Banner

توبہ اچکزئی کے محروم عوام اور پہاڑوں کے درمیان سسکتی انسانیت

featured
Share

Share This Post

or copy the link

تحریر ،اے کے میڈیاء ٹیم

توبہ اچکزئی کے محروم عوام اور پہاڑوں کے درمیان سسکتی انسانیت

شاہراہِ مرگ یا سڑک؟ توبہ اچکزئی کی پسماندگی کا المناک المیہ

پامال امیدیں اور جڑے ہوئے کھیت توبہ اچکزئی کے عوام کا ریاست سے سوال

قارئین کرام! بلوچستان کے سرحدی اضلاع قلعہ عبداللہ اور ضلع چمن کے درمیان واقع بلند پہاڑوں کا وہ سلسلہ جسے “توبہ اچکزئی” کہا جاتا ہے، آج اپنی جغرافیائی اہمیت کے باوجود ریاست کی بے حسی اور حکمرانوں کی تغافل شعاری کا ایک ایسا زندہ ماتم کدہ بن چکا ہے جہاں زندگی کی بنیادی سہولیات کا تصور بھی کسی خواب سے کم نہیں ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک اس خطے کی قسمت میں اگر کچھ لکھا گیا ہے تو وہ صرف طویل وعریض پہاڑی راستے، پسماندگی کی گہری دھند اور مسلسل نظر انداز کیے جانے کا وہ کرب ہے جو یہاں کے باسیوں کی رگ رگ میں رچ بس گیا ہے۔ اس علاقے کی سڑکیں جو کبھی اس کی ترقی کا زینہ بن سکتی تھیں، آج اپنی خستہ حالی اور ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے مقتل گاہوں کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ آزادی کے آٹھ عشرے گزر جانے کے باوجود یہاں کی مرکزی اور رابطہ سڑکوں کی مرمت کا نہ ہونا ان ایم پی اے، ایم این اے اور سینیٹرز کے منہ پر ایک زوردار تمانچہ ہے جو انتخابی مہم کے دوران تو ان دشوار گزار راستوں کو عبور کر کے یہاں پہنچ جاتے ہیں لیکن اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہی توبہ اچکزئی کی چیخیں ان کے کانوں تک نہیں پہنچ پاتیں۔ یہاں کی سڑکیں سڑکیں نہیں بلکہ موت کے جال ہیں، جہاں ایمرجنسی کی صورت میں کسی مریض کو ہسپتال منتقل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ کتنے ہی بوڑھے، بچے اور حاملہ خواتین ان ہی سڑکوں پر ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکی ہیں، اور کتنی ہی گاڑیاں ان ناہموار راستوں کی نذر ہو کر انسانی جانوں کے زیاں کا سبب بنی ہیں۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ توبہ اچکزئی کا مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی اپنی آدھی زندگی ان ہچکولوں میں گنوا دیتا ہے۔تعلیم اور صحت کے شعبوں میں یہ علاقہ دورِ جاہلیت کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ جہاں دنیا ڈیجیٹل انقلاب کی باتیں کر رہی ہے، وہاں توبہ اچکزئی کے بچے آج بھی کھلے آسمان تلے قلم و قرطاس سے محروم اپنے مستقبل کی بربادی کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ صحت کی سہولیات کا عالم یہ ہے کہ معمولی زخمی یا بیمار کے لیے بھی میلوں کا سفر طے کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث یہاں اموات کی شرح دیگر علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ حالیہ غیر معمولی بارشوں اور تباہ کن سیلابوں نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ زمینداروں کی ہری بھری کھیتیاں، جو ان کے روزگار کا واحد ذریعہ تھیں، سیلابی ریلوں کی نذر ہو کر مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ کسان اور مالدار طبقہ جو پہلے ہی کسمپرسی کی زندگی گزار رہا تھا، اب مکمل طور پر فاقہ کشی پر مجبور ہو چکا ہے، مگر مجال ہے کہ کسی سرکاری کارندے یا منتخب نمائندے نے ان کی اشک شوئی کے لیے اس سنگلاخ زمین پر قدم رکھنے کی زحمت کی ہو۔ یہ محض ایک علاقہ نہیں بلکہ سسکتی ہوئی انسانیت کی پکار ہے جو وقت کے فرعونوں سے اپنا حق مانگ رہی ہے۔اے کے میڈیاء ٹیم اس تحریر کے ذریعے وقت کے ذمہ دار حکمرانوں، وزیرِ اعلیٰ، گورنر بلوچستان اور بالخصوص اس حلقے سے منتخب ہونے والے اراکینِ اسمبلی اور سینیٹرز سے یہ دردمندانہ لیکن دو ٹوک اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی مصلحتوں کی چادر اتار پھینکیں اور توبہ اچکزئی کے ان دور افتادہ پہاڑوں کا دورہ کریں۔ آئیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ کس طرح آپ کے ووٹر اور اس مٹی کے جفاکش لوگ زندگی کی بنیادی ترین ضرورتوں یعنی پینے کے صاف پانی، بجلی، تعلیم، صحت اور سڑکوں سے محروم ہیں۔ آپ کے لیے یہ صرف ایک جغرافیائی خطہ ہوگا، مگر یہاں بسنے والے ہزاروں خاندانوں کے لیے یہ ان کی کل کائنات ہے جو اب اجڑتی جا رہی ہے۔ کیا آپ کا ضمیر آپ کو ملامت نہیں کرتا کہ جب آپ کی گاڑیاں شہر کی پختہ سڑکوں پر دوڑتی ہیں، تو توبہ اچکزئی کا کوئی باپ اپنے بیمار بچے کو کندھے پر اٹھا کر میلوں پیدل چلنے پر مجبور ہوتا ہے؟ کیا آپ کو ان بیواؤں اور یتیموں کا خوف نہیں جن کے پیارے صرف اس لیے مر گئے کہ سڑک ٹھیک نہیں تھی یا ایمبولینس نہیں پہنچ سکی؟ یہ اپیل محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ اس لہو کی پکار ہے جو اس مٹی میں ناحق بہا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر توبہ اچکزئی کے لیے ایک خصوصی پیکج کا اعلان کیا جائے، سڑکوں کی مرمت اور نئی سڑکوں کی تعمیر کو ترجیح دی جائے، اور تباہ حال زمینداروں کی مالی معاونت کی جائے تاکہ اس پسماندہ علاقے کے مکین بھی خود کو اس ریاست کا شہری محسوس کر سکیں۔ یاد رکھیں، تاریخ کبھی کسی کو معاف نہیں کرتی اور اگر آج آپ نے ا…

توبہ اچکزئی کے محروم عوام اور پہاڑوں کے درمیان سسکتی انسانیت

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us