Banner
Daily Sahafat Quetta
October 26, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کی قومی و عسکری خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، میر ظہور بلیدیعوامی مسائل کا فوری حل حکومت کی اولین ترجیح ہے، حاجی نور محمد خان دومڑدرگزر کرنا سیکھیںلاہور میں جدید تعمیراتی منصوبہ آئیرس ٹاور توجہ کا مرکز، سید زوار شاہ کی قیادت میں پیش رفتسابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کی جمہوری خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، سردار منظور احمد خان کاکڑمخالفین کا پروپیگنڈا ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتا، مولانا عبدالرحمن رفیقروہڑی: بسم اللہ کالونی کے رہائشیوں کا مبینہ حملوں، تشدد اور دھمکیوں کے خلاف احتجاج، انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہمیاں فاروق الطاف بھی چل بسے انا للہ وانا الیہ راجعونآئی جی ایف سی ساؤتھ کا بھتہ وصولی کے خلاف کارروائی کا اعلان خوش آئند ہے، بیروزگار یونینتمام بنیادی سہولیات سے محروم کوئٹہ مسائلستان بن چکا ہے، سید امان شاہجنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کی قومی و عسکری خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، میر ظہور بلیدیعوامی مسائل کا فوری حل حکومت کی اولین ترجیح ہے، حاجی نور محمد خان دومڑدرگزر کرنا سیکھیںلاہور میں جدید تعمیراتی منصوبہ آئیرس ٹاور توجہ کا مرکز، سید زوار شاہ کی قیادت میں پیش رفتسابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کی جمہوری خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، سردار منظور احمد خان کاکڑمخالفین کا پروپیگنڈا ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتا، مولانا عبدالرحمن رفیقروہڑی: بسم اللہ کالونی کے رہائشیوں کا مبینہ حملوں، تشدد اور دھمکیوں کے خلاف احتجاج، انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہمیاں فاروق الطاف بھی چل بسے انا للہ وانا الیہ راجعونآئی جی ایف سی ساؤتھ کا بھتہ وصولی کے خلاف کارروائی کا اعلان خوش آئند ہے، بیروزگار یونینتمام بنیادی سہولیات سے محروم کوئٹہ مسائلستان بن چکا ہے، سید امان شاہ

