Banner

ماں کے ہاتھوں بچوں کا قتل: معاشرتی نظام پر سوالیہ نشان

Share

Share This Post

or copy the link


تحریر: بنتِ حوا شاہین اختر حسین
(فیملی اینڈ ریلیشن شپ کنسلٹنٹ)

آج کل خبروں میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ گردش کر رہا ہے، جہاں ایک ماں نے اپنے ہی تین بچوں کو قتل کر دیا۔ بظاہر یہ ایک سنگین جرم ہے، مگر اگر ہم اس واقعے کو محض ایک خبر کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک تجزیاتی نظر سے سمجھنے کی کوشش کریں، تو یہ ہمارے معاشرے کے ایک نہایت خطرناک اور نظر انداز کیے جانے والے پہلو کو بے نقاب کرتا ہے۔

بطور فیملی اور ریلیشن شپ کنسلٹنٹ، جب میں نے اس کیس کا بغور جائزہ لیا، تو مجھے اس کے پیچھے ایک گہرا نفسیاتی اور سماجی المیہ نظر آیا۔

یہ صرف ایک عورت کا جرم نہیں، بلکہ ایک ناکام نظام کی کہانی ہے۔

میری رائے میں، اس واقعے کی جڑ ایک ایسی شادی ہے جو عورت کی مرضی کے بغیر کی گئی۔ ایک زبردستی کا رشتہ، جس میں نہ جذباتی ہم آہنگی تھی، نہ ذہنی سکون، اور نہ ہی زندگی گزارنے کی مشترکہ خواہش۔

ایسی شادیوں میں عورت بظاہر زندہ رہتی ہے، مگر اندر سے مر چکی ہوتی ہے۔

وقت گزرتا گیا، اس عورت نے ماں کا کردار بھی ادا کیا، بچوں کو جنم دیا، مگر اس کے اندر کی بے چینی، گھٹن اور ناپسندیدگی ختم نہ ہو سکی۔ نو سال ایک ایسے رشتے میں گزارنا، جہاں دل شامل نہ ہو، ایک انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔

پھر ایک مرحلہ ایسا آیا جہاں اس نے اس رشتے سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا۔ اسے کہیں اور جذباتی سہارا ملا، ایک نئی وابستگی پیدا ہوئی، جو اس کے لیے فرار کا راستہ بن گئی۔

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ اکیلی نہیں تھی۔ اس کے ساتھ اس کے تین بچے بھی تھے، جو اس رشتے کی سب سے بڑی ذمہ داری تھے۔

یہاں سے کہانی ایک خطرناک موڑ لیتی ہے۔

جب انسان شدید ذہنی دباؤ، گھٹن، اور جذباتی انتشار میں ہوتا ہے، تو وہ صحیح اور غلط کی تمیز کھو بیٹھتا ہے۔ اس عورت کے لیے اس کے اپنے بچے بھی اس قید کا حصہ بن گئے، جس سے وہ نکلنا چاہتی تھی۔

اور پھر اس نے ایک ایسا قدم اٹھایا، جو نہ صرف ناقابلِ معافی ہے بلکہ انسانیت کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بھی۔

یہ واقعہ ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔

ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا:

– کیا ہم اپنے بچوں کی شادیوں میں ان کی مرضی کو اہمیت دیتے ہیں؟
– کیا ہم صرف معاشرتی دباؤ میں فیصلے کر دیتے ہیں؟
– کیا ہم مطابقت (compatibility) کو نظر انداز کر کے صرف رشتہ جوڑنے کو کامیابی سمجھتے ہیں؟

یاد رکھیں،
ایک غلط شادی صرف دو لوگوں کی زندگی نہیں برباد کرتی، بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔

زبردستی کے رشتے، نامکمل جذبات، اور عدم مطابقت — یہ سب مل کر ایسے المیوں کو جنم دیتے ہیں۔

یہ وقت ہے کہ ہم شادی کو صرف ایک رسم نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ اور سوچ سمجھ کر کیا جانے والا فیصلہ سمجھیں۔

مطابقت، رضامندی، اور ذہنی سکون — یہ تینوں ایک کامیاب رشتے کی بنیاد ہیں۔
اگر ہم نے آج بھی نہ سیکھا، تو ایسے واقعات صرف خبریں نہیں رہیں گے، بلکہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت بنتے جائیں گے۔

— بنتِ حوا شاہین اختر

ماں کے ہاتھوں بچوں کا قتل: معاشرتی نظام پر سوالیہ نشان

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us