Banner
Daily Sahafat Quetta
October 27, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ڈپٹی کمشنر الیاس کبزئی کی قیادت میں سیوی میں کشمیر ریلی، عالمی برادری سے کردار ادا کرنے کا مطالبہسکینہ عبداللہ خان کو نئی ذمہ داریاں ملنے پر مبارک باد، اسلام آباد میں گلدستہ پیشکفر کا مکر اور اسلام کا نصرکچھی، بولان میں دل دہلا دینے والا واقعہ شوہر کی فائرنگ سے بیوی اور 3 کم سن بچے قتلکوئٹہ سے کراچی جانے والی دو مسافر بسیں مسلح افراد لے گئےعالمی برادری مقبوضہ کشمیر سے بھارتی قبضہ ختم کروائے، سید صادق آغااین ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان سے کٹوتی قبول نہیں، پروفیسر حلیم صادقبلوچستان کے تمام ٹرانسپورٹرز نے قلات سنگداس چیک پوسٹ ختم کرنے کا مطالبہ کردیالکپاس کسٹم چیک پوسٹ پر زیادتیوں کا نوٹس لیا جائے، ٹرانسپورٹرزسندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی میں یومِ سیاہ کشمیر منایا گیاڈپٹی کمشنر الیاس کبزئی کی قیادت میں سیوی میں کشمیر ریلی، عالمی برادری سے کردار ادا کرنے کا مطالبہسکینہ عبداللہ خان کو نئی ذمہ داریاں ملنے پر مبارک باد، اسلام آباد میں گلدستہ پیشکفر کا مکر اور اسلام کا نصرکچھی، بولان میں دل دہلا دینے والا واقعہ شوہر کی فائرنگ سے بیوی اور 3 کم سن بچے قتلکوئٹہ سے کراچی جانے والی دو مسافر بسیں مسلح افراد لے گئےعالمی برادری مقبوضہ کشمیر سے بھارتی قبضہ ختم کروائے، سید صادق آغااین ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان سے کٹوتی قبول نہیں، پروفیسر حلیم صادقبلوچستان کے تمام ٹرانسپورٹرز نے قلات سنگداس چیک پوسٹ ختم کرنے کا مطالبہ کردیالکپاس کسٹم چیک پوسٹ پر زیادتیوں کا نوٹس لیا جائے، ٹرانسپورٹرزسندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی میں یومِ سیاہ کشمیر منایا گیا

انسان مرتا ہے مگر کردار زندہ رہتا ہے

انسان مرتا ہے مگر کردار زندہ رہتا ہے
کالم نگار: ایس ایم مرموی

ایک طرف نانا پاٹیکر جیسے انسان کی مثال دی جاتی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنی کمائی کا بڑا حصہ غریبوں اور ضرورت مندوں کے لیے وقف کر دیا دوسری طرف ہم ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں مذہب کے نام پر دولت سمیٹنے والوں کی کمی نہیں مگر غریب کی بھوک مٹانے اور اس کی زندگی بدلنے والوں کی تلاش رہتی ہے المیہ یہ ہے کہ ہم نانا پاٹیکر کے لیے جنت کی دعا کرنے سے پہلے اس کا مذہب پوچھتے ہیں لیکن اپنے معاشرے کے ان دولت مند مسلمانوں سے ان کے اعمال کا حساب مانگنے کی ہمت نہیں کرتے جو غریبوں کی محنت سے دولت کے پہاڑ کھڑے کرتے ہیں جس انسان نے اپنے اعمال۔سے جنت نہیں خرید سکا اسکو کسی گنہگار کے دعؤں سے جنت کیسے ملے گی اس نقطے کو سمجھنے کی آج اشد ضرورت ہے کلمہ پڑھنے سے جنت کا حصول ممکن نہیں اسکے لئے صاحب کردار ہونا بھی ضروری ہے ۔
نانا پاٹیکر کی زندگی سے منسوب ایک واقعہ بڑا معنی خیز ہے بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک مہنگی گاڑی خریدنے کے لیے رقم جمع کر رہے تھے ایک رات ٹیلی وژن پر کسانوں کا احتجاج دیکھا اسکرین پر ایسے کسان تھے جن کے چہروں پر غربت کی لکیر کھنچی ہوئی تھی جن کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست بھی ایک امتحان تھا ان کی حالت دیکھ کر نانا پاٹیکر نے سوچا کہ جب ملک میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کے پاس کھانے کو روٹی نہیں تو وہ کروڑوں کی گاڑی کیسے خرید سکتے ہیں روایت کے مطابق انہوں نے گاڑی خریدنے کا ارادہ ترک کیا اور ڈیڑھ کروڑ روپے ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیے جبکہ حال ہی میں ایک مسلمان چیف مینسٹر جس کے پاس سات سمندر پار تک جائیدا پھیلی ہوئ ہے باپ تین مرتبہ پرائم مینسٹر رہ چکا ہے عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہی ہے مگر اس مسلمان عورت کے اندر کا انسان، ضمیر نہیں جاگا عوام کے خون پیسوں کے ٹیکس سے گیارہ ارب کا جہاز خریدا اور بیرون ملک کے دورے اور سیر سپاٹے کرتی نظر آتی ہے تو کیا ایسے مسلمان قابل رحم ہیں یا ایسے مسلمان کی اللہ کے ہاں قدر و منزلت ہے ۔
