Banner

ہزار گنجی بس ٹرمینل برسوں کی قربانیاں، سرمایہ کاری اور امیدیں

featured
Share

Share This Post

or copy the link

خصوصی مضمون
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہزار گنجی بس ٹرمینل
برسوں کی قربانیاں،
سرمایہ کاری اور امیدیں ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز
ایکشن کمیٹی کی تاریخی
جدوجہد، بس ٹرمینل سے
دستبردار نہ ھونے کا عزم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔تحریر و تحقیق ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ قیوم بلوچ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہزار گنجی کی داستان محض ایک جغرافیائی تبدیلی یا شہری توسیع کا بیان نہیں بلکہ یہ ایک ایسی اجتماعی جدوجہد کی مکمل تاریخ ہے جس میں قربانی، استقامت، معاشی بصیرت، ریاستی وعدوں کی حقیقت اور عوامی طاقت کی جھلک ایک ساتھ نظر آتی ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جو کبھی ویرانی، خاموشی اور بے بسی کی علامت سمجھا جاتا تھا، جہاں نہ کوئی مستقل آبادی تھی، نہ کاروبار، نہ ہی زندگی کی کوئی نمایاں علامت۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہی مقام بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز کی انتھک محنت، قربانیوں اور عزم کے باعث ایک ایسے تجارتی اور ٹرانسپورٹ مرکز میں تبدیل ہو گیا جس نے نہ صرف ہزاروں لوگوں کو روزگار دیا بلکہ کوئٹہ شہر کے معاشی دھارے کو بھی ایک نئی سمت عطا کی۔ سنہ 2005ء وہ سال تھا جب کوئٹہ شہر کے اندر ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ، بے ہنگم بس اڈوں اور شہری مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک اہم فیصلہ کیا گیا کہ بس اڈوں کو شہر سے باہر منتقل کیا جائے۔ہزار گنجی کو اس مقصد کیلئے منتخب کیا گیا، مگر اس وقت اس علاقے کی حالت ایسی تھی کہ یہاں منتقل ہونے کا تصور بھی کسی بڑے خطرے سے کم نہیں تھا۔ یہاں نہ بنیادی سڑکیں تھیں، نہ پانی، نہ بجلی، نہ سیکیورٹی کا مناسب انتظام اور نہ ہی کوئی ایسا ماحول جو کاروبار کیلئے موزوں سمجھا جائے۔ایسے میں جب بیشتر کاروباری حلقے ہچکچاہٹ کا شکار تھے، بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز نے وہ قدم اٹھایا جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ انہوں نے نہ صرف اس فیصلے کو قبول کیا بلکہ عملی طور پر یہاں منتقل ہو کر اپنی گاڑیاں، دفاتر اور ٹرمینلز قائم کیے۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں سے ہزار گنجی کی تقدیر بدلنے کا آغاز ہوا، مگر یہ تبدیلی کسی آسان راستے سے نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے مسلسل مشکلات، مالی نقصانات، ذہنی دباؤ اور غیر یقینی حالات کا ایک طویل سلسلہ تھا۔ ابتدائی سالوں میں ٹرانسپورٹرز کو شدید مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ مسافر شہر سے دور اس مقام تک آنے سے کتراتے تھے، گاڑیاں اکثر خالی یا آدھی بھری روانہ ہوتیں، ایندھن کے اخراجات بڑھتے اور آمدن کم ہوتی۔ گرمیوں میں شدید دھوپ، سردیوں میں یخ بستہ ہوائیں، گرد و غبار اور سہولیات کی کمی نے حالات کو مزید مشکل بنا دیا۔ پانی کیلئے ٹینکرز کا سہارا لینا پڑتا، بجلی کی عدم دستیابی میں جنریٹرز چلانے پڑتے اور سڑکوں کی خراب حالت نے گاڑیوں کی مرمت کے اخراجات بڑھا دیے۔ 2006ء سے 2010ء تک کا عرصہ ایک ایسی خاموش مگر مضبوط جدوجہد کا دور تھا جس میں ٹرانسپورٹرز نے کسی سرکاری مدد کے بغیر اپنے وسائل سے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ آہستہ آہستہ چھوٹے ہوٹل، چائے خانے، مکینک شاپس، ٹائر پنکچر کی دکانیں اور دیگر ضروری سہولیات وجود میں آنے لگیں۔ یہ سب کچھ کسی منصوبہ بندی کے تحت نہیں بلکہ ضرورت کے تحت ہوا، اور یہی ضرورت بعد میں ایک منظم کاروباری ڈھانچے میں تبدیل ہو گئی۔2010ء سے 2015ء کے دوران ہزار گنجی میں ایک واضح تبدیلی نظر آنے لگی۔ مسافروں کی تعداد میں اضافہ ہوا، لوگوں کا اعتماد بحال ہونے لگا اور دیگر کاروباری طبقے بھی یہاں سرمایہ کاری کیلئے آنے لگے۔ ٹرانسپورٹرز کی موجودگی نے اس علاقے کو ایک شناخت دی اور یہی شناخت آگے چل کر ایک مکمل تجارتی مرکز کی بنیاد بنی۔ اس دوران ہزاروں افراد کو روزگار ملا، چھوٹے کاروبار پھلے پھولے اور ایک ویران خطہ ایک زندہ معاشی نظام میں تبدیل ہو گیا۔ یہاں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ٹرانسپورٹرز نے صرف اپنا کاروبار نہیں بچایا بلکہ انہوں نے ایک مکمل ماحولیاتی نظام تشکیل دیا۔ ڈرائیورز، کنڈیکٹرز، مکینکس، ہوٹل مالکان، دکاندار، مزدور، سب اسی نظام کا حصہ بن گئے۔ یوں ہزار گنجی صرف ایک بس اڈہ نہیں رہا بلکہ ایک مکمل معاشی زون بن گیا۔ جہاں روزانہ ہزاروں افراد اپنی روزی روٹی کماتے ہیں۔ سنہ 2018ء میں اس جدوجہد کو ایک نئی امید اس وقت ملی جب اس وقت کے وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ہزار گنجی میں ایک جدید بس ٹرمینل کے قیام کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کے تحت ٹرانسپورٹرز کو اراضی الاٹ کی گئی اور ” کوئٹہ کراچی بس ٹرمینل ہزار گنجی” کے نام سے ایک بڑے منصوبے کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ اعلان ٹرانسپورٹرز کیلئے ایک خواب کی تعبیر جیسا تھا۔ انہوں نے اسے اپنی برسوں کی محنت کا اعتراف سمجھا اور بھرپور اعتماد کے ساتھ اس منصوبے میں حصہ لیا۔۔ٹرانسپورٹرز نے حکومتی شرائط کے مطابق زمین کیلئے ایڈوانس ادائیگیاں کیں، اقساط جمع کروائیں اور اپنے وسائل اس امید پر لگائے کہ اب انہیں ایک جدید، منظم اور محفوظ ٹرمینل میسر آئے گا۔ کئی ٹرانسپورٹرز نے قرضے لیے، اپنی جمع پونجی نکالی اور اپنے کاروبار کو اس منصوبے کے مطابق ترتیب دینا شروع کیا۔ مگر 2019ء سے 2023ء تک کا عرصہ مایوسی اور بے یقینی کا شکار رہا۔ کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کیو ڈی اے) کی جانب سے اس منصوبے پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ کی گئی۔ نہ تعمیراتی کام شروع ہوا، نہ انفراسٹرکچر بنایا گیا اور نہ ہی کوئی واضح روڈ میپ دیا گیا۔ ٹرانسپورٹرز مسلسل انتظار کرتے رہے، حکام کے دفاتر کے چکر لگاتے رہے۔ درخواستیں دیتے رہے مگر انہیں صرف یقین دہانیاں ہی ملتی رہیں۔ یہ صورتحال صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک ایسے طبقے کے ساتھ ناانصافی تھی جس نے اپنی محنت اور سرمایہ اس منصوبے میں لگایا تھا۔ ان کی جمع پونجی ایک غیر یقینی صورتحال میں پھنسی رہی، ان کا اعتماد متزلزل ہوا اور ان کے مستقبل کے منصوبے متاثر ہوئے۔ 2025ء میں جب اچانک کیو ڈی اے کی جانب سے اسی زمین کی نیلامی کے اعلانات سامنے آئے تو یہ خبر ٹرانسپورٹرز کیلئے ایک شدید صدمے کا باعث بنی۔ وہ زمین جس کیلئے وہ پہلے ہی ادائیگیاں کر چکے تھے، اسے دوبارہ نیلام کرنے کا فیصلہ نہ صرف غیر متوقع تھا بلکہ اسے کھلی ناانصافی اور مبینہ بدعنوانی کے طور پر دیکھا گیا۔ اس اقدام نے نہ صرف ٹرانسپورٹرز بلکہ عام عوام میں بھی تشویش پیدا کی اور حکومتی اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔
اسی موقع پر آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی ایک مضبوط، منظم اور باہمت پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آئی۔ اس کمیٹی نے نہ صرف فوری ردعمل دیا بلکہ ٹرانسپورٹرز کو ایک آواز میں متحد کیا۔ کمیٹی کی قیادت نے نہایت دانشمندی اور جرات کے ساتھ اس مسئلے کو اجاگر کیا، میڈیا کے ذریعے آواز بلند کی، احتجاجی حکمت عملی ترتیب دی اور حکام سے براہ راست مذاکرات کیے۔ ایک نمائندہ وفد نے کیو ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات کی، تمام دستاویزات پیش کیں، ادائیگیوں کا ریکارڈ دکھایا اور اپنے مؤقف کو واضح انداز میں بیان کیا، مگر اس کے باوجود کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔ اس صورتحال نے ٹرانسپورٹرز کے خدشات کو مزید بڑھا دیا اور انہیں اپنے حقوق کیلئے مزید مضبوط موقف اختیار کرنے پر مجبور کیا۔آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی کی جدوجہد محض ایک احتجاجی تحریک نہیں بلکہ یہ ایک منظم، شعوری اور اصولی جدوجہد ہے جس کا مقصد انصاف کا حصول ہے۔ کمیٹی نے واضح اعلان کیا ہے کہ اگر اس ناانصافی کا فوری ازالہ نہ کیا گیا تو وہ ہر ممکن احتجاجی راستہ اختیار کریں گے، دھرنے دیں گے، سڑکیں بند کریں گے اور عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے۔ یہ جدوجہد اس بات کی علامت ہے کہ اب ٹرانسپورٹرز اپنے حقوق کیلئے مکمل طور پر بیدار ہو چکے ہیں اور وہ کسی بھی دباؤ یا دھونس کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔ ان کا اتحاد اور عزم اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔اگر اس مسئلے کا وسیع تناظر میں جائزہ لیا جائے تو یہ صرف ایک ٹرمینل یا زمین کا معاملہ نہیں بلکہ یہ حکومتی وعدوں کی پاسداری، ادارہ جاتی شفافیت اور عوامی اعتماد کا مسئلہ ہے۔اگر ایسے معاملات میں انصاف نہ کیا جائے تو اس کے اثرات صرف ایک طبقے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے میں مایوسی اور بداعتمادی کو جنم دیتے ہیں۔ ہزار گنجی کی ترقی کا اگر غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس علاقے کی بنیاد ٹرانسپورٹرز کی قربانیوں پر رکھی گئی ہے۔انہوں نے ایک ویران زمین کو آباد کیا، ایک غیر یقینی ماحول کو کاروباری مرکز میں تبدیل کیا اور ایک خواب کو حقیقت بنایا۔ ایسے میں ان کے ساتھ ناانصافی نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ یہ معاشی ترقی کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لے، ٹرانسپورٹرز کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو پورا کرے، اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرائے اور کوئٹہ کراچی بس ٹرمینل کے منصوبے کو عملی شکل دے۔ یہ نہ صرف ٹرانسپورٹرز کا حق ہے بلکہ عوامی مفاد کا بھی تقاضا ہے۔یہ کہنا بجا ہوگا کہ آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی کی جدوجہد ایک روشن مثال ہے۔ ان کی استقامت، اتحاد اور جرات اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عوام متحد ہوں تو وہ کسی بھی ناانصافی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ یہ جدوجہد جلد کامیاب ہوگی، انصاف کا بول بالا ہوگا اور ہزار گنجی کی ترقی کا یہ سفر مزید مضبوط بنیادوں پر جاری رہے گا، جہاں ٹرانسپورٹرز کو ان کا جائز حق ملے گا اور ان کی قربانیوں کا وہ اعتراف کیا جائے گا جس کے وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہیں، کیونکہ یہی وہ طبقہ ہے جس نے نہ صرف ایک علاقے کو آباد کیا بلکہ ایک پوری معاشی کہانی کو جنم دیا، اور آج بھی وہی طبقہ اپنے حق کیلئے سینہ سپر کھڑا ہے، تاریخ لکھ رہا ہے اور انصاف کے حصول کیلئے ایک نئی مثال قائم کر رہا ہے۔

ہزار گنجی بس ٹرمینل برسوں کی قربانیاں، سرمایہ کاری اور امیدیں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us