Banner

تقدیر کے ستارے یا خودی کا آفتاب؟

featured
Share

Share This Post

or copy the link

تقدیر کے ستارے یا خودی کا آفتاب؟
اقبال کی فکر کا ایک درخشاں استعارہ

منشاقاضی
حسبِ منشا

برصغیر کی فکری و روحانی تاریخ میں جب بھی بیداری، خودی اور انسان کی داخلی قوتوں کا ذکر ہوگا تو علامہ اقبال کا نام ایک درخشاں ستارے کی طرح جگمگاتا نظر آئے گا۔ اقبال کی شاعری صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب، ایک روحانی بیداری اور ایک زندہ فلسفہ ہے جو انسان کو اپنی تقدیر کا معمار بننے کی دعوت دیتا ہے۔ ان کے اشعار میں رمز و ایما، علامت اور فلسفہ اس انداز سے یکجا ہو جاتے ہیں کہ ہر شعر ایک کائناتِ معنی بن جاتا ہے۔
اقبال کا یہ شعر اسی فکری روایت کا ایک گہرا اور بامعنی استعارہ ہے:
ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخیِ افلاک میں ہے خوار و زبوں

یہ شعر دراصل اس قدیم تصور پر ایک فکری ضرب ہے جس میں انسان اپنی تقدیر کو ستاروں، برجوں اور فلکی گردشوں سے وابستہ سمجھتا رہا ہے۔
انسانی تاریخ میں صدیوں تک یہ عقیدہ رائج رہا کہ انسان کی زندگی، اس کی کامیابی و ناکامی اور اس کی تقدیر ستاروں کی گردش سے وابستہ ہے۔ علمِ نجوم کے ماننے والے سمجھتے تھے کہ آسمان پر موجود ستارے انسان کی زندگی کے رازوں کے نگہبان ہیں۔
مگر اقبال اس تصور کو چیلنج کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جس ستارے کو انسان اپنی تقدیر کا رازدان سمجھ رہا ہے، وہ خود اس وسیع و عریض آسمان میں بے بس اور بے اختیار ہے۔ یعنی:
* جو خود مجبور ہے وہ کسی دوسرے کی تقدیر کیسے بتا سکتا ہے؟
* جو خود گردشِ فلک کا اسیر ہے وہ کسی اور کی قسمت کا حاکم کیسے بن سکتا ہے؟
یہاں اقبال انسان کو ایک عظیم پیغام دیتے ہیں کہ تقدیر آسمان کے ستاروں میں نہیں بلکہ انسان کے اندر چھپی ہوئی ہے۔
اقبال نے ستارے کے لیئے “خوار و زبوں” کا لفظ استعمال کیا ہے۔ بظاہر ستارے آسمان کی بلندیوں میں جگمگاتے نظر آتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ بھی قوانینِ فطرت کے پابند ہیں۔ وہ نہ اپنی روش بدل سکتے ہیں اور نہ اپنی گردش۔
یہاں اقبال ایک لطیف فلسفیانہ نکتہ بیان کرتے ہیں:
ظاہری بلندی ہمیشہ حقیقی آزادی کی علامت نہیں ہوتی۔
آسمان پر چمکنے والا ستارہ بھی مجبور ہے، مگر انسان اگر اپنی خودی کو پہچان لے تو وہ ستاروں سے بھی بلند مقام حاصل کر سکتا ہے۔
اقبال کا بنیادی فلسفہ خودی ہے۔ ان کے نزدیک انسان کا اصل مقام یہ ہے کہ وہ اپنی اندرونی قوتوں کو پہچانے اور اپنی تقدیر خود تخلیق کرے۔
اقبال کہتے ہیں:
انسان اگر بیدار ہو جائے تو وہ محض تقدیر کا محکوم نہیں رہتا بلکہ تقدیر کا خالق بن جاتا ہے۔
اسی لیئے اقبال کی شاعری میں بار بار یہ پیغام ملتا ہے کہ:
انسان ستاروں کا محتاج نہیں، بلکہ اس کی نگاہ ستاروں سے آگے تک جا سکتی ہے۔
یہی فکر اقبال کے ایک اور شعر میں یوں جلوہ گر ہوتی ہے:

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

یہ پیغام دراصل انسانی عظمت کا اعلان ہے..
اقبال کے نزدیک تقدیر کوئی جامد یا پہلے سے لکھی ہوئی داستان نہیں بلکہ ایک مسلسل تخلیقی عمل ہے۔
انسان اپنی محنت، ارادے اور یقین کے ذریعے اپنی زندگی کا راستہ بدل سکتا ہے۔
اقبال کے اس شعر کا اصل مفہوم یہی ہے کہ:
جو شخص اپنی تقدیر ستاروں سے پوچھتا ہے وہ اپنی قوتوں سے غافل ہے۔
اصل طاقت انسان کے اپنے ارادے، عمل اور ایمان میں پوشیدہ ہے۔
آج بھی معاشرے میں بہت سے لوگ اپنی ناکامیوں کو قسمت، ستاروں یا حالات پر ڈال دیتے ہیں۔ مگر اقبال ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ:
انسان کی اصل قوت اس کی خودی اور اس کا عمل ہے۔
جو قومیں اپنی تقدیر کا انتظار کرتی ہیں وہ پیچھے رہ جاتی ہیں، اور جو قومیں اپنی تقدیر خود بناتی ہیں وہ تاریخ کا رخ بدل دیتی ہیں۔
اقبال کا یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ:
ہم ستاروں سے سوال کرنے کے بجائے اپنے اندر کے سورج کو جگائیں…
اقبال کی شاعری دراصل انسان کو اپنی عظمت کا احساس دلانے کی شاعری ہے۔ وہ انسان کو یہ بتاتے ہیں کہ اس کی اصل طاقت آسمان کے ستاروں میں نہیں بلکہ اس کے اپنے دل، ارادے اور شعور میں پوشیدہ ہے۔
اقبال کا یہ شعر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ:
انسان اگر اپنی خودی کو پہچان لے تو وہ تقدیر کا محتاج نہیں رہتا بلکہ تقدیر کا معمار بن جاتا ہے۔
اسی حقیقت کو ایک جملے میں یوں کہا جا سکتا ہے:
ستارے انسان کی تقدیر نہیں لکھتے،
بلکہ بیدار انسان اپنی روشنی سے ستاروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔گزشتہ ہفتے بہترین ماہرِ نجوم کے سیمینار کا انعقاد دبئی میں کرایا گیا تھا تاکہ وہ بتا سکیں کہ آئندہ پانچ سال میں دنیا میں کیا بڑے واقعات رونما ہو سکتے ہیں اب وہ بے بس ماہر نجوم پچھلے دو ہفتوں سے دبئی میں پھنسے ہوئے ہیں اور مجھے علامہ اقبال کا یہ شعر یاد آ رہا ہے۔

کہ

ستارہ کیا میری تقدیر کی خبر دے گا

وہ تو خود ہے فراخی ء افلاک میں خوار و زبوں

تقدیر کے ستارے یا خودی کا آفتاب؟

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us