Banner

لہو سے گلاب تک۔ میرے گلستان کی تعمیرِ نو اور بقاء کی داستان

featured
Share

Share This Post

or copy the link

احمدخان اچکزئی

لہو سے گلاب تک۔ میرے گلستان کی تعمیرِ نو اور بقاء کی داستان

محترم قارئین! تاریخ کے اوراق جب بھی جنوبی پشتونخوا کے سحر انگیز خطہ “گلستان” کا باب کھولیں گے، تو وہاں ایک ایسی داستانِ ہوش ربا رقم ملے گی جو مسرتوں کے عروج سے شروع ہو کر وحشت ناک مقتل میں ڈوبی اور پھر ایک معجزاتی طلوعِ سحر پر منتج ہوئی۔ ۱۹۹۰ء سے قبل کا گلستان، جسے میں نے اپنی آنکھوں میں بسایا تھا، محض ایک جغرافیائی لکیر نہیں بلکہ پاک افغان سرحد کے آر پار بسنے والے پشتونوں کے لیے شادمانی کا وہ مرکز تھا جہاں زندگی اپنے پورے جوبن کے ساتھ رقص کرتی تھی۔ وہ گلستان میلوں اور خوشیوں کا ایک ایسا گہوارہ تھا جہاں عید کے تین دنوں میں پاکستان اور افغانستان سے لوگ جوق در جوق شامل ہوتے تھے؛ وہاں کی فضائیں بیلتون جیسے لیجنڈ گائک کے نغموں اور متعدد غزل گو اساتذہ کی تانوں سے معطر رہتی تھیں۔ اس ثقافتی کہکشاں کا سب سے دلکش رنگ وہ اکھاڑے تھے جہاں دونوں ممالک سے “غیژ” یعنی پشتون ریسلنگ کے مشہور پہلوانوں کے مقابلے ہوتے تھے، جو محض طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ سرحد پار بھائی چارے کی ایک ایسی عالمی مثال تھی جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ وہ میرا گلستان واقعی ایک گلزار تھا جہاں قہقہوں کی فصل اگتی تھی، مگر افسوس کہ ستمبر کی ایک سیاہ شام نے اس ہنستے بستے چمن کو راکھ اور بارود کے سپرد کر دیا۔
۱۹۹۰ء کے ستمبر کی ۲۰ تاریخ کو سرانان کے قریب شادیزئی اڈے کے مقام پر میرے والدِ محترم، غبیزئی قوم کے معتبر سربراہ حاجی محمد خان اچکزئی (کاکا شہید) اور میرے دو بھائیوں حبیب اللہ خان اور عبدالصمد خان کو، ٹھوس شواہد و اطلاعات کے مطابق محمود خان اچکزئی کے ڈیتھ سکواڈ نے شہید کر دیا۔ اس ایک خونی واردات نے گلستان کی تقدیر پر وہ سیاہ دھبہ لگایا کہ اس دن کے بعد یہاں کے میلے، خوشیاں اور ہریالی خون آشام اذیت میں بدل گئے۔ انتقام کی وہ آگ بھڑکی جس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا؛ سینکڑوں لوگ لقمہ اجل بنے، کھربوں کی جائیدادیں تباہ ہوئیں اور آباد گاؤں کے گاؤں اجڑ گئے۔ دہائیوں تک یہاں بارود کی بو اور جنازوں کے نوحے گونجتے رہے اور وہ میلے جو کبھی ہماری شناخت تھے، قصہ پارینہ بن گئے۔لیکن میں مانتا ہوں کہ قدرت کو اس مٹی کا نصیب بدلنا منظور تھا۔ ۳۶ سالہ طویل و صبر آزما مسافت اور جلاوطنی کا کرب جھیلنے کے بعد، جب میں نے دوبارہ اپنے آباؤ اجداد کی اس مٹی پر قدم رکھا، تو میرا مقصد محض واپسی نہیں بلکہ اس مرجھائی ہوئی بستی میں زندگی کی نئی لہر دوڑانا تھا۔ مجھے فخر ہے کہ پچھلے چھ سالوں سے میری موجودگی میں گلستان کو ایک نئی زندگی ملی ہے اور اس میں دوبارہ وہی پرانی روح سرایت کر رہی ہے۔ میں نے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیں تاکہ دشمنیوں کی جگہ اخوت لے، تعلیمی ادارے آباد ہوں اور وہ معاشرتی ڈھانچہ جو بکھر چکا تھا، دوبارہ یکجا ہو جائے۔آج کا گلستان اپنی تاریخ کے اس حیران کن اور نیک شگون مرحلے پر کھڑا ہے جہاں ۳۶ سالوں کے طویل ترین تعطل کے بعد دوبارہ میلوں کا اجراء ہوا ہے۔ ان میلوں میں روح پھونکنا صرف میرا خواب نہیں بلکہ ایک مری ہوئی بستی کا دوبارہ جی اٹھنا اور لہو کے سمندر سے گلابوں کی فصل کشید کرنا ہے۔ میں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ ملبے کے ڈھیر سے امن کا شاہکار تخلیق کر کے رہوں گا، کیونکہ میری واپسی اس سچائی کی گواہ ہے کہ جب ارادے پہاڑوں سے بلند ہوں تو ظلم کی سیاہ ترین رات بھی سحر کی تابناکی کو نہیں روک سکتی۔ یہ نیا گلستان، میرا عزم اور آپ کا بھائی چارہ اب کبھی نہیں بکھرے گا۔

لہو سے گلاب تک۔ میرے گلستان کی تعمیرِ نو اور بقاء کی داستان

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us