حب میں جبری گمشدگیوں پر اہلِ خانہ کا احتجاج، ’ہانی بلوچ آٹھ ماہ سے حاملہ ہیں، انھیں اس وقت علاج کی ضرورت ہے‘

featured
Share

Share This Post

or copy the link

بلوچستان کے شہر حب کی رہائشی بی بی نسیمہ کا کہنا ہے کہ آٹھ ماہ سے حاملہ ان کی بہو ہانی بلوچ کی جبری گمشدگی نے گھر اور خاندان کا سکون غارت کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کی بہو کو نگہداشت اور علاج کی ضرورت ہے جبکہ انھیں اہل خانہ سے دور کسی نامعلوم مقام پر رکھا ہوا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ہانی بلوچ کی دو کمسن بچیاں اپنی والدہ کی غیر موجودگی میں ہر وقت روتی رہتی ہیں اور انھیں سنبھالنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔

بی بی نسیمہ نے الزام عائد کیا کہ نہ صرف ان کی بہو بلکہ ایک اور خاتون سمیت خاندان کے چار افراد کو مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق خواتین کو حب سے جبکہ دونوں مرد رشتہ داروں کو ضلع کیچ سے اٹھایا گیا۔

ان افراد کی بازیابی کے لیے خواتین اور بچوں نے ایک بار پھر گوادر اور کوئٹہ کے درمیان سی پیک شاہراہ پر احتجاج شروع کر دیا ہے۔ بی بی نسیمہ کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے مذاکرات کے دوران جو یقین دہانی کرائی گئی تھی، اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

متعدد بار کوشش کے باوجود کیچ اور حب کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام سے مؤقف حاصل نہیں کیا جا سکا۔ تاہم سی ٹی ڈی اور کیچ میں سکیورٹی فورسز کے حکام نے ان افراد کو لاپتہ کرنے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

بلوچستان اسمبلی کی حکومتی رکن فرح عظیم شاہ نے بھی حکومت اور ریاستی اداروں پر جبری گمشدگی کے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے دعوے دشمن کے بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف ہیں۔

حب میں جبری گمشدگیوں پر اہلِ خانہ کا احتجاج، ’ہانی بلوچ آٹھ ماہ سے حاملہ ہیں، انھیں اس وقت علاج کی ضرورت ہے‘

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us