Banner

امریکی عالمی تسلط کی کہانی

featured
Share

Share This Post

or copy the link

محمدنسیم رنزوریار

امریکی عالمی تسلط کی کہانی

قارئین کرام ۔ یہ کہانی محض جمہوری اقدار کی ترویج نہیں، بلکہ اس کے پیچھے گرینڈ ایریاء (Grand Area) نامی وہ خفیہ زمینی حقائق کی منصوبہ ہے جس کی جڑیں دوسری جنگ عظیم کے بعد کونسل آن فارن ریلیشنز کی پالیسیوں میں پیوست ہیں۔ امریکہ نے مسلم ممالک میں مداخلت اور وہاں جدید مہلک ہتھیاروں کا استعمال محض دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نہیں، بلکہ عالمی توانائی کی گزرگاہوں پر قبضے اور ڈالر کی بالادستی (Petrodollar Hegemony) کو برقرار رکھنے کے لیے کیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی مسلم ریاست نے اپنی معیشت کو ڈالر کے شکنجے سے نکالنے یا اپنے قدرتی وسائل پر مکمل خود مختاری حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی یا خطرناک ہتھیاروں کا لیبل لگا کر امریکی جنگی مشینری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ عراق پر حملہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے، جہاں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا جھوٹا بیانیہ گھڑ کر ایک مستحکم ریاست کو کھنڈر بنا دیا گیا۔ امریکی جنگی پالیسی کا ایک اہم ستون فوجی صنعتی کمپلیکس (Military-Industrial Complex) ہے، جس کا پیٹ بھرنے کے لیے واشنگٹن کو مستقل بنیادوں پر جنگی تھیٹر درکار ہوتے ہیں۔ افغانستان اور مشرق وسطیٰ میں کلسٹر بموں، ڈرون حملوں اور وائٹ فاسفورس جیسے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہ صرف فوجی اہداف کے لیے تھا بلکہ یہ ہتھیار ساز کمپنیوں کے لیے ایک لیبارٹری کا درجہ رکھتا تھا جہاں وہ انسانی جانوں کی قیمت پر اپنے جدید اسلحے کی جانچ کرتی رہیں۔ مسلم ممالک کا جغرافیائی وقوع، جو کہ تین براعظموں کو جوڑتا ہے اور جہاں دنیا کے 60 فیصد سے زائد تیل و گیس کے ذخائر موجود ہیں، امریکی استعمار کا اصل ہدف ہے۔ امریکہ کی پالیسی ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو پر مبنی ہے، جس کے تحت وہ فرقہ واریت اور داخلی انتشار کو ہوا دے کر ریاستوں کو کمزور کرتا ہے تاکہ وہاں موجود وسائل پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کا کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔ انسانیت کے خلاف ان جرائم کی پشت پناہی کے لیے میڈیاء پروپیگنڈے کا سہارا لیا جاتا ہے تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جا سکے کہ یہ وحشیانہ بمباری تہذیبوں کے تصادم میں ناگزیر ہے۔ حقیقت میں، واشنگٹن کا ہدف مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی برتری کو یقینی بنانا اور کسی بھی ایسی اسلامی بلاک یا علاقائی قوت کے ابھار کو روکنا ہے جو امریکی یک قطبی نظام (Unipolar World) کو چیلنج کر سکے۔ ڈرون ٹیکنالوجی کا بے دریغ استعمال، جس میں سویلین اور جنگجو کے درمیان تمیز مٹ جاتی ہے، امریکی جنگی جنون کی وہ انتہاء ہے جو ثابت کرتی ہے کہ ان کے نزدیک انسانی جان کی قدر صرف ان کے اپنے معاشی مفادات تک محدود ہے۔ استعمار کا یہ جدید روپ پرانے نوآبادیاتی نظام سے کہیں زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ مالیاتی اداروں (IMF/World Bank) اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے قوموں کی روح تک کو غلام بنا لیتا ہے۔ امریکہ کے حتمی مقاصد میں پوری دنیا کے مالیاتی نظام پر گرفت، یوریشیاء کے مرکز (Heartland) تک رسائی اور چین و روس جیسے حریفوں کو مسلم ممالک کی زمین استعمال کر کے گھیرنا شامل ہے۔ یہ ایک ایسی شطرنج ہے جس میں مسلم ممالک کے عوام محض پیادے ہیں اور ان کی زمینیں اس ہولناک خونی کھیل کا میدان، جہاں ہر بم دھماکہ امریکی معیشت کے پہیے کو مزید تیزی سے گھمانے کا ایندھن بنتا ہے۔ امریکی سامراج کی یہ تاریخ صرف بارود سے نہیں بلکہ ان مائوں کے آنسوؤں سے بھی لکھی گئی ہے جن کے گھروں کو جمہوریت کے نام پر قبرستانوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ جب تک مسلم دنیا اپنی دفاعی خود مختاری اور معاشی اتحاد قائم نہیں کرتی، واشنگٹن کے یہ تزویراتی اہداف اسی طرح جدید اسلحے کی صورت میں انسانیت کا قتل عام کرتے رہیں گے، کیونکہ امریکی پالیسی کا آخری ہدف امن نہیں بلکہ وہ عالمی تسلط ہے جو صرف جنگوں کے ذریعے ہی قائم رکھا جا سکتا ہے۔

امریکی عالمی تسلط کی کہانی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us