Banner

محکمہ جنگلات اور FAO کی مشترکہ کاوشیں قابل تحسین ہیں، عمران گچکی

Share

Share This Post

or copy the link


کوئٹہ(خ ن)سیکریٹری جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان عمران گچکی نے کہا ہے کہ رینج لینڈ ریسورس اسیسمنٹ اینڈ میپنگ (RRAM) کے تحت تیار کردہ توثیق شدہ رپورٹس صوبے میں پالیسی سازی، سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی اور چراگاہی وسائل کے پائیدار انتظام کے لیے ایک مضبوط سائنسی بنیاد فراہم کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ صحت مند چراگاہیں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، مویشیوں کی پیداوار میں اضافے، آبی وسائل کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، لہٰذا ان وسائل کا م¶ثر اور پائیدار انتظام وقت کی اہم ضرورت ہے، انہوں نے اس پراجیکٹ کے زیر اہتمام بہترین خدمات سر انجام دینے پر محکمہ جنگلات اور ادارہ برائے خوراک و زراعت کی ٹیموں کی کاوشوں کو سراہا جنھوں نے بہترین کام کرتے ہوئے اس اہم نوعیت کے تعمیری کام کو سر انجام دیا ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات حکومت بلوچستان اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) کے اشتراک سے منعقدہ توثیقی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ورکشاپ کا مقصد پشین لورا، ہنگول، ناری اور ہامونِ مشکیل دریائی طاسوں میں چراگاہی وسائل کے جائزے اور نقشہ سازی سے متعلق فیلڈ سرویز کے نتائج، اعداد و شمار اور سفارشات پر مشتمل جامع رپورٹس کی توثیق کرنا تھا۔ ایک روزہ ورکشاپ کی شریک صدارت FAO بلوچستان کے انٹرنیشنل پروگرام کوآرڈینیٹر ولید مہدی نے کی جبکہ تقریب میں محکمہ جنگلات کے اعلیٰ افسران، تکنیکی ماہرین، محققین، FAO کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے بھر پور انداز میں شرکت کی۔ اس موقع پر کنزرویٹر فاریسٹ اور LOA مینیجر FAO جعفر علی بلوچ نے سروے کے مختلف مراحل پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ سروے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان اور FAO کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت مکمل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی نگرانی میں سروے ٹیموں نے چاروں دریائی طاسوں میں کامیابی سے فیلڈ اسیسمنٹس مکمل کیں، جن کے نتائج کو بعد ازاں تکنیکی ماہرین نے جامع رپورٹس کی شکل دی اور FAO کی تکنیکی جانچ و منظوری کے بعد توثیق کے لیے پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ورکشاپ کا مقصد ماہرین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی آراءاور سفارشات حاصل کرکے رپورٹس کو مزید م¶ثر اور جامع بنانا ہے اس پورے عمل میں انہوں نے جعفر علی بلوچ انکی ٹیم اور محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کی کاوشوں کی تعریف کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد عیسیٰ جان نے ورکشاپ کے مقاصد اور متوقع نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مختلف شعبوں کے ماہرین کی شرکت سے جائزے کی شفافیت، درستگی اور افادیت میں مزید اضافہ ہوگا۔ جبکہ قدرتی وسائل کے انتظام کے مشیر ڈاکٹر فیض الباری نے رینج لینڈ ریسورس اسیسمنٹ اینڈ میپنگ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ عمل مستقبل کی منصوبہ بندی، چراگاہوں کی بحالی اور قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام کے لیے ایک قابلِ اعتماد سائنسی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ چیف کنزرویٹر فاریسٹ (نارتھ) علی عمران نے ورکشاپ کا افتتاح کرتے ہوئے محکمہ جنگلات، FAO اور دیگر شراکت داروں کی مشترکہ کاوشوں کو سراہا اور قدرتی وسائل کے تحفظ اور بحالی کے لیے اس نوعیت کے اشتراک کو ناگزیر قرار دیا۔ تکنیکی سیشن کے دوران پشین-لورا دریائی طاس کی رپورٹ جعفر علی بلوچ اور ڈاکٹر عمران، ہنگول دریائی طاس کی رپورٹ نعیم جاوید، ناری دریائی طاس کی رپورٹ سید اچکزئی جبکہ ہامونِ مشکیل دریائی طاس کی رپورٹ غلام سرور نے پیش کی۔ پریزنٹیشنز میں چراگاہی وسائل کی موجودہ صورتحال، درپیش چیلنجز، ماحولیاتی دبا¶، بحالی کے امکانات اور پائیدار انتظام کے لیے سفارشات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف کنزرویٹر فاریسٹ (سا¶تھ) اسلم بزدار نے سروے ٹیموں کی محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس جائزے کے نتائج کو شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور وسائل کے م¶ثر انتظام میں بروئے کار لایا جائے۔ چیف کنزرویٹر فاریسٹ علی عمران نے بھی رپورٹس کے تکنیکی معیار کو سراہتے ہوئے سفارشات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ FAO بلوچستان کے پروگرام کوآرڈینیٹر ولید مہدی نے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بلوچستان میں قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام، ماحولیاتی بحالی اور ایکو سسٹم ریسٹوریشن کے اقدامات کے لیے FAO کے مسلسل تعاون کا اعادہ کیا۔ اپنے اختتامی خطاب میں سیکریٹری جنگلات و جنگلی حیات عمران گچکی نے محکمہ جنگلات، FAO اور تمام شراکت دار اداروں کی مشترکہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے کنزرویٹر فاریسٹ جعفر علی بلوچ کی قیادت، عزم اور انتھک محنت کو خصوصی طور پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ متعدد چیلنجز کے باوجود سروے کی کامیاب تکمیل ایک اہم سنگِ میل ہے جو بلوچستان میں قدرتی وسائل کے بہتر انتظام اور تحفظ کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جائزے کی سفارشات کو آئندہ ترقیاتی منصوبوں اور پالیسی سازی کے عمل میں م¶ثر انداز میں شامل کیا جائے تاکہ صوبے کے چراگاہی اور قدرتی وسائل کا تحفظ، بحالی اور پائیدار استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ورکشاپ کے اختتام پر شرکاءنے مختلف تکنیکی سفارشات پیش کیں اور بلوچستان بھر میں شواہد پر مبنی منصوبہ بندی، چراگاہوں کی بحالی، ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام کے فروغ کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔

محکمہ جنگلات اور FAO کی مشترکہ کاوشیں قابل تحسین ہیں، عمران گچکی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us