Banner

تیسری عالمی جنگ کی تیاریاں

featured
Share

Share This Post

or copy the link

پچھلی بارہ روزہ ایران,اسرائیل,امریکہ جنگ میں ایران نے اپنی بہترین حکمت عملی سے دنیا میں ثابت کردیا تھا کہ وہ اس جنگ کیلئے تیار ہے اور جب امریکہ کو لگا کہ جنگ طول پکڑے گی تو اس نے جنگ بندی کیلئے عرب ممالک کو بیچ کو ڈالا,ایران نے عرب ممالک کی ثالثی کو قبول کرتے ھوئے مذاکرات کیے اور اس طرح جنگ بندی ھوئی۔
امریکہ اور اسرائیل مذاکرات کی آڑ میں سپریم لیڈر خامنہ ای سمیت ایرانی قیادت کو مارنے کیلئے ٹارگٹ سیٹ کرنے لگا اور اندر ہی اندر ایک اور جنگ کی تیاری کی جانے لگی انہوں نے ملک میں رجیم چینج کیلئے اندرونی ایجنٹس کو تیار کیا اور ملک بھر میں مظاہرے کروائے موساد کے ایجنٹوں نے ایرانی لوگوں کو قتل کرنا شروع کردیا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جانے لگی ایران جو اس ساری صورتحال کیلئے پہلے سے ہی تیار تھا اس نے 28 صوبوں میں پھیلے اس احتجاج کو بہترین انداز میں ختم کیا گوکہ اس احتجاج کو ختم کرنے کیلئے کافی معصوم نہتے ایرانی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور کم و بیش پانچ ہزار ایرانی اس احتجاج کی بھینٹ چڑھے امریکہ مسلسل دباؤ بڑھا رہا تھا کہ اگر مظاہرین پر طاقت کا استعمال کیا گیا تو امریکہ اس کا جواب دے گا امریکہ اور اسرائیل رضا پہلوی کو ایران کا سپریم لیڈر بنوا کر حسب سابق اپنی پٹھو حکومت چاہتے تھے اور یہ بات دونوں ممالک جانتے تھے کہ اس خواب کی تعبیر اتنی آسانی سے نہیں ملے گی تبھی جب گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلا تو امریکہ بہادر نے انگلی ٹیڑھی کردی ویسے جیسےایران جنگ سے پہلے امریکہ نے وینزویلا میں بغیر جنگ کیے ان کے صدر کو اٹھا لیا اور اسے امریکہ لے آیا ادھر اسرائیل اور کچھ عرب ممالک مسلسل ڈونلڈٹرمپ کے کان بھر رہے تھے کہ ایران ایٹم بم بنانے کے قریب ہے اور اگر اسے نہ روکا گیا تو وہ مشرق وسطیٰ اور خاص کر اسرائیل کیلئے خطرہ بنا رہے گا لہذا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو مسلسل ڈونلڈ ٹرمپ کو نئی جنگ کیلئے اکساتے رہے,دوسری طرف کچھ عرب ممالک بھی ایران کو اپنے لیے خطرہ محسوس کررہے تھے اور وہ بھی امریکی صدر کو ایران کیخلاف فیصلہ کن کاروائی کیلئے آمادہ کرتے رہے ڈونلڈٹرمپ کو اپنی ایجنسیز پہلے ہی رپورٹ دے چکی تھیں کہ ایران کے ایٹمی بم بنانے اور کسی بھی ملک کیخلاف جارحیت کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے یہ محض واویلا کیا جارہا ہے اور امریکہ کو اس جنگ میں دھکیلا جارہا ہے اسی لیے ڈونلڈٹرمپ مذاکرات کا راگ الاپنے لگے لیکن اندرون خانہ یہودی لابی پوری تیاری میں تھی اور وہ ٹرمپ کو اس جنگ کا حصہ بنانے پر تلے تھے انہوں نے خطرناک کھیل کھیلتے ھوئے ٹرمپ کو ایپسٹین فائلز کھولنے کی دھمکی دی اور کہا کہ اگر وہ اس جنگ میں شامل نہیں ھوتے تو پھر وہ فائلز کھول دی جائیں گی اس دھمکی نے اپنا اثر دکھایا اور امریکہ براہ راست اس جنگ میں شامل ھوگیا امریکہ اور اسرائیل نے فروری میں ایران پر ایک بار پھر چڑھائی کردی جنگ طول پکڑنے لگی اور اس جنگ نے اس وقت شدت اختیار کی جب اٹھائیس فروری کی صبح امریکی اور اسرائیلی طیاروں نے تہران میں ایک کمپاؤنڈ پر بمباری کی اور ایرانی سپریم لیڈر آیت ﷲ خامنہ ای سمیت دیگر اعلیٰ عہدیدران کو ٹارگٹ کیا,یکم مارچ کو ایران نے باضابطہ طور پر ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کا اعلان کیا اور ساتھ ہی اعلان کیا کہ امریکہ اور اسرائیل سے سپریم لیڈر کی شہادت کا بدلہ لیا جائے گا ایران نے عرب ممالک سمیت مڈل ایسٹ میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ھوئے متحدہ عرب امارات,قطر,بحرین,
