Banner
Daily Sahafat Quetta
November 6, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
مستحق شہری کے علاج، روزگار اور بنیادی سہولیات سے محرومی برداشت نہیں کریں گے، وزیراعلیٰ بلوچستانپشاور: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایم این اے نور عالم کا بھانجا و نادرا کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر جاں بحقسونے و چاندی کی قیمتوں میں غیر متوقع طور پر بڑی کمیبانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق اطلاعات حوصلہ افزا نہیں، بیرسٹر گوہربرطانیہ اور پاکستان کا نادرا، سائبر کرائم، انسداد منشیات، ویزا فراڈ کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاقشورِ عنادل۔۔۔ لفظوں کی خوشبو، احساس کی موسیقی اور محبت کا نغمہمولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کی مبینہ ڈرون عکس بندی کے خلاف اوستہ محمد میں احتجاجعوامی مسائل کے حل کے لیے مثبت اور تعمیری صحافت وقت کی ضرورت ہے، میر اورنگزیب خان دیناریمشکل وقت میں ساتھ دینے والوں کا شکر گزار ہوں، آئندہ بھی ان کے ساتھ کھڑا رہوں گا، سردار امیر بخش بھٹوپیٹرول اور ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز کا کرایوں میں 5 فیصد کمی کا اعلانمستحق شہری کے علاج، روزگار اور بنیادی سہولیات سے محرومی برداشت نہیں کریں گے، وزیراعلیٰ بلوچستانپشاور: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایم این اے نور عالم کا بھانجا و نادرا کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر جاں بحقسونے و چاندی کی قیمتوں میں غیر متوقع طور پر بڑی کمیبانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق اطلاعات حوصلہ افزا نہیں، بیرسٹر گوہربرطانیہ اور پاکستان کا نادرا، سائبر کرائم، انسداد منشیات، ویزا فراڈ کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاقشورِ عنادل۔۔۔ لفظوں کی خوشبو، احساس کی موسیقی اور محبت کا نغمہمولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کی مبینہ ڈرون عکس بندی کے خلاف اوستہ محمد میں احتجاجعوامی مسائل کے حل کے لیے مثبت اور تعمیری صحافت وقت کی ضرورت ہے، میر اورنگزیب خان دیناریمشکل وقت میں ساتھ دینے والوں کا شکر گزار ہوں، آئندہ بھی ان کے ساتھ کھڑا رہوں گا، سردار امیر بخش بھٹوپیٹرول اور ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز کا کرایوں میں 5 فیصد کمی کا اعلان

خاموش زہر معاشرے کو کھا رہا ہے

خاموش زہر معاشرے کو کھا رہا ہے

تحریر محمد عبیدالله میرانی
صدر کورنگی پریس کلب کراچی

آج کا معاشرہ ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں ترقی آزادی اور جدیدیت کے نام پر اخلاقی حدود ٹوٹ رہی ہیں بظاہر سب کچھ بہتر نظر آتا ہے مگر اندرونی طور ایک خطرناک تبدیلی جنم لے رہی ہے جو آہستہ آہستہ معاشرے کی بنیادوں کو کمزور کر رہی ہے انسان چاند تک پہنچ چکا ہے ٹیکنالوجی عروج پر ہے لیکن اگر معاشرے سے حیا شرم اور اخلاقی اقدار ختم ہو جائیں تو یہ ترقی بھی بے معنی ہو جاتی ہے قرآن پاک میں سورۃ الاسراء کی آیت 32 میں واضح حکم دیا گیا ہے زنا کے قریب بھی نہ جاؤ بے شک یہ بڑی بے حیائی اور برا راستہ ہے یہ حکم اپنے اندر گہری حکمت رکھتا ہے اسلام صرف گناہ سے نہیں روکتا بلکہ ان تمام راستوں سے بھی منع کرتا ہے جو انسان کو اس گناہ کی طرف لے جاتے ہیں اسی طرح سورۃ النور میں اللہ تعالیٰ زنا کو ایک بڑا جرم قرار دیتے ہوئے سخت سزا بیان کرتا ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام میں پاکیزگی حیا اور عزت نفس کو کتنی اہمیت دی گئی ہے سورۃ الفرقان میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ زنا سے بچتے ہیں اور اپنے کردار کو پاک رکھنے کی کوشش کرتے ہیں قرآن پاک میں حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی قوم کا واقعہ بھی ایک بڑا سبق دیتا ہے جب اس قوم نے اخلاقی حدود کو توڑا اور بے حیائی کو عام کیا تو حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں بار بار خبردار کیا مگر وہ اپنے اعمال سے باز نہ آئے نتیجتاً اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت عذاب نازل کیا اور انہیں تباہ کر دیا یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ جب کوئی معاشرہ اخلاقی طور پر بگڑ جائے اور اپنی اصلاح کے لیے تیار نہ ہو تو اس کا انجام کتنا خطرناک ہو سکتا ہے یہ احکامات اور واقعات محض عبادات کا حصہ نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی نظام کے تحفظ کے لیے ہیں جب فرد اخلاقی حدود کو توڑتا ہے تو اس کے اثرات صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ خاندان محلہ شہر اور بالآخر پوری قوم متاثر ہوتی ہے آج سوشل میڈیا موبائل فون اور ڈیجیٹل دنیا نے نوجوانوں کو ایسے ماحول میں لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر چیز ایک کلک پر دستیاب ہے معلومات کے ساتھ ساتھ غیر اخلاقی مواد بھی آسانی سے پہنچ رہا ہے جس کے باعث نوجوان ذہنی دباؤ اور غلط راستوں کی طرف بڑھ رہے ہیں غیر اخلاقی مواد بے مقصد تعلقات اور غلط رجحانات عام ہو چکے ہیں نتیجتاً بلیک میلنگ نفسیاتی بیماریاں خودکشیاں اور قتل جیسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے کراچی سمیت ملک کے بڑے شہروں میں روزانہ ایسے کیسز سامنے آتے ہیں جہاں نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے پھنس جاتے ہیں پھر انہیں ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کیا جاتا ہے اور عزت کو ہتھیار بنایا جاتا ہے بہت سی زندگیاں اس عمل سے تباہ ہو چکی ہیں مگر ہم اب تک ان واقعات کو محض خبروں تک محدود رکھے ہوئے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ہر بڑا جرم کسی نہ کسی چھوٹی غلطی سے شروع ہوتا ہے ایک نظر ایک پیغام ایک غیر ضروری رابطہ آہستہ آہستہ انسان کو اس راستے پر لے جاتا ہے جہاں واپسی مشکل ہو جاتی ہے قرآن کا حکم بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قریب بھی نہ جاؤ یعنی ان تمام ذرائع سے بچو جو انسان کو گناہ کی طرف لے جاتے ہیں والدین کی مصروفیات تعلیمی اداروں میں اخلاقی تربیت کی کمی اور میڈیا کی غیر ذمہ داری نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے نوجوان تنہا رہ گیا ہے جسے نہ صحیح رہنمائی مل رہی ہے اور نہ ہی کوئی روکنے والا نظام موجود ہے سوال اب بھی دروازہ دستک دے رہا ہے کہ کیا ہم اس خاموش زہر کو پہچاننے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں یا اب بھی اسے نظر انداز کرتے ہوئے اس کا حصہ بنتے جا رہے ہیں

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *