Banner

داستان ظلم و جبر

featured
Share

Share This Post

or copy the link

محمدنسیم رنزوریار

داستان ظلم و جبر

قارئین کرام ـ دنیا اس وقت ایک ایسے دہانے پر کھڑی ہے جہاں انسانیت کی تذلیل اور ظلم و جبر کی داستانیں رقم کرنا معمول بن چکا ہے اور عالمی سطح پر قتل و غارت گری کے واقعات جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں وہ انسانی شعور کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکے ہیں کیونکہ جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تہذیب نے بہت سے ارتقائی مراحل طے کیے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مادی ترقی کے اس دور میں اخلاقی پستی اپنی انتہاء کو پہنچ چکی ہے جہاں طاقتور کمزور کو کچلنے میں ذرہ برابر بھی عار محسوس نہیں کرتا اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی ناانصافیاں اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ ہم ایک ایسے جنگل کے قانون کی طرف لوٹ رہے ہیں جہاں صرف طاقت ہی حق ہے اور بقاء صرف اس کے لیے ہے جو ظلم کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے قتل و غارت اور جبر کے یہ واقعات کب ختم ہوں گے اس کا جواب کسی ایک فرد یا ادارے کے پاس نہیں کیونکہ اس کے پیچھے وہ پیچیدہ عالمی مفادات اور سیاسی چالیں ہیں جو انسانی جانوں کی قیمت پر کھیلی جاتی ہیں معصوم انسانوں کا خون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے اور کہیں مذہبی جنونیت تو کہیں نسلی عصبیت کے نام پر بستیاں اجاڑ دی جاتی ہیں اغواء برائے تاوان جیسے گھناؤنے جرائم نے معاشرے کے امن و سکون کو برباد کر کے رکھ دیا ہے جہاں ایک انسان دوسرے انسان کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے محض چند سکوں کے عوض قید کر لیتا ہے اور اس کے خاندان کو وہ اذیت دیتا ہے جس کا تصور بھی محال ہے یہ غیر انسانی سلوک اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہمارے دلوں سے خوف خدا اور انسانی ہمدردی کا عنصر بالکل ختم ہو چکا ہے اور ہم ایک ایسی مشینی زندگی گزار رہے ہیں جہاں جذبات اور احساسات کی کوئی جگہ نہیں رہی جبر کی یہ لہر صرف کسی ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ مشرق سے مغرب تک ہر جگہ انسانیت سسک رہی ہے کہیں بمباری کے ذریعے شہروں کو قبرستان بنایا جا رہا ہے تو کہیں معاشی پابندیوں کے ذریعے نسلوں کو فاقہ کشی پر مجبور کیا جا رہا ہے یہ سب کچھ عالمی طاقتوں کی چشم پوشی اور بین الاقوامی اداروں کی بے حسی کا نتیجہ ہے جو صرف بیانات کی حد تک تو ہمدردی جتاتے ہیں لیکن عملی طور پر ظلم کو روکنے میں ناکام رہے ہیں انسانی حقوق کے علمبردار ادارے اکثر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں جب کسی طاقتور ملک کے مفادات آڑے آتے ہیں اور یہی وہ منافقت ہے جس نے دنیا میں عدم استحکام پیدا کر رکھا ہے قتل و غارت گری کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک انصاف کے دوہرے معیار ختم نہیں ہوتے اور جب تک ایک انسان کی جان کی قیمت دوسرے کے برابر نہیں سمجھی جاتی اغواء اور تشدد جیسے واقعات معاشرتی ناہمواری اور بے روزگاری کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت کے فقدان کا نتیجہ بھی ہیں جب نوجوان نسل کو یہ سکھایا جائے گا کہ کامیابی کا واحد راستہ دولت اور طاقت ہے تو وہ کسی بھی غیر قانونی اور غیر انسانی فعل سے گریز نہیں کریں گے اس صورتحال کو بدلنے کے لیے انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے ہر فرد کو اپنے حصے کی شمع جلانی ہوگی اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی چاہے وہ آواز کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ جنگوں کی حوصلہ شکنی کرے اور اسلحہ سازی کی صنعت کے بجائے تعلیم اور صحت پر سرمایہ کاری کرے تاکہ انسانوں کے درمیان نفرتوں کی دیواریں گرائی جا سکیں اور محبت و بھائی چارے کی فضاء قائم ہو سکے یہ سوال کہ یہ سب کب ختم ہوگا دراصل ہمارے اپنے ضمیر سے ہے کہ ہم کب تک خاموشی سے یہ سب کچھ دیکھتے رہیں گے اور کب ہم میں اتنی ہمت پیدا ہوگی کہ ہم ظالم کا ہاتھ روک سکیں اگر آج ہم نے خاموشی نہ توڑی تو کل تاریخ ہمیں اس جرم میں برابر کا شریک سمجھے گی انسانیت کی بقاء صرف اس بات میں ہے کہ ہم ایک دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھیں اور کسی بھی انسان پر ہونے والے ظلم کو پوری انسانیت پر ظلم تصور کریں قتل و غارت کے یہ سیاہ بادل صرف اسی وقت چھٹیں گے جب عدل و انصاف کا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوگا اور دنیا کا ہر انسان چاہے وہ کسی بھی رنگ نسل یا مذہب سے تعلق رکھتا ہو خود کو محفوظ تصور کرے گا غیر انسانی سلوک کے خلاف ایک عالمی تحریک کی ضرورت ہے جو صرف کاغذوں تک محدود نہ ہو بلکہ جس کے اثرات زمین پر نظر آئیں اور ظالموں کو یہ پیغام مل جائے کہ اب ان کے ظلم کا وقت ختم ہونے والا ہے اور انسانیت اب مزید ذلیل ہونے کے لیے تیار نہیں ہے یہ سفر کٹھن ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں کیونکہ حق کی جیت ہمیشہ سے طے ہے اور باطل کو ایک نہ ایک دن مٹنا ہی ہوتا ہے بس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو درست کریں اور مادی فائدے پر انسانی جان کو فوقیت دیں تبھی ہم ایک پرامن اور خوشحال دنیا کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں جہاں کوئی بچہ یتیم نہ ہو اور کوئی ماں اپنے پیارے کے بچھڑنے پر بین نہ کرے یہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں اس تاریک دور سے نکال کر روشنی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

داستان ظلم و جبر

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us