Banner

جگنو محسن جرات ، فکر اور شعور کا استعارہ

Share

Share This Post

or copy the link

جگنو محسن
جرات ، فکر اور شعور کا استعارہ

منشا قاضی
حسبِ منشا

پاکستان کی سیاسی، صحافتی اور سماجی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک جدوجہد کی علامت بن جاتی ہیں۔ سیدہ میمنت محسن، جنہیں دنیا جگنو محسن کے نام سے جانتی ہے، ایسی ہی ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں جنہوں نے صحافت، سیاست، خواتین کے حقوق، جمہوری اقدار اور اظہارِ رائے کی آزادی کے میدان میں اپنی بے مثال خدمات کے ذریعے ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ ان کی زندگی عزم، استقلال، فکری آزادی اور جمہوری شعور کی ایسی داستان ہے جو آنے والی نسلوں کے لیئے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
1959ء میں ایک معزز زمیندار خاندان میں پیدا ہونے والی سیدہ میمنت محسن نے بچپن ہی سے علم و ادب کے ماحول میں پرورش پائی۔ انہوں نے لاہور کے معروف تعلیمی ادارے کانوینٹ آف جیسز اینڈ میری سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، بعد ازاں مورٹن ہال اسکول سے اے لیول مکمل کیئے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیئے انہوں نے دنیا کی ممتاز درسگاہ یونیورسٹی آف کیمبرج کا رخ کیا، جہاں سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور پھر لندن کے گریز اِن سے بار ایٹ لاء کی سند حاصل کی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ان کی ملاقات معروف صحافی، دانشور اور جمہوریت پسند کارکن نجم سیٹھی سے ہوئی۔ یہ ملاقات بعد ازاں ایک مضبوط رفاقت میں تبدیل ہوئی اور 1983ء میں دونوں نے شادی کر لی۔ اس فیصلے کے لیئے جگنو محسن کو خاندانی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، مگر انہوں نے اپنی استقامت، محبت اور بصیرت سے تمام رکاوٹیں عبور کر لیں۔ ان کے دو بچے، معروف گلوکار علی سیٹھی اور اداکارہ و مصنفہ میرا سیٹھی آج اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
1980ء کی دہائی میں جب پاکستان میں صحافت مختلف پابندیوں اور دباؤ کا شکار تھی، جگنو محسن اور نجم سیٹھی نے آزاد صحافت کا خواب دیکھا۔ 1984ء میں نجم سیٹھی کی گرفتاری کے بعد انہیں یہ احساس ہوا کہ ملک کو ایک ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جو طاقت کے مراکز سے آزاد ہو کر سچائی بیان کر سکے۔
اسی سوچ کے تحت 1987ء میں دی فرائیڈے ٹائمز کے اجراء کی بنیاد رکھی گئی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اشاعتی اجازت نامہ جگنو محسن کے نام سے حاصل کیا گیا۔ جب اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف نے ان سے اخبار کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بڑی ذہانت سے اسے ایک سماجی اور ثقافتی جریدہ قرار دیا۔ تاہم حقیقت میں یہ اخبار جلد ہی پاکستان میں آزاد، جرات مند اور تحقیقی صحافت کی علامت بن گیا۔

