Banner
Daily Sahafat Quetta
November 6, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ: سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر پر دھاوا اور اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے کی مذمت، حکومت اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہے، مولانا عبدالرحمن رفیققلعہ سیف اللہ: مولانا فضل الرحمان کے گھر کی غیر قانونی ویڈیو بنانے کے خلاف جمیعت علماء اسلام کا شدید احتجاج، مذمتی مظاہرہایران سے ایل پی جی کی ترسیل بحال نہ ہوئی تو فی کلو ایک ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے، کاشف حیدریقلات سنگداس چیک پوسٹ عذاب بن چکا ہے، سید صادق آغامہنگے پٹرول نے عوام کو عذاب میں مبتلا کردیا ہے،سید امان شاہنصیر آباد: جمعیت علمائے پاکستان امام نورانی کے صوبائی انتخابات مکمل، مفتی محمد جان قاسمی صدر منتخبشہری ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے شھر میں پولیس گردی کے خلاف احتجاجی ریلیایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر گڑھی کپورہ مس فریال شعیب نے آج رورل ہیلتھ سینٹر گمبت کا دورہ کیاکراچی میں غیبیزئی قوم کا تاریخی جرگہ، احمد خان اچکزئی کا اتحاد و اتفاق کا پیغامروہڑی میں نادرا دفتر کے لیے نئی جگہ مختص، شہریوں کو شناختی کارڈ اور دیگر سہولیات کے حصول میں آسانی ہوگیکوئٹہ: سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر پر دھاوا اور اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے کی مذمت، حکومت اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہے، مولانا عبدالرحمن رفیققلعہ سیف اللہ: مولانا فضل الرحمان کے گھر کی غیر قانونی ویڈیو بنانے کے خلاف جمیعت علماء اسلام کا شدید احتجاج، مذمتی مظاہرہایران سے ایل پی جی کی ترسیل بحال نہ ہوئی تو فی کلو ایک ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے، کاشف حیدریقلات سنگداس چیک پوسٹ عذاب بن چکا ہے، سید صادق آغامہنگے پٹرول نے عوام کو عذاب میں مبتلا کردیا ہے،سید امان شاہنصیر آباد: جمعیت علمائے پاکستان امام نورانی کے صوبائی انتخابات مکمل، مفتی محمد جان قاسمی صدر منتخبشہری ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے شھر میں پولیس گردی کے خلاف احتجاجی ریلیایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر گڑھی کپورہ مس فریال شعیب نے آج رورل ہیلتھ سینٹر گمبت کا دورہ کیاکراچی میں غیبیزئی قوم کا تاریخی جرگہ، احمد خان اچکزئی کا اتحاد و اتفاق کا پیغامروہڑی میں نادرا دفتر کے لیے نئی جگہ مختص، شہریوں کو شناختی کارڈ اور دیگر سہولیات کے حصول میں آسانی ہوگی

حکم خامشی اور سلگتی زندگی

حکم خامشی اور سلگتی زندگی
آصفہ ہاشمی ۔پیرس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سربراہی، خاموشی اور رشتوں کا بدلتا ہوا المیہ
اختیار نہیں، ذمہ داری ہی رشتے کو معتبر بناتی ہے

ہمارے معاشرے میں ازدواجی رشتوں کے اندر ایک خاموش مگر نہایت خطرناک تبدیلی جنم لے رہی ہے۔ بظاہر سب کچھ قائم دکھائی دیتا ہے؛ نکاح کا نام موجود ہے، سماجی حیثیت برقرار ہے، خاندان جڑا ہوا نظر آتا ہے، مگر حقیقت میں ان رشتوں کی روح آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر شوہر اور بیوی کے تعلق میں ایک ایسا رویہ عام ہو چکا ہے جہاں شوہر ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرتا ہے مگر اختیار اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے۔

