Banner
Daily Sahafat Quetta
November 6, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذکا علم نہیں، یہ اسلام آباد کے صاحب اختیار لوگوں کے ہاتھ میں ہے، گورنر بلوچستانکوئٹہ: سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر پر دھاوا اور اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے کی مذمت، حکومت اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہے، مولانا عبدالرحمن رفیققلعہ سیف اللہ: مولانا فضل الرحمان کے گھر کی غیر قانونی ویڈیو بنانے کے خلاف جمیعت علماء اسلام کا شدید احتجاج، مذمتی مظاہرہایران سے ایل پی جی کی ترسیل بحال نہ ہوئی تو فی کلو ایک ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے، کاشف حیدریقلات سنگداس چیک پوسٹ عذاب بن چکا ہے، سید صادق آغامہنگے پٹرول نے عوام کو عذاب میں مبتلا کردیا ہے،سید امان شاہنصیر آباد: جمعیت علمائے پاکستان امام نورانی کے صوبائی انتخابات مکمل، مفتی محمد جان قاسمی صدر منتخبشہری ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے شھر میں پولیس گردی کے خلاف احتجاجی ریلیایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر گڑھی کپورہ مس فریال شعیب نے آج رورل ہیلتھ سینٹر گمبت کا دورہ کیاکراچی میں غیبیزئی قوم کا تاریخی جرگہ، احمد خان اچکزئی کا اتحاد و اتفاق کا پیغامبلوچستان میں گورنر راج کے نفاذکا علم نہیں، یہ اسلام آباد کے صاحب اختیار لوگوں کے ہاتھ میں ہے، گورنر بلوچستانکوئٹہ: سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر پر دھاوا اور اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے کی مذمت، حکومت اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہے، مولانا عبدالرحمن رفیققلعہ سیف اللہ: مولانا فضل الرحمان کے گھر کی غیر قانونی ویڈیو بنانے کے خلاف جمیعت علماء اسلام کا شدید احتجاج، مذمتی مظاہرہایران سے ایل پی جی کی ترسیل بحال نہ ہوئی تو فی کلو ایک ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے، کاشف حیدریقلات سنگداس چیک پوسٹ عذاب بن چکا ہے، سید صادق آغامہنگے پٹرول نے عوام کو عذاب میں مبتلا کردیا ہے،سید امان شاہنصیر آباد: جمعیت علمائے پاکستان امام نورانی کے صوبائی انتخابات مکمل، مفتی محمد جان قاسمی صدر منتخبشہری ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے شھر میں پولیس گردی کے خلاف احتجاجی ریلیایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر گڑھی کپورہ مس فریال شعیب نے آج رورل ہیلتھ سینٹر گمبت کا دورہ کیاکراچی میں غیبیزئی قوم کا تاریخی جرگہ، احمد خان اچکزئی کا اتحاد و اتفاق کا پیغام

عالمی جنگی بحران تباہی اور امن کی راہ

صحافت منظرنامہ

عالمی جنگی بحران تباہی اور امن کی راہ

قارئین صحافت ۔ عالمی منظر نامے پر نظر دوڑائی جائے تو موجودہ جنگی صورت حال انسانیت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے جہاں طاقت کا توازن بگڑنے اور جیو پولیٹیکل مفادات کے ٹکراؤ نے دنیا کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے موجودہ دور میں مشرق وسطیٰ سے لے کر یوکرین تک پھیلی ہوئی جنگیں محض دو ممالک کا تنازع نہیں رہیں بلکہ یہ عالمی معیشت اور انسانی حقوق کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہیں ان جنگوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے تو لاکھوں معصوم جانوں کا ضیاع اور اربوں ڈالر کی املاک کی تباہی محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ٹوٹتے ہوئے خاندانوں اور برباد ہوتے ہوئے مستقبل کی داستانیں ہیں جدید ہتھیاروں اور ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال نے جنگ کی ہولناکی کو مزید بڑھا دیا ہے جس سے نہ صرف انسانی بستیاں اجڑ رہی ہیں بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے معاشی لحاظ سے دیکھا جائے تو سپلائی چین کی معطلی نے عالمی سطح پر مہنگائی اور خوراک کی قلت پیدا کر دی ہے جس کا خمیازہ غریب ممالک کے عوام بھگت رہے ہیں توانائی کے بحران نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے ان مسائل کے حل کی تلاش آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے جس کے لیے عالمی طاقتوں کو اپنی انا پسندی چھوڑ کر مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا اقوام متحدہ جیسے اداروں کو مزید بااختیار بنانا ضروری ہے تاکہ وہ محض قراردادیں پاس کرنے کے بجائے عملی طور پر جنگ بندی کرانے کی صلاحیت رکھتے ہوں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تنازعات کی بنیادی وجوہات کو سمجھا جائے اور انصاف کے اصولوں پر مبنی حل تلاش کیا جائے ورنہ جنگوں کا یہ تسلسل پوری انسانی تہذیب کو نگل سکتا ہے بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ ہتھیاروں کی دوڑ روکنے کے لیے سخت قوانین وضع کرے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان علاقوں کی بحالی کے لیے کام کرے جو جنگ کی آگ میں جھلس چکے ہیں تعلیم اور شعور کی ترویج کے ذریعے نئی نسل کو امن کی اہمیت سے روشناس کرانا ہوگا تاکہ مستقبل میں طاقت کے بجائے دلیل اور مکالمے کو ترجیح دی جائے موجودہ بحران کا واحد حل عالمی یکجہتی اور ایک دوسرے کے جغرافیائی حدود کے احترام میں پنہاں ہے کیونکہ تباہی کے اس راستے پر چل کر کوئی بھی فاتح نہیں کہلائے گا بلکہ انسانیت کی شکست ہوگی دنیا کو اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جنگیں کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتیں بلکہ یہ نئے اور زیادہ پیچیدہ مسائل کو جنم دیتی ہیں لہذا عالمی رہنماؤں کو تاریخ سے سبق سیکھتے ہوئے امن و آشتی کے نئے باب کا آغاز کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلیں ایک محفوظ اور خوشحال دنیا میں سانس لے سکیں معاشی مفادات پر انسانی جان کو ترجیح دینا ہی وہ پہلا قدم ہوگا جو ہمیں اس خونی دلدل سے نکال سکتا ہے اور ایک پرامن عالمی نظم و ضبط کی بنیاد رکھ سکتا ہے جس میں ہر ریاست کو ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں اور خوف و ہراس کا سایہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *