Banner

نئے عالمی نظام کی تشکیل لسانی قومیتیں اور معاشی استعمار

Share

Share This Post

or copy the link

محترم قارئین ۔ موجودہ صدی کے بدلتے ہوئے سیاسی تناظر میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ “گریٹ گیم” کے روایتی خاتمے کے بعد اب دنیا ایک ایسے نئے ورلڈ آرڈر کی جانب بڑھ رہی ہے جہاں جغرافیائی حدود کی ازسرِ نو ترتیب ناگزیر معلوم ہوتی ہے۔ اس نظریے کے مطابق، مستقبل کا عالمی نقشہ کسی نظریاتی یا نوآبادیاتی لکیروں کے بجائے خالصتاً لسانی اور سیکٹرئیل بنیادوں پر تشکیل دیا جائے گا۔ لیکن اب میری دانست میں نئے ورلڈ آرڈر کے تحت گریٹ گیم کے خاتمے کے بعد دنیا کی جغرافیائی تقسیم میں دُنیاوی نقشہ لسانی اور سیکٹرئیل بنیادوں پر ہوگی تب جاکے پشتونوں بلوچوں کُردوں اور ہر وہ قوم جسکو انگریزوں نے ۴ ٹکڑوں میں تقسیم کیا تھا وہ امریکی نظام میں ایک انتظامی اکائی بنائی جائے گی۔ یہ تجزیہ اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ انیسویں اور بیسویں صدی میں برطانیہ کی جانب سے کھینچی گئی مصنوعی سرحدیں، جنہوں نے پشتون، بلوچ اور کرد جیسی قدیم اقوام کو مختلف ریاستوں میں تقسیم کر دیا تھا، اب عالمی طاقتوں کے نئے دفاعی حکمت عملی مقاصد کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ چنانچہ، امریکی مفادات کے تحت ان منقسم اقوام کو ایک انتظامی اکائی کے طور پر یکجا کرنا اس نئے نظام کا اہم حصہ ہو سکتا ہے۔اس جغرافیائی ری مینوفیکچرنگ کے پیچھے چھپے مقاصد صرف سیاسی نہیں بلکہ گہرے معاشی مفادات سے جڑے ہوئے ہیں۔ نئے عالمی نظام میں طاقت کا توازن محض عسکری قبضے سے نہیں بلکہ “غیر مرئی” معاشی جکڑبندیوں سے برقرار رکھا جائے گا۔وہ اس لئے کہ امریکہ ان مُلکوں پر غیر مرئی (ہائی برڈ) وال سٹریٹ آئی ایم ایف ورلڈ بینک ایشئین ڈویلپمنٹ بنک اور یو ایس ایڈ سے معاشیات کو کنٹرول کری گے۔ یہ ہائی برڈ نظام دراصل جدید دور کا معاشی استعمار ہے، جہاں وال سٹریٹ کی سرمایہ کاری، آئی ایم ایف کے سخت مالیاتی پروگرام، ورلڈ بینک کی پالیسی سازی، اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے قرضے کسی بھی ریاست کی خود مختاری کو سلب کرنے کا موثر ہتھیار ثابت ہوتے ہیں۔ یو ایس ایڈ جیسے ادارے امداد کے نام پر نرم مداخلت کا راستہ ہموار کرتے ہیں، جس سے ان نئی بننے والی انتظامی اکائیوں کی داخلی اور خارجی پالیسیاں براہِ راست بین الاقوامی مالیاتی مراکز کے تابع ہو جاتی ہیں۔تاریخی طور پر دیکھا جائے تو جب بھی عالمی طاقتیں نئے نقشے ترتیب دیتی ہیں، ان کا محور وسائل کی ترسیل اور منڈیوں تک رسائی ہوتا ہے۔ پشتونوں، بلوچوں اور کردوں کے علاقوں کی جغرافیائی اہمیت، معدنی ذخائر اور دفاعی حکمت عملی محلِ وقوع انہیں اس نئی بنیاد پر اہم مہرے بناتا ہے۔ اگر ان اقوام کو ایک اکائی میں تبدیل کیا جاتا ہے، تو بظاہر یہ ان کی دیرینہ خواہش کی تکمیل نظر آئے گی، لیکن حقیقت میں یہ وال سٹریٹ اور عالمی مالیاتی اداروں کے لیے ایک ہموار اور یکساں معاشی زون کی تشکیل ہوگی۔ اس طرح، سرحدوں کی تبدیلی کے ذریعے پرانے نوآبادیاتی تنازعات کو ختم کر کے ایک ایسا عالمی نیٹ ورک قائم کیا جا رہا ہے جہاں ریاستیں صرف انتظامی یونٹس کے طور پر کام کریں گی، جبکہ ان کی معیشت کی نبضیں واشنگٹن اور نیویارک کے مالیاتی اداروں کے ہاتھ میں ہوں گی۔ یہ نیا ورلڈ آرڈر براہِ راست قبضے کے بجائے معاشی محکومی کے ذریعے دنیا کو کنٹرول کرنے کا ایک پیچیدہ مگر ٹھوس منصوبہ معلوم ہوتا ہے۔

نئے عالمی نظام کی تشکیل لسانی قومیتیں اور معاشی استعمار

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us