سربراہی کا تصور ہمیشہ ذمہ داری، تحفظ، جوابدہی اور قربانی کے ساتھ جڑا رہا ہے۔ مرد کو جو فضیلت دی گئی، اس کی بنیاد یہی تھی کہ وہ گھر کا بوجھ اٹھائے، بیوی اور بچوں کے لیے تحفظ کا احساس بنے، اور اس رشتے کے سکون کو اپنی ترجیح بنائے۔ مگر جب یہی مرد نہ مالی ذمہ داری اٹھائے، نہ جذباتی موجودگی دکھائے، نہ مہینوں اپنی بیوی کی خیریت پوچھے، اور پھر بھی اپنی بات کو آخری فیصلہ سمجھنے کا تقاضا کرے، تو یہ سربراہی نہیں بلکہ محض اختیار کی خواہش رہ جاتی ہے۔

آج کے بہت سے رشتوں میں ایک اور تکلیف دہ پہلو بھی سامنے آ رہا ہے۔ جب بیوی اپنے شوہر سے وقت، توجہ، بدلتے ہوئے رویّے یا بے وفائی کے خدشات پر سوال کرتی ہے تو اسے فوراً یہ سنایا جاتا ہے: “ایسی باتیں کرو گی تو رشتہ خراب ہو جائے گا… میں تم سے دور ہو جاؤں گا۔”
یہ الفاظ بظاہر نرمی میں لپٹے ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ عورت کی آواز کو خاموش کرنے کی ایک نفسیاتی حکمتِ عملی بن جاتے ہیں۔ یوں عورت اپنے ہی رشتے میں سوال کرنے سے ڈرنے لگتی ہے، اپنے احساسات چھپانے لگتی ہے، اور خاموشی کو رشتہ بچانے کی قیمت سمجھنے لگتی ہے۔

لیکن سب سے بنیادی سوال وہ ہے جو آج بے شمار عورتوں کے دل میں شدت سے اٹھتا ہے: اگر ایک مرد کی دلچسپی اپنی بیوی اور گھر سے زیادہ باہر دوسری عورتوں میں ہے، تو پھر وہ شادی کیوں کرتا ہے؟
کیوں کسی کی زندگی کو ایک ایسے رشتے میں باندھ دیا جاتا ہے جہاں نہ توجہ ہو، نہ وفا، نہ وقت، اور نہ ہی سچائی؟
کیوں ایک عورت کو پابندی، وفاداری اور قربانی کے دائرے میں رکھا جاتا ہے، مگر مرد خود اسی رشتے کی حرمت سے آزاد رہنا چاہتا ہے؟

شادی کسی انسان کو محض اپنے نام سے باندھ لینے کا ذریعہ نہیں، بلکہ دو زندگیاں سنوارنے، اعتماد دینے اور ایک دوسرے کے لیے سکون بننے کا عہد ہے۔ اگر کوئی مرد اس عہد کی سچائی، ذمہ داری اور وفاداری نبھانے کے لیے تیار نہیں، تو اسے کسی دوسرے انسان کی زندگی کو ادھورا، بے سکون اور سوالوں سے بھرا چھوڑنے کا حق بھی نہیں ہونا چاہیے۔

رشتے سوال کرنے سے خراب نہیں ہوتے؛ رشتے اس وقت ٹوٹتے ہیں جب ایک فریق جوابدہی سے فرار اختیار کر لیتا ہے۔ سوال دراصل تعلق کو بچانے کی کوشش ہوتے ہیں، جبکہ خاموشی اکثر اندر ہی اندر تعلق کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سربراہی کے تصور کو محض اختیار سے نکال کر ذمہ داری، شراکت، احترام اور وفاداری کے تناظر میں دوبارہ سمجھا جائے۔ رشتہ وہاں مضبوط ہوتا ہے جہاں سوال کی گنجائش ہو، جواب میں نرمی ہو، اور دونوں طرف سے احساسِ ذمہ داری موجود ہو۔

آخر میں بات صرف اتنی سی ہے:
جو شخص ایک رشتے کا بوجھ، اس کے سوال، اس کی وفا اور اس کی حرمت نہیں اٹھا سکتا، اسے کسی کی زندگی پر اختیار جتانے کا حق بھی نہیں ہونا چاہیے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *