Banner

4 اپریل ذولفقار علی بھٹو کی قربانی اور جمہوریت کا دن

featured
Share

Share This Post

or copy the link

4 اپریل ذولفقار علی بھٹو کی قربانی اور جمہوریت کا دن

پاکستان کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہیں جو محض تاریخ نہیں بلکہ ایک زندہ احساس، ایک اجتماعی دکھ اور ایک فکری حوالہ بن جاتے ہیں۔ 4 اپریل 1979ء بھی ایسا ہی ایک دن ہے جب ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی کی جیل میں تختۂ دار پر چڑھا دیا گیا یہ واقعہ محض ایک شخص کی موت نہیں تھا بلکہ ایک سوچ، ایک نظریے اور ایک عوامی امید کے خلاف ایک فیصلہ تھا جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں
ذوالفقار علی بھٹو ایک ایسے رہنما تھے جنہوں نے سیاست کو ایوانوں سے نکال کر گلی کوچوں تک پہنچایا۔ وہ جاگیردارانہ پس منظر رکھنے کے باوجود غریب عوام کے دل کی دھڑکن بن گئے۔ جب انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تو اس کا نعرہ “روٹی، کپڑا اور مکان” رکھا، جو صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک سماجی انقلاب کی بنیاد تھا۔ یہ نعرہ دراصل اس نظام کے خلاف بغاوت تھا جس میں وسائل چند ہاتھوں تک محدود ہو چکے تھے
بھٹو صاحب کی سیاست میں عوامی طاقت پر یقین نمایاں تھا۔ اس حوالے سے(ابراہام لنکن) کا قول یاد آتا ہے کہ “جمہوریت عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے ہوتی ہے۔” بھٹو نے اسی تصور کو پاکستان میں عملی شکل دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے مزدوروں کو حقوق دیے، کسانوں کے لیے اصلاحات متعارف کروائیں اور ایک ایسا سیاسی کلچر متعارف کرایا جس میں عام آدمی کو عزت دی گئی
اگر ہم مغربی مفکر (کارل مارکس) کی فکر کا جائزہ لیں تو وہ طبقاتی تقسیم کے خاتمے کی بات کرتے ہیں۔ بھٹو صاحب کی نیشنلائزیشن پالیسی اور سوشل جسٹس کے اقدامات اسی فکر کی عملی جھلک تھے۔ اگرچہ ان پالیسیوں پر اختلاف بھی کیا گیا، مگر ان کا بنیادی مقصد معاشی مساوات قائم کرنا تھا
مشرقی مفکرین میں (علامہ اقبال )کی تعلیمات بھٹو کی سوچ میں نمایاں نظر آتی ہیں۔ اقبال نے خودی، بیداری اور حریت کا درس دیا، اور بھٹو نے انہی تصورات کو عوامی تحریک میں بدل دیا۔ اسی طرح( قائد اعظم محمد علی جناح) کے جمہوری اصول بھی بھٹو کی سیاست میں جھلکتے ہیں، خاص طور پر آئین سازی کے عمل میں
1973ء کا آئین بھٹو صاحب کا ایک تاریخی کارنامہ ہے، جس نے پاکستان کو ایک متفقہ قانونی فریم ورک دیا۔ یہ آئین آج بھی ملک کی بنیاد ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ بھٹو صرف ایک جذباتی رہنما نہیں بلکہ ایک مدبر ریاستی مفکر بھی تھے
بھٹو صاحب کی خارجہ پالیسی بھی ان کی بصیرت کا مظہر تھی۔ انہوں نے اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور پاکستان کو عالمی سطح پر ایک باوقار مقام دلایا۔ ان کی سوچ میں خودمختاری کا عنصر نمایاں تھا، جو کسی حد تک(نکولو میکیاولی) کے اس نظریے سے میل کھاتا ہے کہ ریاست کو اپنی بقا کے لیے حقیقت پسندانہ فیصلے کرنے چاہئیں
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جو رہنما عوام میں مقبول ہو جاتے ہیں، وہ اکثر طاقتور حلقوں کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔ یہی کچھ بھٹو صاحب کے ساتھ ہوا۔ جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کیا اور بھٹو کو ایک متنازع مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا۔ یہ مقدمہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید تنقید کا نشانہ بنا
