Banner

بلوچستان کی علمی و ادبی کہکشاں

featured
Share

Share This Post

or copy the link

جلیل عالی کے اعزاز میں ایک یادگار شام

قارئین کرام! بلوچستان کی سرزمین ہمیشہ سے علم و ادب کا گہوارہ رہی ہے جہاں کی مٹی نے فکر و دانش کے بے شمار چراغ روشن کیے ہیں۔ اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے گزشتہ روز نظامتِ ثقافت حکومتِ بلوچستان کے تعاون اور “مجلسِ فکر و دانش” کے زیرِ اہتمام نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس کوئٹہ میں ایک پروقار اور علمی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ یہ تقریب عصرِ حاضر کے ممتاز محقق، بلند پایہ ادیب اور صاحبِ طرز شاعر جناب جلیل عالی کے اعزاز میں منعقد کی گئی، جس کا بنیادی مقصد ان کی ادبی خدمات کا اعتراف اور ان کے فکری زاویوں پر سیر حاصل گفتگو کرنا تھا۔ تقریب میں بلوچستان کے علمی افق پر چمکنے والے نامور شعراء، مفکرین، نقاد اور مصنفین نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جس سے یہ محفل ایک ادبی دبستان کا منظر پیش کرنے لگی۔ ہال میں موجود شرکاء کا جوش و خروش اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ بلوچستان کے ادبی حلقوں میں جلیل عالی کی شخصیت اور ان کے کام کو کس قدر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ نظامتِ ثقافت نے اس تقریب کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ زندہ قومیں اپنے محسنوں اور اہل کمال کی پزیرائی کرنا کبھی نہیں بھولتیں۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا جس کے بعد جلیل عالی کی زندگی اور فن پر روشنی ڈالنے کے لیے مکالمے کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ فکری مکالمہ اور فن کے نئے ابعاد اس نشست کی سب سے نمایاں خصوصیت “مکالمہ و تبادلہ خیال” کا وہ سیشن تھا جس میں جلیل عالی کی ادبی جہتوں کو موضوعِ بحث بنایا گیا۔ جلیل عالی کا شمار ان معدودے چند تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے تحقیق اور تخلیق کے مابین ایک ایسا توازن برقرار رکھا ہے جو بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔ تقریب کے دوران مقررین نے ان کی شاعری میں موجود فلسفیانہ گہرائی اور ان کی تحقیقی کتب میں موجود علمی دیانت پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ ڈائریکٹر کلچر جناب داؤد ترین نے اپنے کلیدی خطاب میں جلیل عالی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسی شخصیات کسی بھی معاشرے کا اثاثہ ہوتی ہیں جو اپنی تحریروں کے ذریعے آنے والی نسلوں کی فکری آبیاری کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نظامتِ ثقافت بلوچستان ہمیشہ سے فنکاروں اور ادیبوں کی سرپرستی کو اپنا اولین فریضہ سمجھتی ہے اور نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس جیسے مراکز کا مقصد ہی یہی ہے کہ یہاں تخلیقی ذہنوں کو مل بیٹھنے اور مکالمہ کرنے کا بھرپور موقع فراہم کیا جائے۔ تقریب میں موجود دیگر معزز مہمانوں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ جلیل عالی نے اپنی تحریروں میں انسانی نفسیات، سماجی رویوں اور آفاقی سچائیوں کو جس خوبصورتی سے پرویا ہے، وہ ان کے منفرد مشاہدے کا عکاس ہے۔ شرکاء کے درمیان ہونے والے اس تبادلہ خیال نے حاضرین کو جلیل عالی کے فن کے ان گوشوں سے روشناس کرایا جو عام طور پر سرسری مطالعے سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ ادبی وراثت کی ترویج اور مستقبل کا تناظر
اس تقریب کا اختتامی سیشن تھا جلیل عالی کے اپنے کلام اور ان کے اظہارِ تشکر پر مبنی تھا، جس نے پوری محفل پر ایک سحر طاری کر دیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں نظامتِ ثقافت اور مجلسِ فکر و دانش کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بلوچستان کی ادبی زرخیزی کی تعریف کی۔ یہ محفل محض ایک تقریب نہیں تھی بلکہ ایک ایسا فکری سنگم تھا جہاں تجربہ کار اساتذہ اور نوآموز لکھاریوں نے ایک دوسرے سے استفادہ کیا۔ بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے شعراء اور ادیبوں کی موجودگی نے اس تقریب کو ایک صوبائی یکجہتی کا رنگ دے دیا تھا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس نوعیت کے مکالمے معاشرے میں برداشت، فہم و ادراک اور مطالعے کے کلچر کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ جلیل عالی جیسے معتبر نام کے گرد سجائی گئی یہ شام اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ جب تک ریاست اور نجی ادبی تنظیمیں مل کر قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں گی، تب تک ہماری تہذیبی اور ثقافتی شناخت قائم و دائم رہے گی۔ نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس کی دیواروں نے اس شام نہ صرف الفاظ کی خوشبو کو محسوس کیا بلکہ اس عزم کی بھی تجدید کی کہ ادب کی شمع کو کبھی بجھنے نہیں دیا جائے گا۔ یہ تقریب اپنی جامعیت، نظم و ضبط اور علمی معیار کے حوالے سے مدتوں یاد رکھی جائے گی، کیونکہ یہ جلیل عالی کی خدمات کے اعتراف کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے روشن ادبی مستقبل کی ایک نوید بھی ثابت ہوئی۔یاد رہے اس پروقار تقریب میں پشتون بیلٹ کا ہردلعزیز شخصیت عالمی مشاہد اور دی گریٹ گیم کا خاتمہ تصنیف کا مصنف جناب احمدخان نے بھی خصوصی شرکت کرکے پروگرام کو مزید رونق بخشی۔

بلوچستان کی علمی و ادبی کہکشاں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us