Banner

عالمی سطح پر فرنٹ میڈیاء کی اہمیت و اشاعت

featured
Share

Share This Post

or copy the link

صحافت منظر نامہ

عالمی سطح پر فرنٹ میڈیاء کی اہمیت و اشاعت

پروفیسر ڈاکٹر شاہینہ آصف ایک کامیاب ماہر امراض نسواں
قارئین صحافت ۔​عالمی منظر نامے پر پرنٹ میڈیاء محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ ان تہذیبوں کی ریڑھ کی ہڈی ہے جنہوں نے شعور اور علم کی بنیاد پر دنیا پر حکمرانی کی ہے، کیونکہ ترقی یافتہ ممالک میں اخبار اور جریدے کو ریاست کے چوتھے ستون کے طور پر نہ صرف تسلیم کیا جاتا ہے بلکہ اس سے وابستہ افراد کو معاشرے کا سب سے معتبر اور دانشور طبقہ سمجھ کر ان کی قدر و احترام کی جاتی ہے۔ امریکہ، یورپ اور جاپان جیسے ممالک میں آج بھی نیویارک ٹائمز، دی گارڈین اور ٹائمز جیسے اخبارات کی ایک سرخی عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دیتی ہے اور ایوانِ اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ طاری کر دیتی ہے، اس کی بنیادی وجہ وہ ناقابلِ تسخیر “اعتبار” ہے جو ان اداروں نے دہائیوں کی عرق ریزی، سخت ترین حقائق کی جانچ پڑتال اور غیر جانبدارانہ تجزیہ نگاری سے حاصل کیا ہے۔ عالمی سطح پر پرنٹ میڈیاء کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں کے پالیسی ساز ادارے، تھنک ٹینکس اور مورخین سوشل میڈیاء کی سنسنی خیزی کے بجائے چھپے ہوئے لفظ کو اپنی تحقیق کا ماخذ بناتے ہیں، کیونکہ عالمی دانشور جانتے ہیں کہ ڈیجیٹل دنیا کی معلومات ریت پر لکھی تحریر کی مانند ہیں جو کسی بھی وقت مٹائی جا سکتی ہیں لیکن پرنٹ میڈیاء کا ریکارڈ ایک ایسی “آرکائیو” ہے جو صدیوں تک عالمی عدالتوں اور تاریخ کی کتابوں میں بطورِ سند پیش کی جاتی ہے۔
​ترقی یافتہ معاشروں میں صحافی اور کالم نگار کو ایک “سوشل انجینئر” کا درجہ حاصل ہے جس کی رائے عامہ سازی میں کردار کو انتہائی مقدس مانا جاتا ہے، وہاں ایک تجربہ کار ایڈیٹر کی سماجی حیثیت کسی بھی اعلیٰ سرکاری عہدیدار سے کم نہیں ہوتی کیونکہ وہ اپنی تحریر سے معاشرے کی سمت متعین کرتا ہے۔ عالمی تاریخ کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو فرنٹ میڈیاء نے بڑے بڑے انقلابات کی آبیاری کی، جنگوں کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو بے نقاب کر کے ظالم حکمرانوں کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا، یہ سب کچھ اس “تحقیقی صحافت” (Investigative Journalism) کی بدولت ممکن ہوا جو صرف پرنٹ میڈیاء کا خاصہ ہے جہاں ایک ایک لفظ کی تصدیق کے لیے ہفتوں اور مہینوں صرف کیے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیاء کے برعکس جہاں “پہلے خبر دو” کی دوڑ لگی ہے، عالمی پرنٹ میڈیاء میں “پہلے سچ بولو” کا اصول رائج ہے، یہی وجہ ہے کہ جب کوئی بڑا عالمی لیڈر اپنی بات دنیا تک پہنچانا چاہتا ہے تو وہ کسی ٹویٹ یا وائرل ویڈیو کے بجائے ایک معتبر اخبار کو انٹرویو دینے یا اس میں مضمون لکھنے کو ترجیح دیتا ہے تاکہ اس کا موقف تاریخ کا حصہ بن سکے۔​بین الاقوامی سطح پر پرنٹ میڈیاء کی خدمات کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ اس نے مختلف زبانوں، ثقافتوں اور نسلوں کے درمیان ایک علمی پل کا کام کیا ہے، جہاں پشتو، اردو، عربی اور انگریزی کے عالمی شہرت یافتہ جرائد نے انسانیت کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے عالمی امن اور مکالمے کی فضاء قائم کی۔ عالمی دنیا میں فرنٹ میڈیاء کی ذمہ داری صرف معلومات کی فراہمی نہیں بلکہ یہ “حقِ سچ کی پہچان” کا وہ فلٹر ہے جو پروپیگنڈے کے شور میں سے حقیقت کو نکھار کر سامنے لاتا ہے، اس لیے ترقی یافتہ ممالک میں اخبار پڑھنا ایک روزمرہ کی عبادت اور ذہنی بالیدگی کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔ وہاں کے تعلیمی نظام میں بھی پرنٹ میڈیاء کے مقالوں کو بطورِ حوالہ پڑھایا جاتا ہے کیونکہ ان میں لسانی چاشنی، قواعد کی پختگی اور فکر کی گہرائی ہوتی ہے جو سوشل میڈیاء کی زبان میں ناپید ہے، لہٰذا عالمی منظر نامے پر پرنٹ میڈیاء کی اہمیت ایک ایسے روشن مینار کی ہے جو سمندر کے تلاطم میں کشتیوں کو راستہ دکھاتا ہے اور جس کی لو کبھی مدھم نہیں پڑتی۔ وہ تمام اقوام جو آج دنیا کی قیادت کر رہی ہیں، ان کی کامیابی کا ایک بڑا راز ان کے مضبوط اور آزاد پرنٹ میڈیاء میں پوشیدہ ہے جس نے ہمیشہ طاقتور کا احتساب کیا اور کمزور کی آواز بن کر عدل و انصاف کے قیام میں ریاست کی مدد کی، یہی وہ ٹھوس ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل دور کی تمام تر سہولتوں کے باوجود “قرطاس و قلم” کی حکمرانی رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔

عالمی سطح پر فرنٹ میڈیاء کی اہمیت و اشاعت

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us