سعودی عرب,اومان,آذربائیجان,ترکی,مصر اور اردن سمیت جہاں جہاں امریکی فوجی اڈے موجود تھے ان پر میزائلوں کی بارش کردی دوسری طرف اسرائیل پر براہ راست میزائل مارنے شروع کردیے,امریکہ اور اسرائیل کے ذہن میں تھا کہ یہ جنگ بھی پچھلی جنگ کی طرح جلدی ختم ھوجائے گی مگر اس بار ایران ڈٹ گیا,ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی جسے عرب ممالک سمیت امریکہ اور اسرائیل نے سیئریس نہ لیا اسرائیل نے ایران کے ایک بچیوں کے اسکول پر حملہ کیا جس سے تقریباً دو سو کے قریب بچیوں کو شہید کردیا اس حملے نے پوری ایرانی قوم کو متحد کردیا۔
عرب ممالک جنہوں نے ھمیشہ دوسرے ممالک میں جنگوں کے مزے لیے تھے اب یہ آگ ان کی دہلیز پر آن پہنچی تھی اور وہ پہلی بار ان جنگ کا براہ راست نظارہ کررہے تھے دوسری طرف ایران نے آبنائے ہرمز بند کردی قارئین کو بتاتا چلوں کہ آبنائے ہرمز سمندر کا وہ تنگ حصہ ہے جہاں دنیا کی بیس فیصد ٹریڈ ھوتی ہے آدھے سے زیادہ یورپ کو تیل اسی رستے سے جاتا ہے اس بحری رستے کی بندش نے پوری دنیا کو ہلاکر رکھ دیا اور یورپ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ اس رستے کو کھلوائے امریکہ نے ایران پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس رستے کو کھول دے اس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا اور اس کے ایٹمی سائنسدانوں کو شہید کردیا مگر ایران ڈٹ گیا اس نے امریکی ڈالر کی حاکمیت کو چیلنچ کرتے ھوئے کہا کہ اب اس رستے سے صرف وہی جہاز گزریں گے جو چینی کرنسی یو آن میں ٹریڈ کریں گے اور ایران کو فی جہاز دو لاکھ ڈالر ادا کریں۔
آبنائے ہرمز کی بندش نے اسرائیل اور امریکہ کو ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کیا اور امریکی صدر کی جھنجھلاہٹ بڑھ گئی اس نے ایران پر تابڑ توڑ حملے کرنے شروع کردیے اور ایرانی سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کو حملہ کرکے شہید کردیا گیا اور نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ( جوکہ آیت ﷲ خامنہ ای کے فرزند ہیں) کو بھی نشانہ بنایا گیا مگر وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔
ایران جس کو بیک پہ چین,روس اور شمالی کوریا کی مدد حاصل ہے وہ اکیلا ڈٹا ھوا ہے اور پوری شدت سے امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ کررہا ہے اب تک ایران نےامریکہ کے سات جہاز گرا دیے ہیں اور امریکہ کے اندر سے اب آوازیں اٹھنا شروع ھوگئی ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کی جارہی ہے۔
جنگ طول پکڑ چکی ہے امریکہ اور اسرائیل اب اس جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں لیکن ایران اب اس جنگ کو طول دینا چاہتا ہے عرب ممالک کی کوششوں سے پاکستان نے بطور ثالث اپنے آپ کو پیش کردیا ہے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم میاں شہبازشریف نے اس حوالے سے سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں اور اسلام آباد کو جنگ بندی کے مرکز کے طور پر پیش کردیا ہے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس,اسپیشل پرسن برائے مڈل ایسٹ اسٹیو وٹکوف اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کی اسلام آباد میں میٹنگ کے انتظامات کیے گئے ہیں گوکہ یہ ملاقات بظاہر ابھی تعطل کا شکار ہے لیکن پوری دنیا میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی گئی ہے دوسری طرف ایشیاء میں لنڈے کے ارسطو نریندر مودی اور بھارت پر شدید تنقید ھورہی ہے بھارتی میڈیا اور قوم نریندر مودی کی پالیسیوں کیخلاف کھل کر بول رہی ہے ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے پورا زور لگایا ھوا ہے کہ دنیا میں پاکستان کا تشخص دہشت گرد ملک کے طور پر جائے مگر آج وہی پاکستان دنیا کی قسمت کے فیصلے کررہا ہے پاکستان کی بہترین خارجہ پالیسی نے اسے دنیا میں ممتاز بنادیا ہے اور بھارت دن بدن تنہا ھوتا جارہا ہے۔
ایران اسرائیل جنگ بظاہر ختم ھوتی نظر نہیں آرہی اس جنگ کے اثرات پوری دنیا میں پھیل چکے ہیں دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات تاریخ کی بلند سطح پہ پہنچ چکی ہیں پاکستان میں پٹرول 378 اور ڈیزل 520 روپے لیٹر فروخت ھورہا ہے کھانے پینے کی اشیاء دن بدن مہنگی ھوتی جارہی ہیں جس سے پوری دنیا متاثر ھورہی ہے چار اپریل کو اسرائیل نے ایران کے جوہری پلانٹ پر حملہ کیا ہے جس سے تابکاری پھیلنے کا خدشہ ہے امریکہ جوکہ سپر پاور ملک ہے اس جنگ سے دن بدن کمزور ھوتا جارہا ہے اور چائینہ اسکی جگہ لے رہا ہے امریکہ بظاہر ایران کو ڈرا رہا ہے کہ وہ اسے پتھر کے زمانے میں بھیج دے گا وہ ایران پر ایٹمی حملے کا سوچ رہا ہے اگر وہ ایران پر ایٹمی حملہ کرتا ہے تو چائینہ,روس اور شمالی کوریا مل کر امریکہ پر حملہ کردیں گے اور دنیا میں تیسری عالمی جنگ چھڑ جائے گی یہ جنگ لاکھوں نہیں کروڑوں زندگیاں نگل جائے گی اور جو زندہ بچیں گے وہ بھی نارمل لائف نہیں گزار سکیں گے۔
اسرائیل جو گریٹر اسرائیل کا خواب دیکھ رہا ہے اس نے دنیا کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے ذرا سی چنگاری بھی اس دنیا کو تہس نہس کردے گی اس لیے تمام ایٹمی ممالک کو ہوش کے ناخن لینے ھوں گے یہ جنگ روائتی جنگ نہیں ھوگی امریکہ اسرائیل اور ایران سمیت تمام ممالک صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور خصوصاً امریکہ اور پینٹاگون کو یہ سوچنا ھوگا کہ تیل اور معدنیات کے حصول کیلئے دوسرے ملک پر قبضے کرنا اور ان کیخلاف جارحیت کرنا بند کردے اگر اس کی یہی روش رہی تو دنیا میں سپر پاور کا تاج اس کے سر سے اتر جائے گا اس وقت دنیا کو اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ھماری زمین قدرتی آفات کی وجہ سے بہت متاثر ھورہی ہے اگر بروقت مدبرانہ فیصلے نہ کیے گئے تو یہ زمین انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہے گی اور اگر دنیا ہی نہیں رہے گی تو پھر کیسی بادشاہت,امید ہے اس جنگ سمیت دنیا بھر میں ھونیوالی تمام جنگوں کا خاتمہ ھوگا اور کرہ ارض ایک بار پھر امن کا گہوراہ بنے گی۔

تیسری عالمی جنگ کی تیاریاں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us