Banner

خاموش زہر معاشرے کو کھا رہا ہے

featured
Share

Share This Post

or copy the link

خاموش زہر معاشرے کو کھا رہا ہے

تحریر محمد عبیدالله میرانی
صدر کورنگی پریس کلب کراچی

آج کا معاشرہ ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں ترقی آزادی اور جدیدیت کے نام پر اخلاقی حدود ٹوٹ رہی ہیں بظاہر سب کچھ بہتر نظر آتا ہے مگر اندرونی طور ایک خطرناک تبدیلی جنم لے رہی ہے جو آہستہ آہستہ معاشرے کی بنیادوں کو کمزور کر رہی ہے انسان چاند تک پہنچ چکا ہے ٹیکنالوجی عروج پر ہے لیکن اگر معاشرے سے حیا شرم اور اخلاقی اقدار ختم ہو جائیں تو یہ ترقی بھی بے معنی ہو جاتی ہے قرآن پاک میں سورۃ الاسراء کی آیت 32 میں واضح حکم دیا گیا ہے زنا کے قریب بھی نہ جاؤ بے شک یہ بڑی بے حیائی اور برا راستہ ہے یہ حکم اپنے اندر گہری حکمت رکھتا ہے اسلام صرف گناہ سے نہیں روکتا بلکہ ان تمام راستوں سے بھی منع کرتا ہے جو انسان کو اس گناہ کی طرف لے جاتے ہیں اسی طرح سورۃ النور میں اللہ تعالیٰ زنا کو ایک بڑا جرم قرار دیتے ہوئے سخت سزا بیان کرتا ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام میں پاکیزگی حیا اور عزت نفس کو کتنی اہمیت دی گئی ہے سورۃ الفرقان میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ زنا سے بچتے ہیں اور اپنے کردار کو پاک رکھنے کی کوشش کرتے ہیں قرآن پاک میں حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی قوم کا واقعہ بھی ایک بڑا سبق دیتا ہے جب اس قوم نے اخلاقی حدود کو توڑا اور بے حیائی کو عام کیا تو حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں بار بار خبردار کیا مگر وہ اپنے اعمال سے باز نہ آئے نتیجتاً اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت عذاب نازل کیا اور انہیں تباہ کر دیا یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ جب کوئی معاشرہ اخلاقی طور پر بگڑ جائے اور اپنی اصلاح کے لیے تیار نہ ہو تو اس کا انجام کتنا خطرناک ہو سکتا ہے یہ احکامات اور واقعات محض عبادات کا حصہ نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی نظام کے تحفظ کے لیے ہیں جب فرد اخلاقی حدود کو توڑتا ہے تو اس کے اثرات صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ خاندان محلہ شہر اور بالآخر پوری قوم متاثر ہوتی ہے آج سوشل میڈیا موبائل فون اور ڈیجیٹل دنیا نے نوجوانوں کو ایسے ماحول میں لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر چیز ایک کلک پر دستیاب ہے معلومات کے ساتھ ساتھ غیر اخلاقی مواد بھی آسانی سے پہنچ رہا ہے جس کے باعث نوجوان ذہنی دباؤ اور غلط راستوں کی طرف بڑھ رہے ہیں غیر اخلاقی مواد بے مقصد تعلقات اور غلط رجحانات عام ہو چکے ہیں نتیجتاً بلیک میلنگ نفسیاتی بیماریاں خودکشیاں اور قتل جیسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے کراچی سمیت ملک کے بڑے شہروں میں روزانہ ایسے کیسز سامنے آتے ہیں جہاں نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے پھنس جاتے ہیں پھر انہیں ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کیا جاتا ہے اور عزت کو ہتھیار بنایا جاتا ہے بہت سی زندگیاں اس عمل سے تباہ ہو چکی ہیں مگر ہم اب تک ان واقعات کو محض خبروں تک محدود رکھے ہوئے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ہر بڑا جرم کسی نہ کسی چھوٹی غلطی سے شروع ہوتا ہے ایک نظر ایک پیغام ایک غیر ضروری رابطہ آہستہ آہستہ انسان کو اس راستے پر لے جاتا ہے جہاں واپسی مشکل ہو جاتی ہے قرآن کا حکم بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قریب بھی نہ جاؤ یعنی ان تمام ذرائع سے بچو جو انسان کو گناہ کی طرف لے جاتے ہیں والدین کی مصروفیات تعلیمی اداروں میں اخلاقی تربیت کی کمی اور میڈیا کی غیر ذمہ داری نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے نوجوان تنہا رہ گیا ہے جسے نہ صحیح رہنمائی مل رہی ہے اور نہ ہی کوئی روکنے والا نظام موجود ہے سوال اب بھی دروازہ دستک دے رہا ہے کہ کیا ہم اس خاموش زہر کو پہچاننے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں یا اب بھی اسے نظر انداز کرتے ہوئے اس کا حصہ بنتے جا رہے ہیں

خاموش زہر معاشرے کو کھا رہا ہے

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us