Banner

بلوچستان کا تعلیمی انقلاب

featured
Share

Share This Post

or copy the link

محمدنسیم رنزوریار

بلوچستان کا تعلیمی انقلاب

قارئین کرام! بلوچستان، جو اپنی وسعت اور جغرافیائی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہمیشہ تعلیمی میدان میں چیلنجز کا شکار رہا ہے، آج ایک ایسی تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے جسے عالمی سطح پر “تعلیمی نشاۃ ثانیہ” سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں صوبائی حکومت اور مقتدر حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات نے نہ صرف برسوں سے جمود کے شکار تعلیمی ڈھانچے کو متحرک کیا ہے بلکہ ایک ایسی بنیاد رکھ دی ہے جہاں علم اب مراعات یافتہ طبقے تک محدود نہیں رہا۔ اس تعلیمی اصلاحاتی مہم کا سب سے حیران کن اور جاندار پہلو گوسٹ اسکولز کا خاتمہ اور غیر فعال تعلیمی اداروں کی بڑے پیمانے پر بحالی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ دو سالوں کے دوران صوبے بھر میں تقریباً 3,500 سے زائد ایسے اسکولوں کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے جو اساتذہ کی کمی یا انتظامی غفلت کی وجہ سے بند پڑے تھے۔ ان اسکولوں کی بحالی محض عمارتوں کی مرمت تک محدود نہیں تھی بلکہ بائیومیٹرک حاضری کے نظام اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ذریعے اساتذہ کی موجودگی کو یقینی بنایا گیا ہے، جو کہ ایک عالمی معیار کی انتظامی اصلاحات کی مثال ہے۔
اس تعلیمی سفر کا دوسرا اہم ستون بچوں کے داخلے کی شرح میں ہونے والا ریکارڈ اضافہ ہے۔ ایک جامع اور مدلل رپورٹ کے مطابق، تعلیم سب کے لیے مہم کے تحت بلوچستان میں اسکول سے باہر (Out of School) بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ حالیہ تعلیمی سیشن میں تقریباً 5 لاکھ سے زائد نئے بچوں کا سرکاری اسکولوں میں داخلہ ایک ایسی کامیابی ہے جس نے بین الاقوامی مبصرین کو بھی حیران کر دیا ہے۔ خاص طور پر دور دراز کے علاقوں جیسے واشک، آواران اور ڈیرہ بگٹی میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے خصوصی ترغیبی پیکجز اور مفت درسی کتب کی فراہمی نے والدین کے اعتماد کو بحال کیا ہے۔ اس وقت بلوچستان کے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کی کل تعداد 1.3 ملین سے تجاوز کر چکی ہے، جو صوبے کی تاریخ میں ایک سنگ میل ہے۔ یہ محض اعداد نہیں بلکہ ان لاکھوں خاندانوں کی امیدیں ہیں جو اب اپنے بچوں کے مستقبل کو قلم اور کتاب سے وابستہ دیکھ رہے ہیں۔بلوچستان میں تعلیمی خدمات کا ایک اور منفرد پہلو دانش اسکولز کا ماڈل اور صوبے کے ذہین طلبہ کے لیے بین الاقوامی اسکالرشپس کا اجراء ہے۔ پنجاب کی طرز پر بلوچستان کے پسماندہ اضلاع میں دانش اسکولوں کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست اب یہاں کے بچوں کو وہ تمام سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے جو بڑے شہروں کے اشرافیہ اسکولوں میں میسر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، بلوچستان ایجوکیشن اینڈ اینڈومنٹ فنڈ (BEEF) کے تحت ہزاروں طلبہ کو ملک کے بہترین جامعات اور بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے وظائف دیے جا رہے ہیں۔ اب خاران یا لورالائی کا ایک بچہ اپنی غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہیں رہتا بلکہ وہ اپنی قابلیت کی بنیاد پر آکسفورڈ اور ہارورڈ تک رسائی کا خواب دیکھ رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں، بلوچستان کے 100 سے زائد ہائی اسکولوں میں سمارٹ کلاس رومز کا قیام اور آئی ٹی لیبز کی فراہمی نے یہاں کے طلبہ کو عالمی سطح پر ہونے والی سائنسی ترقی سے ہم آہنگ کر دیا ہے۔ بلوچستان میں تعلیمی اقدامات اب صرف نعروں تک محدود نہیں رہے بلکہ زمین پر ٹھوس نتائج دے رہے ہیں۔ اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی، نصاب کی جدید سازی، اور تعلیمی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ وہ عوامل ہیں جنہوں نے بلوچستان کے تعلیمی منظر نامے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اگرچہ منزل ابھی دور ہے اور چیلنجز اب بھی موجود ہیں، لیکن جس رفتار اور جذبے سے یہ اصلاحات جاری ہیں، وہ دن دور نہیں جب بلوچستان علم و ہنر کا مرکز بن کر ابھرے گا۔جب عزم صمیم ہو اور ریاست کی ترجیحات درست ہوں، تو صحراؤں میں بھی علم کے گلاب کھل سکتے ہیں۔

بلوچستان کا تعلیمی انقلاب

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us