Banner

اسلحے کی آزادی یا امن کی بربادی؟

featured
Share

Share This Post

or copy the link

محمد عبیدالله میرانی
صدر کورنگی پریس کلب کراچی

یہ ملک اب قانون سے نہیں بلکہ بندوق سے چلنے لگا ہے جہاں طاقت کا مطلب اسلحہ اور انصاف کا مطلب فائرنگ بن چکا ہے کراچی جیسے شہر میں آدمی پہلے روزگار کے لیے نکلتا تھا اب اپنی زندگی کی شرط پر نکلتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ واپسی کی کوئی ضمانت نہیں ڈکیتیاں اب خبر نہیں رہیں بلکہ روز کا معمول بن چکی ہیں موٹر سائیکل سوار مسلح افراد آتے ہیں لوٹتے ہیں اور مزاحمت پر گولی مار کر چلے جاتے ہیں اور چند لمحوں بعد یہ واقعہ خبر میں صرف ایک عدد بن کر رہ جاتا ہے جیسے کوئی انسان نہیں بلکہ کوئی فائل بند ہوئی ہو ایک کرائم رپورٹر کی حیثیت سے جب روز لاشیں دیکھی جائیں جب خون سے بھری سڑکیں دیکھی جائیں اور جب گھروں سے نکلتی چیخیں سنی جائیں تو یہ سمجھنا مشکل نہیں رہتا کہ مسئلہ صرف جرائم پیشہ افراد کا نہیں بلکہ پورے نظام کی کمزوری کا ہے اور اس کمزوری کی جڑ اسلحے کی آزاد دستیابی ہے ماضی میں آرمی پبلک اسکول حملہ جیسا سانحہ اور کوئٹہ کے دھماکے بھی ہمیں نہیں بدل سکے ہم چند دن بیانات دیتے ہیں کمیٹیاں بناتے ہیں اور پھر سب کچھ بھلا کر آگے بڑھ جاتے ہیں جیسے اس ملک میں یادداشت بھی عارضی ہو اب تو حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ اسلحہ صرف جرم کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ طاقت کی نمائش بن چکا ہے شادی ہو یا سیاسی جلسہ وہاں فائرنگ کو خوشی سمجھا جاتا ہے جیسے ترقی کا اعلان ہو رہا ہو اور طنز یہ ہے کہ یہی لوگ پھر امن کی باتیں بھی کرتے ہیں جیسے الفاظ سے گولیاں روکی جا سکتی ہوں اس سے بھی زیادہ دلچسپ نظام لائسنس کا ہے جہاں اسلحہ لائسنس اب قانون سے زیادہ سفارش اور پیسے کا محتاج ہو چکا ہے لگتا ہے شناختی کارڈ کے بعد سب سے آسان چیز اسلحہ لائسنس بن چکا ہے تھوڑا اثر و رسوخ اور تھوڑا خرچ اور کام ہو گیا پھر جب کوئی واقعہ ہوتا ہے تو یہی نظام حیران ہو کر پوچھتا ہے کہ آخر یہ ہوا کیسے یہاں سیاسی مداخلت نے اس سارے کھیل کو کھلا چھوڑ دیا ہے جہاں بااثر لوگ نہ صرف لائسنس حاصل کرتے ہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں کارروائیاں بھی منتخب انداز میں ہوتی ہیں نتیجہ یہ کہ چھوٹے لوگ پکڑے جاتے ہیں اور بڑے ہاتھ بچ جاتے ہیں اور پھر ہم فخر سے کہتے ہیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہے جو اب ایک مذاق لگنے لگا ہے اسی سلسلے کی ایک کڑی حیدرآباد کے نسیم نگر میں سامنے آئی جہاں کراچی سے ٹنڈو الہ یار جانے والی اسلحے کی بڑی کھیپ پکڑی گئی جو ایک اچھی کارروائی ہے مگر اس کے ساتھ ایک اور اہم پیش رفت بھی سامنے آئی جہاں Pakistan Rangers نے ایف سی ایریا میں کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے ایک دہشتگرد کو گرفتار کیا جس کے قبضے سے بارودی مواد اور غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد ہوا جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف اسٹریٹ کرائم تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے بڑے خطرناک نیٹ ورکس موجود ہیں یہاں یہ ماننا بھی ضروری ہے کہ رینجرز اور دیگر اداروں نے خاص طور پر کراچی میں کئی کامیاب کارروائیوں کے ذریعے جرائم پیشہ اور دہشتگرد نیٹ ورکس کو توڑا ہے اور شہر میں امن بحال کرنے کی سنجیدہ کوشش کی ہے جو قابل تعریف ہے مگر سوال اب بھی باقی ہے کہ جب کارروائیاں ہو سکتی ہیں تو مکمل کنٹرول کیوں نہیں ہو رہا اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ صرف جرم نہیں بلکہ ایک مکمل نظام بن چکا ہے جس میں سیاست پیسہ اثر و رسوخ اور خاموشی سب شامل ہیں اور جب تک اس گٹھ جوڑ کو نہیں توڑا جائے گا ہر کارروائی صرف ایک خبر رہے گی حل نہیں بنے گی دیہات سے شہروں تک ذاتی دشمنیوں میں ہونے والے قتل بھی اسی اسلحے کی آسان دستیابی کا نتیجہ ہیں جہاں معمولی تنازع بھی خونریز تصادم میں بدل جاتا ہے معاشرہ خوف کا شکار ہے لوگ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں اور اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے اگر آج بھی سنجیدگی نہ دکھائی گئی تو کل ہر ہاتھ میں اسلحہ ہوگا اور ہر شخص خود کو قانون سمجھے گا اور جب ہر شخص خود کو قانون سمجھنے لگے گا تو نہ آئین باقی رہے گا نہ عدالتیں صرف ٹرگر کے فیصلے ہوں گے اور ان فیصلوں میں نہ دلیل ہوگی نہ انصاف صرف طاقت ہوگی اور طاقت ہمیشہ کمزور کو ہی نگلتی ہے اور اس دن شاید ہمیں یہ احساس ہوگا کہ اسلحہ صرف ہاتھوں میں نہیں بلکہ نظام کے اندر بھی موجود تھا اور جب نظام ہی اسلحہ بن جائے تو امن صرف کتابوں میں رہ جاتا ہے

اسلحے کی آزادی یا امن کی بربادی؟

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us