ایڈووکیٹ سلمان صفدر فرینڈ آف دی کورٹ مقرر، عمران خان کی جیل میں حالت کی رپورٹ دیں، سپریم کورٹ
عدالت نے لطیف کھوسہ کی عمران خان سے ملاقات کی استدعا مسترد کردی
سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کرتے ہوئے عمران خان کی جیل میں حالت سے متعلق رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ان کے وکلا کی ملاقات کے معاملے پر آج بھی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، جو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سماعت پر عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی جیل میں حالت زار کے بارے میں رپورٹ مانگی تھی۔ عدالت نے قرار دیا تھا کیس کے قابل سماعت ہونے کے بارے میں دوسرے فریق کو سنے بغیر آرڈر نہیں دیا جاسکتا۔
آج سماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس پاکستان نے لطیف کھوسہ کو بات کرنے سے روک دیا۔
اس موقع پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ 24 اگست 2023 کے حکمنامے کی روشنی میں ہم نے تحریری جواب چیمبر میں جمع کرا دیا تھا۔ بانی پی ٹی آئی اس وقت اٹک جیل میں تھے،جب آرڈر دیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہم نے چیمبر میں تحریری رپورٹ 28 اگست 2023 کو جمع کرا دی تھی۔ رپورٹ کے ساتھ 5 اگست سے لے کر 18 اگست تک کی میڈیکل رپورٹ بھی شامل کی گئی تھی۔ اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ عدالتی حکم میں ذکر کردیں ہم نے رپورٹ جمع کرا دی تھی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 24 اگست 2023 کے حکمنامے کے بعد ایسا کوئی آرڈر ریکارڈ پر نہیں ہے جس پر سپریم کورٹ نے اطمنان کا اظہار کیا ہو۔ ہم سلمان صفدر کو فرینڈ آف کورٹ مقرر کر رہے ہیں۔ ہمیں سلمان صفدر پر مکمل اعتماد ہے۔
سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کردیا اور ہدایت کی کہ سلمان صفدر جائیں اور بانی پی ٹی آئی کی جیل میں حالت زار کے بارے میں تحریری رپورٹ دیں۔ بانی پی ٹی آئی کو دستیاب سہولیات کے بارے میں بھی تحریری رپورٹ دیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ذہن میں رکھیں سلمان صفدر فرینڈ آف دی کورٹ ہیں ، انہیں جیل کے باہر انتظار نہ کرایا جائے۔ توقع ہے کہ احترام کے ساتھ ہمارے فرینڈ آف دی کورٹ کو اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے گی۔ فرینڈ آف دی کورٹ کو کوئی بھی مسئلہ ہو تو میرا ذاتی اسٹاف آفسر موجود ہے۔
ایڈووکیٹ سلمان صفدر فرینڈ آف دی کورٹ مقرر، عمران خان کی جیل میں حالت کی رپورٹ دیں، سپریم کورٹ



