایک مہربان ماہر امراض نسواں اور مسیحائی کی ساری اداؤں سے سرفراز ہے مولائے کریم نے آپ کو بے شمار اوصاف حمیدہ سے نوازا ہے وہ ہر محفل میں اپنی الگ پہچان اور منفرد شناخت رکھتی ہیں ان کی فکری رعنائیوں کے چراغ روشن ہیں موصوفہ کو موسیقی سے بھی گہرا لگاؤ ہے اور انہیں شاعری سے بھی محبت ہے ، اچھا شعر موصوفہ کو مہینوں ماہی بے آب کی طرح تڑپا دیتا ہے ، راقم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جب ان کے استاد گرامی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد سابق پرنسپل کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور سابق سیکرٹری ہیلتھ پنجاب چیئرمین وزیراعلی پنجاب معائنہ ٹیم کی یادوں کو قلم بند کرنے کے لیے خاکسار کو فریضہ سونپا گیا تھا تو میں نے ان کی ہونہار طالبہ محترمہ پروفیسر ڈاکٹر شاہینہ آصف کے تاثرات بھی قلم بند کیئے تھے گورنر پنجاب غلام مصطفی کھر کے تاثرات جب میں لے رہا تھا تو اس کے بعد مجھے فوری طور پر ڈاکٹر شاہینہ آصف کے سر جی میڈ ہسپتال آ کر تاثرات لئیے تھے ، ہماری امیدوں کا سب سے روشن چراغ ڈاکٹر افتخار کو موت کے ظالم ہاتھوں نے گل کر دیا۔
میں لکھ رہا تھا پھول کی پتی پر ان کا نام
کانٹے کی نوک سینہ ء گل میں اتر گئی
پروفیسر ڈاکٹر شاھینہ آصف نے ڈاکٹر افتخار احمد کے بارے میں کہا تھا کہ آج میری کامرانیوں اور کامیابیوں میں اگر میں یہ کہوں کہ افتخار صاحب کا گرانمایہ حصہ ہے تو بیجا نہ ہوگا میری دعا ہے کہ مولائے کریم ڈاکٹر افتخار صاحب کا سایہ ہمارے سروں پر ہمیشہ سلامت رکھے اس وقت وہ زندہ تھے جب انہوں نے یہ جملے کہے تھے اور آج وہ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں مولائے کریم انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے ، بات ہو رہی تھی پروفیسر ڈاکٹر شاہینہ آصف کی کہ وہ بہت ہمدرد، بہت مہربان اور بہت انسان دوست ہیں اور رواداری کی مکمل تفسیر ہیں ، میں نے انہیں معاشرے میں سماج میں توازن رکھنے والی ایک عظیم خاتون سماجی سائنسدان پایا ہے ، آپ کی شاندار خدمات کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔

پروفیسر ڈاکٹر شاہینہ آصف ایک کامیاب ماہر امراض نسواں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us