Banner
Daily Sahafat Quetta
September 17, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
لاک ڈاؤن کسی صورت قبول نہیں، تاجروں پر پابندیاں ناقابلِ برداشت ہیں، کاشف حیدریفیلڈ مارشل سے ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، خطے کی صورتحال پر مشاورتپاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کیلیے مکمل طور پر سعودی عرب کے ساتھ ہے، دفتر خارجہکراچی میں بینک بھی لوٹے جاتے ہیں، ایسا کچھ نہیں، گورنر بلوچستاننوحصار پولیس کی کارروائی، موٹر سائیکل چوری میں ملوث 3 ملزمان گرفتارآواران میں 3 دہشتگرد ہلاک، سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں قابل تحسین ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستانوزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر صحافی پر مبینہ تشدد کا مقدمہ درجآبنائے ہرمز کے قریب امریکی عملے والے جہاز پر ایرانی حملہ، متعدد افراد زخمیفیلڈ مارشل کے حوالے سے بیان پر دلی افسوس ہے، نثار کھہڑوبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 3 دہشتگرد ہلاک، بھاری اسلحہ برآمدلاک ڈاؤن کسی صورت قبول نہیں، تاجروں پر پابندیاں ناقابلِ برداشت ہیں، کاشف حیدریفیلڈ مارشل سے ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، خطے کی صورتحال پر مشاورتپاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کیلیے مکمل طور پر سعودی عرب کے ساتھ ہے، دفتر خارجہکراچی میں بینک بھی لوٹے جاتے ہیں، ایسا کچھ نہیں، گورنر بلوچستاننوحصار پولیس کی کارروائی، موٹر سائیکل چوری میں ملوث 3 ملزمان گرفتارآواران میں 3 دہشتگرد ہلاک، سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں قابل تحسین ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستانوزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر صحافی پر مبینہ تشدد کا مقدمہ درجآبنائے ہرمز کے قریب امریکی عملے والے جہاز پر ایرانی حملہ، متعدد افراد زخمیفیلڈ مارشل کے حوالے سے بیان پر دلی افسوس ہے، نثار کھہڑوبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 3 دہشتگرد ہلاک، بھاری اسلحہ برآمد

تعلیمی مسیحا۔ بلوچستان میں علم کی دستک اور عبدالسلام خان اچکزئی کا عزمِ نو۔

تعلیمی مسیحا۔ بلوچستان میں علم کی دستک اور عبدالسلام خان اچکزئی کا عزمِ نو۔

قارئین کرام! بلوچستان کی وسیع زمین پر علم و آگاہی کے گلاب کھلانے اور جہالت کے مہیب سائے مٹانے کے لیے محکمہ تعلیم نے ایک ایسی ہمہ گیر مہم کا بیڑا اٹھایا ہے جس کے اثرات صوبے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 11 مارچ 2026 کو کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس محض ایک روایتی تقریب نہیں تھی بلکہ یہ بلوچستان کے تعلیمی مستقبل کی ایک نئی سمت کا تعین تھا۔ اس اہم ترین نشست کی صدارت سپیشل سیکرٹری تعلیم و چیئرمین داخلہ مہم، جناب عبدالسلام خان اچکزئی نے کی، جو اپنی انتظامی بصیرت اور تعلیمی معاملات پر گہری دسترس کی وجہ سے ایک معتبر نام ہیں۔ اس موقع پر تعلیمی نظام کے اہم ستون بھی موجود تھے، جن میں ڈائریکٹر سکولز جناب اختر محمد کھیتران، سی ای او بلوچستان اسیسمنٹ اینڈ ایگزامینیشن کمیشن جناب منیر احمد نودیزئی، ایڈیشنل ڈائریکٹریس محترمہ منور فاطمہ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ڈاکٹر نصیر، ڈسٹرکٹ آفس ایجوکیشن محترمہ ذکیہ، بی ای ایم آئی ایس (BEMIS) ڈیٹا اینالسٹ عزیز ترین، اور ایجوکیشن سپورٹ پروجیکٹ (یونیسیف کے تعاون سے) کے نقیب اللہ خلجی شامل تھے۔ ان تمام شخصیات کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ مہم ایک مربوط اور مضبوط انتظامی ڈھانچے کے تحت کام کر رہی ہے۔ عبدالسلام خان اچکزئی نے بریفنگ کے دوران مہم کے مقاصد اور اہداف پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ تعلیم کسی رعایت کا نام نہیں بلکہ یہ ہر بچے کا بنیادی حق ہے، جس کی فراہمی کے لیے محکمہ تعلیم دن رات کوشاں ہے۔ انہوں نے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے معاشرے کے تمام طبقات سے درد مندانہ اپیل کی کہ وہ ہر اس بچے کو جو سکول سے باہر ہے، تعلیمی اداروں تک پہنچانے اور ان کی رسائی یقینی بنانے کے لیے سرکاری مشن کا دست و بازو بنیں۔عبدالسلام خان اچکزئی کی قیادت میں اس مہم کو وزیر اعلیٰ بلوچستان، وزیر تعلیم اور سیکرٹری تعلیم کے اس واضح وژن کے تحت ترتیب دیا گیا ہے جس کا مقصد صوبہ بھر میں تعلیم کی رسائی اور معیار کو بلند کرنا ہے۔ ان کی دفتری جفاکشی اور فرائض کی بخوبی سرانجام دہی کا اندازہ ان ٹھوس اقدامات سے لگایا جا سکتا ہے جن کا تذکرہ انہوں نے پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ برسوں سے بند پڑے سکولوں کی دوبارہ فعالیت، کنٹریکٹ پر نئے اور قابل تدریسی عملے کی شفاف بھرتی، اور پیرنٹ ٹیچر سکول مینجمنٹ کمیٹیوں (PTSMCs) کے متحرک کردار کے ذریعے 3,000 سکولوں کی تعمیر و مرمت کا عظیم منصوبہ عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ عبدالسلام خان اچکزئی بشمول شعبہ تعلیم کے تمام اراکین محض کاغذی دعوؤں کے قائل نہیں بلکہ وہ زمینی حقائق کو بدلنے کی انتظامی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اساتذہ کی پیشہ ورانہ مہارتوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مسلسل تربیتی پروگراموں کا بھی ذکر کیا، کیونکہ ان کے نزدیک ایک باصلاحیت استاد ہی نسلوں کی تعمیر کا اصل معمار ہوتا ہے۔ ان کی گفتگو میں موجود خود اعتمادی اور انتظامی گرفت نے حاضرین کو یہ یقین دلایا کہ بلوچستان کی تعلیمی باگ ڈور ایک مخلص اور دور اندیش افسر کے پاس ہے۔اس مہم کا ایک اہم پہلو بی ای ایم آئی ایس (BEMIS) ڈیٹا اور یونیسیف جیسے بین الاقوامی اداروں کے تعاون کو یکجا کرنا ہے، تاکہ ہر فیصلے کی بنیاد درست اعداد و شمار پر ہو اور وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ عبدالسلام خان اچکزئی نے اپنی گفتگو میں اس مربوط و مضبوط نظام کی اہمیت اجاگر کی جو دور افتادہ اضلاع میں بھی تعلیم کی روشنی پہنچانے کا ضامن ہے۔ تقریب کے اختتام پر انہوں نے میڈیاء کے نمائندوں کی کوریج اور تعاون پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے صحافی برادری کو اس قومی مشن کا حصہ قرار دیا۔ ان کی متانت، سنجیدگی اور عوامی رابطے کے فن نے اس تقریب کو ایک نئی توانائی بخشی۔ بلاشبہ، عبدالسلام خان اچکزئی کی قیادت میں یہ داخلہ مہم اب ایک سماجی تحریک بن چکی ہے جو بلوچستان کے ہر گھر کی دہلیز پر دستک دے کر بچوں کو کتابوں سے جوڑ رہی ہے۔ ان کی انتظامی قابلیت اور تعلیمی اصلاحات کی بدولت آج بلوچستان کا تعلیمی منظرنامہ ایک مثبت اور پائیدار تبدیلی کی طرف گامزن ہے، جو مستقبل میں ایک پڑھے لکھے اور خوشحال صوبے کی ضمانت بنے گا۔ان شاءاللہ

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *