ماما قدیر بلوچ: بلوچستان کے لاپتہ افراد کی آواز، جن کی جنیوا تک لانگ مارچ کی خواہش پوری نہ ہو سکی

featured
Share

Share This Post

or copy the link

بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے طویل عرصے سے جدوجہد کرنے والے ماما قدیر بلوچ سنیچر کے روز انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر 85 برس تھی۔

وہ رواں سال عید الفطرکے بعد سے بیمار تھے جبکہ چند روز سے وہ کوئٹہ کے ایک نجی ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر تھے۔

ان کے بیٹے بجار ریکی نے بی بی سی کو ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ماما قدیر کی وصیت کے مطابق ان کی تدفین ان کے آبائی علاقے سوراب میں کی جائے گی۔

لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ قدیر بلوچ دمے کے عارضے میں مبتلا تھے جبکہ چند ہفتے قبل ان میں ٹی بی کی تشخیص کے علاوہ جگر میں مسئلے کی نشاندہی بھی ہوئی تھی۔

لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ نے ماما قدیر کی موت پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اور اس دوران کوئٹہ میں احتجاجی بھوک ہڑتالی کیمپ بھی بند رہے گا۔ماما قدیر نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پاکستان کی تاریخ میں طویل ترین لانگ مارچ بھی کیا تھا۔

ماما قدیر بلوچ: بلوچستان کے لاپتہ افراد کی آواز، جن کی جنیوا تک لانگ مارچ کی خواہش پوری نہ ہو سکی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us