Banner

پی ڈی ایم اے بلوچستان: بحران سے ردعمل تک نہیں بلکہ ریاستی طاقت اور عوامی اعتماد کی علامت بننے کا سفر

featured
Share

Share This Post

or copy the link

— تحریر: آغا سید حیدر شاہ —

بلوچستان جیسے صوبے میں جہاں آفات کوئی وقتی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل حقیقت ہیں وہاں اداروں کی اصل پہچان ان کے دعوؤں سے نہیں بلکہ میدانِ عمل میں ان کی کارکردگی سے ہوتی ہے اور اسی تناظر میں Provincial Disaster Management Authority Balochistan کی کارکردگی سنجیدہ توجہ کی مستحق ہے کیونکہ آج جو منظر سامنے آ رہا ہے وہ محض ایک سرکاری ادارے کی روایتی کارکردگی نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی تدریجی تبدیلی ہے جو کبھی صرف ردعمل تک محدود تھا مگر اب بتدریج پیشگی تیاری، بہتر تنظیم اور مستقبل کی حکمت عملی کی جانب بڑھ رہا ہے، اصل سوال یہ نہیں کہ چیلنجز موجود ہیں یا نہیں کیونکہ بلوچستان جیسے خطے میں سیلاب، خشک سالی، زلزلے اور سماجی و معاشی مسائل ہمیشہ موجود رہیں گے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ادارہ ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تبدیل کر رہا ہے اور اس حوالے سے پی ڈی ایم اے بلوچستان واضح طور پر ارتقاء کے عمل سے گزر رہا ہے، صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کا قیام محض ایک انفراسٹرکچر نہیں بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ اب رابطہ کاری اور بروقت فیصلے ترجیح بن چکے ہیں، اسی طرح World Food Programme کے تعاون سے ہیومینٹیرین ذخیرہ گاہوں کا قیام اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ ادارہ اب صرف آخری لمحے کے ردعمل کے بجائے پیشگی تیاری پر یقین رکھتا ہے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی ادارے کی کامیابی صرف سہولیات سے نہیں بلکہ اس کی رسائی سے ناپی جاتی ہے اور یہاں 80 ہزار سے زائد متاثرہ خاندانوں تک امداد کی فراہمی اس بات کا ثبوت ہے کہ نظام مکمل طور پر زمینی حقائق سے کٹا ہوا نہیں، مگر یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا کیونکہ ناقص شہری منصوبہ بندی، قدرتی آبی گزرگاہوں پر تجاوزات اور ڈیزاسٹر آگاہی کی کمی جیسے مسائل اب بھی خطرات کو بڑھا رہے ہیں، مثبت پہلو یہ ہے کہ World Bank کے اشتراک سے موسمیاتی تبدیلی کے مطابق مکانات کی تعمیر جیسے اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ادارہ عارضی حل کے بجائے طویل مدتی سوچ اختیار کر رہا ہے جبکہ گوادر میں United Nations Development Programme کے تعاون سے سونامی ارلی وارننگ سسٹم کی تنصیب اس بات کا ثبوت ہے کہ اب ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو مقامی نہیں بلکہ عالمی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم یہ بھی واضح ہے کہ ٹیکنالوجی اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک اس کے ساتھ تربیت یافتہ افرادی قوت اور مستقل پالیسی سمت موجود نہ ہو اور یہی وہ مقام ہے جہاں صلاحیت سازی، ریسکیو ٹریننگ اور ریسکیو 1122 کے پھیلاؤ جیسے اقدامات انتہائی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں کیونکہ مضبوط ریسپانس فورس کے بغیر بہترین نظام بھی بے اثر ہو جاتا ہے، ایک اور مثبت پہلو یہ ہے کہ National Disaster Management Authority Pakistan اور PDMA Sindh جیسے اداروں کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو اب ایک مشترکہ قومی ذمہ داری کے طور پر لیا جا رہا ہے، تاہم ایک تنقیدی نظر یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ کیا روک تھام کے حوالے سے کافی اقدامات کیے جا رہے ہیں کیونکہ حقیقی کامیابی تب ہوتی ہے جب تباہی کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے خطرات کو کم کیا جائے اور اس کے لیے جی آئی ایس بیسڈ رسک اسیسمنٹ، غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت اقدامات اور جدید ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کا قیام ناگزیر ہے، Asian Development Bank جیسے عالمی اداروں کی جانب سے اعتراف اور International Federation of Red Cross and Red Crescent Societies اور United Nations Office for the Coordination of Humanitarian Affairs جیسے اداروں کا تعاون یقیناً پی ڈی ایم اے کی ساکھ کو مضبوط بناتا ہے مگر ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے تسلسل، شفافیت اور جوابدہی بھی ضروری ہے، Pakistan Bureau of Statistics کے اعداد و شمار اور Oxford Policy Management کی تحقیق میں 60 سے 75 فیصد بہتری کی نشاندہی حوصلہ افزا ہے مگر یہ بہتری کسی بھی صورت اطمینان کا باعث نہیں بننی چاہیے کیونکہ بلوچستان کے چیلنجز بھی اسی قدر بڑے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ پی ڈی ایم اے بلوچستان اس وقت ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں اس نے اپنی ابتدائی کمزوریوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے مگر ابھی اپنی مکمل صلاحیت تک نہیں پہنچا اور یہی عبوری مرحلہ فیصلہ کرے گا کہ آیا یہ ادارہ ایک مثالی ماڈل بنے گا یا ایک جزوی کامیابی تک محدود رہے گا، میری رائے میں سمت درست ہے، نیت واضح ہے اور پیش رفت قابلِ ذکر ہے مگر وقت کا تقاضا ہے کہ رفتار تیز کی جائے، دائرہ کار وسیع کیا جائے اور ادارہ جاتی اصلاحات کو مزید گہرا کیا جائے کیونکہ بلوچستان کے عوام کو صرف آفات کے بعد امداد نہیں بلکہ آفات سے پہلے تحفظ درکار ہے اور اگر پی ڈی ایم اے اسی سمت میں مضبوطی، تسلسل اور جوابدہی کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو یہ ادارہ محض ایک ڈیزاسٹر رسپانس اتھارٹی نہیں بلکہ استقامت، حکمرانی اور عوامی اعتماد کا حقیقی ستون بن سکتا ہے۔

پی ڈی ایم اے بلوچستان: بحران سے ردعمل تک نہیں بلکہ ریاستی طاقت اور عوامی اعتماد کی علامت بننے کا سفر

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us