Banner

بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ حکمت عملی،تعلیمی انقلاب

featured
Share

Share This Post

or copy the link

بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ حکمت عملی،تعلیمی انقلاب
صوبے کے لاکھوں طلبہ کو
بروقت درسی کتب کی
فراہمی، محترمہ راحیلہ
درانی ، چیرمین ڈاکٹر گلاب
خان ، شال پبلشرز و صادق پرینٹگ کی کاوشیں ۔۔
۔۔۔۔ تحریر و تحقیق ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔ قیوم بلوچ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ صوبے کا ایک نہایت اہم، بنیادی اور کلیدی ادارہ ہے جو بلوچستان کے تعلیمی نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ادارہ ہر سال صوبے بھر کے سرکاری اور نیم سرکاری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم لاکھوں طلبہ و طالبات کے لیے درسی کتب کی تیاری، اشاعت اور بروقت تقسیم کی ذمہ داری سرانجام دیتا ہے۔ بلوچستان ایک وسیع جغرافیائی، پہاڑی اور صحرائی صوبہ ہے جہاں کئی علاقوں تک پہنچنا اور وسائل کو مؤثر طریقے سے تقسیم کرنا ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ لیکن بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ نے پچھلے چند سالوں میں اپنی کارکردگی کو جو معیار اور شفافیت کے ساتھ بہتر بنایا ہے، وہ واقعی قابل تعریف اور مثالی ہے۔ سال 2025-2026 کے لیے درسی کتب کی تیاری اور اشاعت کا عمل اس بات کی مثال ہے کہ بلوچستان میں تعلیم کو محض رسمی ذمہ داری یا سرکاری پروجیکٹ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اور مربوط قومی مشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سال نصاب میں جدید تقاضوں کے مطابق نمایاں بہتری لائی گئی۔ بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور فکری تربیت کے لیے نصاب کو زیادہ مؤثر، دلچسپ اور قابل فہم بنایا گیا۔ سائنسی ترقی، قومی اقدار، معاشرتی ہم آہنگی اور عصری تعلیم کے اصولوں کو نصاب میں شامل کرکے طلبہ کی شخصیت سازی اور تعلیمی نشوونما پر خصوصی توجہ دی گئی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس پورے عمل میں تعلیمی اصلاحات کے لیے واضح وژن پیش کیا۔ ان کا مقصد ایک ایسا بلوچستان تعمیر کرنا ہے جہاں ہر بچے کو معیاری تعلیم تک بلا امتیاز رسائی حاصل ہو۔ ان کے وژن نے نہ صرف تعلیمی شعبے میں اصلاحات کو ترجیح دی بلکہ اس عمل کے لیے وسائل، انتظامی معاونت اور نگرانی کے جدید نظام کو بھی متعارف کروایا۔ وزیر اعلیٰ کی قیادت میں محکمہ تعلیم نے ایک مربوط حکمت عملی اپنائی، جس کے نتیجے میں درسی کتب کی تیاری، اشاعت اور تقسیم کے تمام مراحل شفاف، مؤثر اور بروقت مکمل ہوئے۔ صوبائی وزیر تعلیم محترمہ راحیلہ حمید درانی نے اس پورے عمل میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے نہ صرف تعلیمی پالیسیوں کی تشکیل میں حصہ لیا بلکہ ہر مرحلے پر خود نگرانی کی، جس سے اشاعت اور تقسیم کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا۔ ان کی محنت اور تعلیمی شعبے سے وابستگی اس بات کی دلیل ہے کہ بلوچستان میں تعلیم کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبہ کی کامیابی اور تعلیم تک رسائی ہماری اولین ترجیح ہے، اور یہی سوچ اس کامیابی کی بنیاد بنی۔ صوبائی سیکرٹری ثانوی تعلیم لعل جان جعفر نے انتظامی سطح پر اس عمل کو مربوط اور منظم بنایا۔ انہوں نے مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی، عملی مسائل کو بروقت حل کیا اور شیڈول کے مطابق تمام مراحل مکمل کروائے۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور قائدانہ صلاحیتوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ بلوچستان میں تعلیمی شعبے میں کوئی بھی خلل پیدا نہ ہو۔ چیئرمین بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ ڈاکٹر گلاب خان خلجی کی شبانہ روز محنت اس کامیابی کا اصل ستون ہے۔ انہوں نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے ہر مرحلے کی نگرانی کی اور معیار کو عالمی سطح کے مطابق بنایا۔ ان کی علمی بصیرت، انتظامی تجربہ اور تعلیم کے ساتھ وابستگی نے نصاب کی بہتری اور کتابوں کی معیاری اشاعت کو ممکن بنایا۔ ان کی قیادت میں بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ نے نہ صرف تعلیمی نصاب کو جدید خطوط پر استوار کیا بلکہ نصابی کتب کی تقسیم کے عمل کو بھی مؤثر بنایا۔درسی کتب کی بروقت اشاعت کے لیے شفاف ٹینڈرنگ کے عمل کے بعد “شال پبلشرز گروپ و صادق پرینٹگ ” کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ شال پبلشرز گروپ و صادق پرینٹگ نے اس اعتماد کو برقرار رکھتے ہوئے مقررہ وقت سے پہلے جدید اور معیاری کتب کی اشاعت کو یقینی بنایا۔انہوں نے جدید پرنٹنگ ٹیکنالوجی، اعلیٰ معیار کے مواد اور تجربہ کار ٹیم ورک کے ذریعے لاکھوں کی تعداد میں کتب بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ تک پہنچائیں۔ شال پبلشرز گروپ و صادق پرینٹگ کے سی ای او پروفیسر ڈاکٹر حلیم صادق نے اس پورے منصوبے میں غیر معمولی قیادت کا مظاہرہ کیا۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت، منصوبہ بندی، اور تعلیمی وژن نے اس پورے منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ انہوں نے نہ صرف معیار کو برقرار رکھا بلکہ وقت کی پابندی کو بھی یقینی بنایا، جس کے باعث لاکھوں طلبہ و طالبات بروقت اپنی نصابی کتب حاصل کر سکے۔ ان کی قیادت میں شال پبلشرز گروپ نے بلوچستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے ایک نئی مثال قائم کی۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس کامیاب منصوبے کو سیاسی، سماجی اور تعلیمی حلقوں کی جانب سے بھرپور سراہا گیا ہے۔ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس اقدام کو بلوچستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔ عوامی سطح پر اس بات کا اعتراف کیا جا رہا ہے کہ اس بار درسی کتب کی بروقت فراہمی نے تعلیمی نظام میں ایک مثبت تبدیلی پیدا کی ہے، جس کے اثرات نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والے برسوں میں بھی واضح ہوں گے۔اس کامیابی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ درسی کتب کی بروقت فراہمی نے اساتذہ کے تدریسی عمل کو بھی آسان بنایا ہے۔ طلبہ کے پاس تعلیمی سال کے آغاز ہی میں مکمل نصابی مواد موجود ہونے سے تدریسی سرگرمیاں بلا رکاوٹ جاری رہیں اور تعلیمی معیار میں بہتری آئی۔ اس کے ساتھ ہی طلبہ میں مطالعہ کا جذبہ بھی بڑھا اور ان کی تعلیمی کارکردگی میں مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ یہ تمام اقدامات بلوچستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے ایک نئے دور کی شروعات ہیں۔ طلبہ کو معیاری نصابی کتب کی فراہمی، جدید تعلیمی نصاب، اور بروقت تدریسی وسائل کے ذریعے نہ صرف تعلیمی معیار بلند ہوا بلکہ تعلیم میں دلچسپی اور طلبہ کا اعتماد بھی بڑھے گا۔ اگر اسی عزم اور تسلسل کے ساتھ کام جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب بلوچستان تعلیم کے میدان میں ملک کے دیگر صوبوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔ یہ تمام کامیابیاں ایک مربوط حکمت عملی، مضبوط قیادت، مخلصانہ کاوشوں اور شفاف نظام کی بدولت ممکن ہوئی ہیں۔ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ، محکمہ تعلیم اور شال پبلشرز گروپ و صادق پرینٹگ نے مل کر جس انداز میں نصابی کتب کی تیاری، اشاعت اور تقسیم کو ممکن بنایا ہے، وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ یہ اقدام نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی تعلیمی مواقع فراہم کرے گا اور بلوچستان میں تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھے گا۔ بلوچستان میں تعلیم کے فروغ کے اس عمل کو دیکھ کر یقیناً یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر قیادت، محنت اور شفافیت ساتھ ہو تو دور دراز علاقوں میں بھی معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ یہ کامیابی نہ صرف بلوچستان کے تعلیمی معیار میں بہتری کا سبب بنی بلکہ مستقبل میں صوبے میں تعلیم کے فروغ کے لیے ایک مستقل ماڈل بھی قائم کیا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا۔ کہ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ، وزیر تعلیم محترمہ راحیلہ حمید درانی، صوبائی سیکرٹری ثانوی تعلیم لعل جان جعفر ، چیئرمین ڈاکٹر گلاب خان خلجی اور شال پبلشرز گروپ و صادق پرینٹگ کی کوششیں ایک تعلیمی انقلاب کا آغاز ہیں۔ ان کی محنت، لگن اور عزم آنے والی نسلوں کے لیے روشن مستقبل کی ضمانت ہے اور بلوچستان کو تعلیمی لحاظ سے ملک کے دیگر صوبوں کے برابر لے جانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ حکمت عملی،تعلیمی انقلاب

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us