Banner

پاکستان۔ قیام سے استحکام تک

featured
Share

Share This Post

or copy the link

محمدنسیم رنزوریار

پاکستان۔ قیام سے استحکام تک

قارئین کرام ۔ پاکستان کی تاریخ محض سات دہائیوں پر محیط کوئی قصہ نہیں بلکہ یہ ایک عظیم جدوجہد، تزویراتی اہمیت، اور بے پناہ انسانی ہمت کی داستان ہے۔ 14 اگست 1947 کو جب برصغیر کی تقسیم ہوئی، تو پاکستان کو ورثے میں صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ بے سروسامانی، لاکھوں مہاجرین کی آباد کاری کا چیلنج اور منقسم اثاثے ملے۔ ابتدائی برسوں میں ریاست کی بقاء ہی سب سے بڑا سوالیہ نشان تھی، لیکن قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت اور قوم کے جذبے نے ملک کو پیروں پر کھڑا کیا۔ معاشی طور پر پاکستان ایک زرعی معاشرت سے شروع ہوا جہاں صنعتی ڈھانچہ نہ ہونے کے برابر تھا، مگر 1960 کی دہائی تک پہنچتے پہنچتے پاکستان نے ترقیاتی دہائی کا مشاہدہ کیا، جس میں ایوب خان کے دور کے بڑے ڈیموں کی تعمیر اور صنعتی انقلاب نے ملک کو خطے میں ایک رول ماڈل بنا دیا۔پاکستان کی سماجی ساخت ہمیشہ سے تنوع اور تضادات کا مجموعہ رہی ہے۔ ایک طرف یہاں مضبوط قبائلی اور جاگیردارانہ نظام کی جڑیں گہری تھیں، تو دوسری طرف تیزی سے ابھرتا ہوا شہری متوسط طبقہ جدیدیت کا خواہاں رہا۔ 1970 کی دہائی پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی جب ملک کو سقوطِ ڈھاکہ کے عظیم المیے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سانحے نے پاکستانی قوم کو اپنی شناخت اور وفاق کی مضبوطی پر نئے سرے سے سوچنے پر مجبور کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں 1973 کا متفقہ آئین اور ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنا ایسے سنگ میل تھے جنہوں نے ریاست کو ایک نیا عمرانی معاہدہ اور ناقابلِ تسخیر دفاع فراہم کیا۔ تاہم، اسی دوران معیشت کے بڑے اداروں کو قومیا لینے کی پالیسی نے نجی شعبے کی حوصلہ شکنی کی، جس کے اثرات دہائیوں تک معاشی ترقی کی رفتار پر اثر انداز رہے۔1980 کی دہائی ضیاء الحق کے دور کے ساتھ آئی، جس نے پاکستانی معاشرت پر گہرے مذہبی اور سیاسی اثرات مرتب کیے۔ افغان جنگ میں پاکستان کی شمولیت نے جہاں اسے عالمی سطح پر ایک کلیدی کھلاڑی بنا دیا، وہاں ملک کے اندر کلاشنکوف کلچر اور منشیات کی لعنت نے جنم لیا۔ معاشی طور پر اس دور میں غیر ملکی امداد کی ریل پیل رہی، لیکن مستحکم صنعتی بنیادوں کے بجائے عارضی خوشحالی پر توجہ دی گئی۔ 90 کی دہائی میں جمہوریت کی بحالی تو ہوئی لیکن سیاسی عدم استحکام اور بار بار حکومتوں کی تبدیلی نے معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو نقصان پہنچایا۔ اسی دور میں 1998 میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے اپنی خود مختاری پر مہر ثبت کی، جس نے تزویراتی توازن کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔اکیسویں صدی کا آغاز نائن الیون کے واقعے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے ہوا، جس نے پاکستان کو ایک طویل اور لہو رنگ جدوجہد میں دھکیل دیا۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان نے 80 ہزار سے زائد جانوں اور اربوں ڈالرز کا معاشی نقصان اٹھایا، مگر پاک فوج اور عوام کے عزم نے اس فتنے کو شکست دی۔ معاشی محاذ پر سی پیک (CPEC) جیسے منصوبوں نے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد دی، تاہم بڑھتا ہوا بیرونی قرضہ اور گردشی گردگی قرضے اب بھی معیشت کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔ سماجی طور پر پاکستان آج ایک نوجوان ملک ہے، جہاں 60 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ڈیجیٹل انقلاب اور اسٹارٹ اپ کلچر کے ذریعے دنیا میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔آج کا پاکستان اپنی تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے سیاسی استحکام، معاشی خود انحصاری اور سماجی انصاف کی سخت ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور سیلاب جیسی آفات نے معیشت کو نئی آزمائشوں میں ڈالا ہے، مگر پاکستانی قوم کی ریزیلینس یا لچک ہمیشہ سے اس کا خاصہ رہی ہے۔ قیامِ پاکستان سے اب تک ہم نے بحرانوں سے نمٹنا سیکھ لیا ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان تجربات کی روشنی میں ایک ایسا پائیدار نظام وضع کریں جہاں قانون کی بالادستی ہو اور معاشی ثمرات نچلے طبقے تک پہنچ سکیں۔ پاکستان کی کہانی محض بقاء کی نہیں، بلکہ مسلسل ارتقاء اور امید کی وہ شمع ہے جو ہر اندھیرے کے بعد مزید روشنی کے ساتھ ابھرتی ہے۔

پاکستان۔ قیام سے استحکام تک

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us