1989ء میں شائع ہونے والا دی فرائیڈے ٹائمز پاکستان کے صحافتی منظرنامے میں تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ثابت ہوا۔ اس کے صفحات نے سیاسی تجزیوں، تحقیقی رپورٹس، طنز و مزاح اور فکری مباحث کو نئی جہت عطا کی۔
جگنو محسن صرف صحافی ہی نہیں بلکہ ایک فعال ناشر بھی رہی ہیں۔ ان کے ادارے وینگارڈ بکس نے پاکستان میں کئی اہم کتابوں کی اشاعت میں کردار ادا کیا۔ 1991ء میں تہمینہ درانی کی شہرۂ آفاق کتاب “مائی فیوڈل لارڈ” کی اشاعت بھی اسی ادارے کے ذریعے ممکن ہوئی، جس نے پاکستانی معاشرے میں خواتین کے حقوق، جاگیردارانہ نظام اور گھریلو تشدد جیسے موضوعات پر وسیع بحث کو جنم دیا۔
جگنو محسن کی تحریروں کا ایک نمایاں پہلو ان کا شگفتہ اور بامعنی طنز ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں انہوں نے “مش اینڈ بش” کے عنوان سے ایک مقبول طنزیہ سلسلہ تحریر کیا، جس میں امریکی صدر جارج بش اور جنرل مشرف کے درمیان فرضی مکالموں کے ذریعے ملکی و عالمی سیاست پر دلچسپ تبصرہ کیا جاتا تھا۔ ان کی تحریروں میں طنز محض تفریح نہیں بلکہ سماجی شعور، سیاسی بصیرت اور فکری بیداری کا ذریعہ بنتا ہے۔
جگنو محسن ہمیشہ خواتین کی آزادی، برابری اور سماجی شرکت کی حامی رہی ہیں۔ وہ ویمنز ایکشن فورم سے وابستہ رہیں اور خواتین کے بنیادی حقوق کے لیئے آواز بلند کرتی رہیں۔ 2006ء میں انہوں نے خواتین کے میراتھن میں شرکت کے حق کی حمایت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو اپنی پسند کے لباس میں کھیلوں اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی آزادی حاصل ہونی چاہیئے۔
ان کا یہ مؤقف دراصل ایک ایسے پاکستان کے خواب کی عکاسی کرتا ہے جہاں خواتین خوف اور امتیاز سے آزاد ہو کر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔
صحافت اور سماجی سرگرمیوں کے بعد جگنو محسن نے عملی سیاست میں قدم رکھا۔ 2018ء کے عام انتخابات میں انہوں نے ضلع اوکاڑہ کے حلقہ پی پی-184 سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی اور 62,506 ووٹ حاصل کرکے پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔
اسمبلی میں ان کی موجودگی ایک روایتی سیاست دان کی نہیں بلکہ ایک فکری اور اصلاحی شخصیت کی حیثیت سے محسوس کی گئی۔ جنگنو محسن کے ایک گمنام مداح اور ہزاروں ووٹروں کے درمیان اپنی ہردلعزیز شخصیت موٹیویشنل سپیکر راؤ محمد اسلم خان نے مجھے بتایا کہ جگنو محسن ہمارے ضلع اوکاڑہ کی محسن ہیں جنہوں نے صحت ، تعلیم ، روزگار اور فلاح و بہبود کے حوالے سے پہاڑ جتنا کام کیا ہے ان کا کام بولتا ہے انہوں نے مجھے تحریک دی کہ قاضی صاحب آپ کا خامہ کا رخ اوکاڑہ اور رینالہ خورد کی معروف سماجی سائنسدان جنگنو محسن کے کارناموں کی طرف کیوں رواں نہیں ہوتا ، راؤ محمد اسلم خان نے بتایا کہ جنگنو محسن کی کارکردگی کا حُسن ماحول میں چاندنی بکھیر رہا ہے ۔ راؤ صاحب نے مجھے بتایا کہ قاضی صاحب میں آپ کی ملاقات بھی کروا دیتا ہوں اور آپ ان کے کام کو دیکھیں آپ نے جن لوگوں کا ذرے جتنا کام ہے آپ نے ان کو آفتاب و مہتاب بنا دیا اور جن کا آفتاب و مہتاب سے بھی زیادہ کام ہے ان کو آپ کیونکر نظر انداز کر سکتے ہیں ؟ جگنو محسن نے تعلیم، صحت خواتین کے حقوق، جمہوری روایات اور عوامی مسائل کے حوالے سے فعال کردار ادا کیا جنہں کسی طور پر بھی آپ فراموش نہیں کر سکتے ، یکم اپریل 2022ء کو انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی۔
جگنو محسن کا شمار ان پاکستانی شخصیات میں ہوتا ہے جو مذہبی انتہا پسندی، عدمِ برداشت اور فکری جمود کے خلاف مسلسل آواز بلند کرتی رہی ہیں۔ وہ ایک ایسے پاکستان کی داعی ہیں جو جمہوری، ترقی پسند، برداشت کرنے والا اور آئینی اصولوں پر قائم ہو۔
ان کی زندگی کا ہر باب اس حقیقت کا گواہ ہے کہ اختلافِ رائے، آزادیِ اظہار اور انسانی حقوق کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔
جگنو محسن کی شخصیت کئی رنگوں کا حسین امتزاج ہے۔ وہ ایک کامیاب وکیل، باوقار صحافی، جرات مند ناشر، حساس ادیبہ، خواتین کے حقوق کی علمبردار اور فعال سیاست دان ہیں۔ انہوں نے زندگی کے ہر مرحلے پر مشکلات کا سامنا کیا مگر کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
ان کا سفر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ سچائی، جرات اور شعور کی روشنی کبھی مدھم نہیں پڑتی۔ شاید اسی لیے ان کا نام “جگنو” محض ایک نام نہیں بلکہ تاریکیوں میں امید، حوصلے اور روشنی کی ایک دائمی علامت بن چکا ہے۔
پاکستان کی صحافتی اور سیاسی تاریخ جب بھی آزادیِ فکر، جمہوری اقدار اور خواتین کی جدوجہد کا ذکر کرے گی، جگنو محسن کا نام احترام، وقار اور روشنی کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔ راؤ صاحب نے وعدہ کیا کہ قاضی صاحب میں انہیں رحمٰن فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام گردوں کی صفائی کے مراکز کا بھی دورہ کرواؤں گا اور وہ اپنے قلم کی طاقت سے اور اپنی خداداد فراست سے رحمٰن فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی طبی تحقیقی کاوش کو برقی ذرائع ابلاغ کے ذریعے دنیا تک پہنچائیں گی ۔ راؤ صاحب نے بتایا کہ جگنو محسن نے اپنا یہ مقام جو حاصل کیا ہے یہ انہیں طشتری پر رکھ کر خیرات میں نہیں ملا، اس کے عقب میں ان کی مسلسل ریاضت، بے پناہ جدوجہد اور مہارتِ تامہ کار فرما ہے۔

شفق لہو میں نہائی ، سحر اداس ہوئی

کلی نے جان گنوا دی شگفتگی کے لیئے

جگنو محسن جرات ، فکر اور شعور کا استعارہ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us