ذرا اس منظر کا تصور کیجیے ایک شخص اپنی آسائش کے لیے جمع کی گئی دولت کو دوسروں کی ضرورت پر قربان کر دیتا ہے وہ یہ نہیں سوچتا کہ بھوکے کسان کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ان کے نام کیا ہیں یا ان کی عبادت کا طریقہ کیا ہے وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ انسان بھوکا ہے اور اسے مدد کی ضرورت ہے یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی شناخت اس کے نام سے آگے بڑھ کر اس کے کردار میں ظاہر ہوتی ہےجبکہ دوسری طرف مسلمان چیف مینسٹر غریبوں کی غربت کو نظر انداز کر کے گیارہ ارب کا جہاز کیا یہ کھلا تضاد نہیں نانا پاٹیکر کے اس واقعے سے کسی کے عقیدے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا نہ کسی شخص کی آخرت کے بارے میں قطعی حکم لگانا ہمارا اختیار ہے لیکن اس واقعے سے اٹھنے والے اخلاقی سوال کو نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا اگر ایک انسان دوسروں کی بھوک دیکھ کر اپنی آسائش قربان کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو کیا ہمیں اس کے عمل سے سبق نہیں لینا چاہیے؟اب ذرا اپنے مسلمان معاشرے کی طرف دیکھیے یہاں بڑے بڑے سرمایہ دار ہیں وسیع کاروبار ہیں کروڑوں اور اربوں کے اثاثے ہیں مذہبی تقریبات بھی ہوتی ہیں خیرات کے اعلانات بھی کیے جاتے ہیں اور نیکی کے دعوے بھی سنائی دیتے ہیں لیکن اسی معاشرے میں مزدور اپنی تنخواہ کے لیے مہینوں دھکے کھاتا ہے غریب باپ بچوں کی فیس ادا نہیں کر پاتا بیمار علاج کے بغیر تڑپتا ہے اور محنت کش اپنی جوانی کھپا کر بھی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر رہتا ہے سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کی ذمہ داری کون اٹھائے گا؟ جو سرمایہ دار مزدور کی محنت سے دولت کماتا ہے کیا اس کی ذمہ داری صرف منافع حاصل کرنا ہے؟ جو تاجر ملاوٹ سے دولت بناتا ہے کیا اس کی مذہبی شناخت اس کی بددیانتی کو نیکی میں بدل سکتی ہے؟ جو شخص کسی غریب کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتا ہے کیا وہ محض خیرات دے کر اپنے تمام اخلاقی فرائض سے بری ہو جاتا ہے غریب کا حق مار کر خیرات کرنا اور غریب کا حق ادا کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔
اسلام ہمیں صرف عبادت کی دعوت نہیں دیتا بلکہ عدل امانت، دیانت، رحم اور حقوق العباد کی ادائیگی کا درس بھی دیتا ہے اگر کوئی شخص عبادت تو کرتا ہے مگر اس کے معاملات میں بددیانتی ہے، وہ مذہبی دعوے تو کرتا ہے مگر اس کے ہاتھوں کمزوروں کے حقوق پامال ہوتے ہیں تو اسے اپنے کردار پر سوال اٹھانے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیے یہ بات بھی یاد رہنی چاہیے کہ ہر سرمایہ دار ظالم نہیں اور ہر غریب لازماً نیک نہیں مسئلہ دولت کا ہونا نہیں دولت کے حصول اور استعمال کا طریقہ ہے دولت اگر حلال ذرائع سے کمائی جائے ملازمین کو ان کے حقوق ملیں، کاروبار میں دیانت ہو اور معاشرے کے محروم لوگوں کے لیے احساسِ ذمہ داری موجود ہو تو دولت بذاتِ خود کوئی برائی نہیں اصل خرابی وہاں شروع ہوتی ہے جہاں انسان دولت کی خاطر انسانیت کو بھول جاتا ہےاب آتے ہیں جنت کے سوال کی طرف
کچھ لوگ نانا پاٹیکر جیسے انسان کے بارے میں کہتے ہیں کہ کاش وہ کلمہ پڑھ لیتے تو جنت میں چلے جاتے یہ بات اپنی جگہ ایک مذہبی تصور کی ترجمانی کر سکتی ہے لیکن کیا ہم نے کبھی خود سے پوچھا کہ ہم کلمہ پڑھنے کے بعد اس کے تقاضے کس حد تک پورے کرتے ہیں؟ کیا کلمہ ہمیں جھوٹ بولنے کی اجازت دیتا ہے؟ کیا نماز ہمیں کسی کا حق مارنے کا اختیار دیتی ہے؟ کیا روزہ ہمیں مزدور کی اجرت روکنے کا لائسنس دیتا ہے؟ کیا مذہبی شناخت کسی یتیم کا حق کھانے یا کسی مجبور کا استحصال کرنے کا جواز بن سکتی ہے؟ اگر نہیں تو پھر ہمیں اپنے دعووں اور اعمال کے درمیان موجود فاصلے کو تسلیم کرنا ہوگا۔
اسلامی تعلیمات میں نیت کی اہمیت بنیادی شرط ہے مگر نیت کا تعلق بھی انسان کے اعمال اور اس کے طرزِ زندگی سے ہے اللہ کے ہاں قبولیت اور آخرت کا حتمی فیصلہ اسی کا اختیار ہے ہم کسی غیر مسلم کی نجات کا قطعی اعلان کر سکتے ہیں نہ کسی مسلمان کے لیے جنت کی ضمانت دے سکتے ہیں البتہ ہم اپنے کردار کا جائزہ ضرور لے سکتے ہیں اور یہ سوال ضرور اٹھا سکتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے مذہبی دعووں سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔
جنت پر حق جتانے سے پہلے انسان کو اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیےکیونکہ مذہبی شناخت انسان کو جواب دہی سے آزاد نہیں کرتی مجھے نانا پاٹیکر کے مذہب سے زیادہ اس کے عمل پر گفتگو کرنے میں دلچسپی ہے اگر اس سے منسوب واقعہ درست ہے تو اس میں ہمارے لیے ایک بڑا سبق موجود ہے دوسروں کی محرومی کو محسوس کرنا اپنی خواہشات پر قابو پانا اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے اپنی آسائش قربان کرنا اصل میں یہی انسانیت ہے اور ہمارے مذہبی معاشرے کے لیے بھی ایک سوال ہے ہم نے اپنے مذہب کی اخلاقی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں کتنا جگہ دی ہے؟ ہم کتنے ایسے مزدوروں کے محافظ ہیں جن کی تنخواہیں روک لی جاتی ہیں؟ کتنے ایسے بچوں کے مددگار ہیں جو غربت کے باعث تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں؟ کتنے ایسے بیماروں کا سہارا بنتے ہیں جو علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے؟
یہ سوالات کسی کو کافر یا مسلمان قرار دینے کے لیے نہیں بلکہ ہمیں اپنی اصلاح کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ہیں ہمیں دوسروں کی آخرت کے بارے میں فیصلہ سنانے کی جلدی ہے مگر اپنے معاشرے میں بھوک، غربت، استحصال اور ناانصافی کے خاتمے کی فکر کم دکھائی دیتی ہے ہم دوسروں کے عقیدے پر گفتگو کرتے ہیں مگر اپنے کردار کی خامیوں پر خاموش رہتے ہیں آخر میں سوال نانا پاٹیکر کی جنت کا نہیں ہمارے اپنے کردار کا ہے اگر ایک شخص بھوکے انسانوں کی تکلیف دیکھ کر اپنی مہنگی گاڑی کا ارادہ ترک کر سکتا ہے تو ہم اپنے مذہبی دعووں کے باوجود کسی بھوکے کا پیٹ بھرنے کسی مزدور کا حق ادا کرنے اور کسی مجبور کا سہارا بننے میں کیوں ناکام رہتے ہیں؟
جنت کس کو ملے گی اس کا فیصلہ اللہ کرے گا مگر ہم یہ ضرور طے کر سکتے ہیں کہ دنیا میں کسی انسان کے لیے آسانی پیدا کرنی ہے یا اس کی مشکلات میں اضافہ کرنا ہے یاد رکھیے مسلمان ہونا صرف ایک دعویٰ نہیں ایک ذمہ داری بھی ہے اور جس مذہبی شناخت پر ہمیں فخر ہے ہمارے اعمال کو بھی اس شناخت کی اخلاقی عظمت کا گواہ ہونا چاہیے دوسروں کی آخرت اللہ پر چھوڑ دیجیے اپنے کردار کی فکر کیجیے اور مخلوقِ خدا کے لیے آسانیاں پیدا کیجیے یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اپنے مذہب کی حقیقی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی طرف لے جا سکتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *