اراکین بلوچستان اسمبلی نے کہا ہے کہ اس سال ماہ رمضا ن المبار ک کے مقد س مہینے میں حکومت کی جانب سے رمضان پیکیج میں بے ضابطگیاں ہو ئی ہے ہر سال کی طر ح اس سال بھی 6 ارب روپے کا ٹینڈر نہیں کیا گیا ہے قانون کے مطابق ان کی ٹینڈر ہونے کے بعد مستحق افراد میں راشن کی تقسیم کی جائے لیکن یہاں صورتحا ل ان کے برعکس ہے پی ڈی ایم اے کو ایک مورہ سمجھ کر اربوں روپے کی کرپشن کی جارہی ہے جس کا آڈٹ پورٹ کی جائے ‘ان خیالا ت کااظہار پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹرز میر لیاقت علی لہڑی عبدلصمد گورگیج اور دیگر نے بیان جاری کرتے ہوئے کیا انہوںنے کہا کہوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے اعلان کردہ رمضان ریلیف پیکج کی تقسیم کے معاملے پر بلوچستان کی سیاسی فضا مکدر ہو گئی پیپلز پارٹی کے اراکین صوبائی اسمبلی نے انتظامیہ (ڈپٹی کمشنرز) کے رویے اور وعدہ خلافی کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اراکینِ اسمبلی کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنرز نے ان سے فی حلقہ 6,000 راشن بیگز کی فہرستیں طلب کی تھیں، لیکن عملی طور پر بیشتر اراکین کو صرف 800 سے 1200 تک راشن فراہم کیا گیا ہے ایک طرف پیپلز پارٹی کے اراکین کو ان کا پورا کوٹہ نہیں دیا جا رہا، تو دوسری طرف جمیعت علمائے اسلام اور دیگر جماعتوں کے اراکین کو 7,000 تک راشن بیگز فراہم کیے گئے ہیں انہوںنے کہا کہ بیوروکریسی کا اثر و رسوخ: عوامی نمائندوں کو نظر انداز کر کے راشن کی بڑی مقدار NGOs اور بیوروکریسی کے منظورِ نظر افراد کے ذریعے تقسیم کی جا رہی ہے، جو کہ عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے اراکینِ اسمبلی نے بیان میں واضح کیا کہ “ہمارے گھروں پر مستحق عوام کا دن رات ہجوم لگا رہتا ہے۔ لوگ امید لے کر ہمارے پاس آتے ہیں، لیکن انتظامیہ کی نااہلی اور وعدہ خلافی کی وجہ سے ہم عوام کو جواب دینے سے قاصر ہیں۔ کیا ہمارے حلقے کے غریب عوام اس رمضان پیکج کے حقدار نہیں؟
رمضان پیکج میں اربوں روپے کی کرپشن کی گئی ،اراکین بلوچستان اسمبلی



