Banner

علم، انسانیت اور محبت کا سنگم معروف کالم نگار ارشد شاہد کی جانب سے یادگار افطار ڈنر

featured
Share

Share This Post

or copy the link

علم، انسانیت اور محبت کا سنگم
معروف کالم نگار ارشد شاہد کی جانب سے یادگار افطار ڈنر

منشا قاضی
حسبِ منشا

رمضان المبارک کی بابرکت ساعتیں جب اپنے عروج پر تھیں، فضاؤں میں روحانیت کی خوشبو اور دلوں میں محبت کی روشنی موجزن تھی، ایسے میں معروف کالم نگار، سماجی کارکن اور انسان دوست شخصیت ارشد شاہد کی جانب سے اسلام آباد کی معروف کاروباری مارکیٹ، جناح سپرمارکیٹ میں واقع شاندار ریسٹورنٹ BLT میں دیا جانے والا پر تکلف افطار ڈنر نہ صرف ایک دعوتِ طعام تھا بلکہ ایک فکری، سماجی اور روحانی اجتماع کی صورت اختیار کر گیا۔ یہ تقریب اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک ایسی بامقصد نشست تھی جس میں علم، شعور اور اخلاص کے رنگ نمایاں تھے۔
اس باوقار تقریب میں تعلیم، سائنس اور صحافت سے وابستہ معزز مہمانوں کی شرکت نے اسے مزید وقار بخشا۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ایک ہی دسترخوان پر جمع ہوئے، جہاں نہ صرف افطار کے لوازمات سے لطف اندوز ہوا گیا بلکہ خیالات اور نظریات کا تبادلہ بھی ہوا۔ یہ محفل دراصل ایک ایسے معاشرے کی عکاسی تھی جہاں مکالمہ، برداشت اور فکری ہم آہنگی کو اہمیت حاصل ہے۔
ارشد شاہد، جو اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرتی شعور کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں، نے اس تقریب کے ذریعے بھی ایک مثبت پیغام دیا۔ ان کی شخصیت میں علم دوستی، مہمان نوازی اور انسانیت سے محبت کا حسین امتزاج نمایاں نظر آیا۔ انہوں نے مہمانوں کا استقبال نہایت خلوص اور اپنائیت کے ساتھ کیا، جو اس بات کا ثبوت تھا کہ اصل عظمت انسان کے رویے اور کردار میں ہوتی ہے۔
تقریب میں شریک معزز شخصیات مہمان خصوصی وائس چانسلر کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر سید ظفر الیاس اخلاص کے پیکر متحرک مسلمانوں کی عظمت رفتہ کے داعی ۔ ڈی جی ڈاکٹر اسحاق احمد احساس کے پیکر ۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر آرامکو ڈاکٹر امتیاز ندیم جو وطنِ عزیز کی معاشی زلفِ پریشاں کو سنوارنے میں اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کر رہے ہیں آپ کی موجودگی ماحول میں آسودگی پیدا کر رہی تھی ۔ آپ کے ساتھ ایک مزید نشست کا اہتمام عید کے بعد ہو گا۔ رحمٰن فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر تعلقات عامہ منشا قاضی کی پزیرائی کی منتہا کر دی گئی ۔ مدیر روزنامہ بیتاب سردار مراد علی خاں جن کے انکسار میں افتخار تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ ڈائریکٹر 1969 ریسٹورنٹ ڈاکٹر عثمان علی کی شخصیت میں محبت ۔ اخوت و رواداری کی بادِ بہاری چل رہی تھی ۔ ڈاکٹر عمران مجید کی دید عید سے کم نہ تھی ۔ڈاکٹر حسن علی کا حسنِ اخلاق ولی کا عکاس تھا اور حسان ارشد میں اپنے نانا جان عرفان صدیقی مرحوم کا بچپن ہویدا تھا ۔ یہ وہ عبقری لوگ شامل تھے جنہوں نے نہ صرف موجودہ حالات پر روشنی ڈالی بلکہ تعلیم اور سائنسی ترقی کے فروغ پر بھی زور دیا۔ گفتگو کے دوران اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ معاشرے کی حقیقی ترقی علم، تحقیق اور مثبت سوچ سے ممکن ہے۔ اس نشست نے یہ بھی واضح کیا کہ جب اہلِ فکر و دانش ایک جگہ جمع ہوتے ہیں تو نہ صرف مسائل کی نشاندہی ہوتی ہے بلکہ ان کے حل کی راہیں بھی ہموار ہوتی ہیں۔
افطار کے بعد ہونے والی غیر رسمی نشست میں مہمانوں نے باہمی روابط کو مزید مستحکم کرنے اور ایسے اجتماعات کے تسلسل کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ اس موقع پر یہ احساس بھی نمایاں تھا کہ ایسے پروگرام معاشرتی ہم آہنگی اور فکری بیداری کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
یہ افطار ڈنر محض ایک تقریب نہ تھا بلکہ ایک پیغام تھا—محبت، رواداری، علم اور یکجہتی کا پیغام۔ ارشد شاہد کی یہ کاوش اس بات کی عکاس ہے کہ اگر نیت خالص ہو اور مقصد اعلیٰ، تو ایک چھوٹا سا اجتماع بھی معاشرے میں مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
یوں یہ محفل اپنے اختتام کو پہنچی، مگر اپنے پیچھے ایک ایسی روشنی چھوڑ گئی جو دلوں کو منور کرتی رہے گی اور ذہنوں کو نئی سمت عطا کرتی رہے گی۔

علم، انسانیت اور محبت کا سنگم معروف کالم نگار ارشد شاہد کی جانب سے یادگار افطار ڈنر

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us