فرانسیسی مفکر( ژاں ژاک روسو) نے کہا تھا کہ “قانون صرف اس وقت جائز ہوتا ہے جب وہ عوام کی مرضی کا عکاس ہو۔” بھٹو کے مقدمے کے حوالے سے یہ سوال آج بھی اٹھایا جاتا ہے کہ کیا واقعی انصاف کے تقاضے پورے کیے گئے تھے؟ اسی لیے بہت سے لوگ اس فیصلے کو “عدالتی قتل” قرار دیتے ہیں
4 اپریل 1979ء کی صبح جب بھٹو کو پھانسی دی گئی تو پورا ملک سوگ میں ڈوب گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب جمہوریت کو ایک کاری ضرب لگی۔ مگر بھٹو کی موت نے ان کے نظریے کو ختم نہیں کیا بلکہ اسے مزید تقویت دی۔ ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں وہ آج بھی زندہ ہیں
(ونسنٹ چرچل) نے کہا تھا کہ “عظیم لوگ اپنی جدوجہد سے پہچانے جاتے ہیں۔” بھٹو کی زندگی بھی ایک مسلسل جدوجہد کی داستان ہے۔ انہوں نے کبھی حالات کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے اور اپنے اصولوں پر قائم رہے
اسی طرح (مہاتما گاندھی) نے عوامی طاقت پر یقین رکھتے ہوئے کہا تھا کہ “طاقت عوام میں ہوتی ہے، نہ کہ حکمرانوں میں۔” بھٹو نے بھی اسی طاقت کو بیدار کیا اور اسے اپنی سیاست کا محور بنایا
آج جب ہم 4 اپریل کو یاد کرتے ہیں تو یہ صرف ایک برسی نہیں بلکہ ایک عہد کی تجدید ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت، انصاف اور عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کبھی ختم نہیں ہوتی۔ بھٹو صاحب کا نظریہ آج بھی زندہ ہے، اور ہر اس شخص کے دل میں موجود ہے جو ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے
پاکستان آج جن مسائل کا شکار ہے مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی ان کا حل بھی اسی فلسفے میں پوشیدہ ہے جس کا درس بھٹو نے دیا تھا۔ اگر ہم واقعی ان کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک ایسا نظام قائم کرنا ہوگا جہاں ہر شہری کو برابر کے حقوق حاصل ہوں
بھٹو صاحب کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ عوام سے جڑے ہوئے تھے۔ وہ ایک ایسے لیڈر تھے جو لوگوں کے درمیان رہتے تھے، ان کے دکھ سکھ بانٹتے تھے اور انہیں امید دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی وہ “غریبوں کے لیڈر” کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں ذوالفقار علی بھٹو صرف ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک نظریہ ہیں ایک ایسا نظریہ جو جمہوریت، انصاف اور عوامی حقوق کی بنیاد پر قائم ہے۔ 4 اپریل ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اصولوں پر قائم رہنے والے لوگ کبھی مرتے نہیں، بلکہ تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں
یہ دن ہمیں عہد کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہم بھٹو کے مشن کو آگے بڑھائیں گے، غریبوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں گے اور ایک ایسا پاکستان بنانے کی کوشش کریں گے جہاں واقعی “روٹی، کپڑا اور مکان” ہر شہری کا حق ہو۔ یہی بھٹو کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت ہے، اور یہی 4 اپریل کا اصل پیغام بھی
بقولِ شاعر جگر مراد آبادی
ان کا جو کام ہے وہ اہلِ سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے، جہاں تک پہنچے

4 اپریل ذولفقار علی بھٹو کی قربانی اور جمہوریت کا دن

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us