درگزر کرنا سیکھیں

درگزر کرنا سیکھیں
کالم نگار۔۔ ایس ایم مرموی

زندگی میں بعض اوقات انسان اپنی برسوں کی عزت اپنا سماجی مقام اور اپنی ساکھ محض چند لمحوں کی انا کے ہاتھوں ہار بیٹھتا ہے حیرت یہ نہیں کہ انسان سے غلطی ہو جاتی ہے حیرت یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے اسے اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیتا ہے شیطان کی طرح اڑ جاتا ہے اور خود کو زمانے بھر کےلئے تماشہ بناتا ہے معاملہ ایک جملے سے شروع ہوتا ہے گالی تک پہنچتا ہے ہاتھا پائی میں بدلتا ہے اور بالآخر انسان اپنی ہی انا کے ملبے تلے دب جاتا ہے۔
کچھ دن پہلے لاہور کے جوبلی ٹاؤن میں ایک پٹرول پمپ پر پیش آنے والا واقعہ اسی انسانی کمزوری کی ایک تلخ مثال ہے کہانی کا آغاز کسی بڑے تنازعے سے نہیں ہوا ایک صاحب اپنی گاڑی میں بیٹھے سگریٹ پی رہے تھے اور پٹرول بھروانا چاہتے تھے پٹرول پمپ کے ملازم نے مؤدبانہ درخواست کی کہ وہ سگریٹ بجھا دیں کیونکہ پٹرول پمپ پر آگ لگنے کا خطرہ موجود ہوتا ہے یہ ایک معمولی درخواست تھی جس کے پیچھے کسی کی ذاتی دشمنی نہیں بلکہ حفاظت کا تقاضا تھا صاحب چاہتے تو ایک لمحے میں سگریٹ بجھا کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو سکتے تھے مگر انہوں نے اس درخواست کو اپنی شان کے خلاف سمجھ لیا غرور اور تکبر سے بھرا اس آدمی نے ملازم کی بات کو اپنے لئے ابا کا مسئلہ بنایا سگریٹ بجھانے کی بجائے اس ملازم کو تھپڑ رسید کیا کہ تمہاری جرآت کیسے ہوئ مجھے سگریٹ پینے پر بس یہی وہ لمحہ تھا جہاں عقل کو انا کے سامنے ہار نہیں ماننی چاہیے تھی سمجھداری اور عقل کا استعمال کرتے ہوئے ملازم کی بات ماننی چاہئے تھی مگر ایسا نہیں ہوا
اطلاعات کے مطابق بات تلخ کلامی سے آگے بڑھی پٹرول پمپ کا ملازم تشدد کا نشانہ بنا اور معاملہ اس قدر بڑھا کہ پولیس کو مداخلت کرنا پڑی واقعے کی ویڈیو منظرِ عام پر آئی تو سوشل میڈیا پر شور اٹھا حکومتی سطح پر نوٹس لیا گیا اور ملزم کی گرفتاری عمل میں آئی بعد ازاں پولیس کے ساتھ مبینہ ہاتھا پائی اور دیگر الزامات نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا یوں ایک ایسی بات جسے چند سیکنڈ کی درگزر سے ختم کیا جا سکتا تھا قانونی کارروائی گرفتاری اور عوامی رسوائی تک جا پہنچی۔
اب ذرا اس واقعے کو غصے کی عینک اتار کر دیکھیے ایک طرف پچاس برس کا ایک شخص ہے جو اپنی زندگی میں گھر اور کاروبار جیسے اثاثے بنا چکا ہے دوسری طرف ایک نوجوان ملازم ہے جس کی ذمہ داری اپنے کام کی جگہ پر حفاظتی اصولوں پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے دونوں کے سماجی مرتبے مالی حیثیت اور اختیارات میں فرق ہو سکتا ہے لیکن انسانی عزت میں کوئی فرق نہیں ملازم نے اگر اپنی ڈیوٹی کےمطابق درخواست کی تھی تو اسے ذلت آمیز جواب یا تشدد کا سامنا نہیں کرنا چاہیے تھا کسی کی ملازمت، غربت یا کمزور سماجی حیثیت اسے توہین برداشت کرنے کا پابند نہیں بناتی سوال یہ نہیں کہ صاحب نے سگریٹ کیوں نہیں بجھائی سوال یہ ہے کہ ایک جائز بات سن کر ان کے اندر برداشت کا چراغ کیوں بجھ گیا؟
ہماری معاشرت کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ بعض لوگ منصب، دولت، تعلقات اور سماجی حیثیت کو دوسروں پر برتری کا پروانہ سمجھ لیتے ہیں انہیں لگتا ہے کہ کوئی معمولی ملازم ان سے سوال کیسے کر سکتا ہے کوئی ماتحت انہیں روک کیسے سکتا ہے اور کوئی اجنبی انہیں ان کی غلطی کا احساس کیسے دلا سکتا ہے؟ وہ بھول جاتے ہیں کہ قانون کی نظر میں کسی کی گاڑی، کاروبار یا خاندانی تعلقات اسے اپنی مرضی سے دوسروں کی عزت پامال کرنے کا اختیار نہیں دیتے مگر اس واقعے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس پر بات کرنا ضروری ہے۔
پولیس کی حراست میں ملزم کے منہ پر متاثرہ ملازم سے تھپڑ لگوانے کی ویڈیو بنانا اور اسے فخریہ انداز میں عام کرنا انصاف کے تصور پر سوال اٹھاتا ہے اگر کسی شخص نے جرم کیا ہے تو اس کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے شواہد جمع ہونے چاہییں اور عدالت کو قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے جرم ثابت ہونے سے پہلے کسی کو سرِعام ذلیل کرنا چاہے وہ کتنا ہی قابلِ مذمت عمل کیوں نہ کر چکا ہو قانون کی بالادستی کا متبادل نہیں بن سکتا ریاست کی طاقت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کسی ملزم کو سب کے سامنے تھپڑ پڑوا دے اصل امتحان یہ ہے کہ وہ طاقت ور اور کمزور دونوں کے لیے قانون کو یکساں طور پر نافذ کرے متاثرہ ملازم کو انصاف ملنا چاہیے ملزم کو اپنے مبینہ جرم کا قانونی جواب دینا چاہیے اور پولیس کو قانون کے دائرے میں رہ کر کارروائی کرنی چاہیے یہی مہذب معاشرے کی پہچان ہے ورنہ آج ہم کسی ملزم کی تذلیل پر تالیاں بجائیں گے کل یہی تماشا کسی ایسے شخص کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے جسے عدالت نے ابھی مجرم قرار ہی نہ دیا ہو اس واقعے سے ہمیں ایک اور سبق بھی ملتا ہے معافی مانگ لینا پیچھے ہٹ جانا یا اپنی غلطی تسلیم کر لینا ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتا بعض اوقات یہی رویہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتا ہے ہر اختلاف کو جنگ ہر اختلافِ رائے کو توہین اور ہر انکار کو اپنی بے عزتی سمجھنے والا شخص بالآخر اپنے ہی لیے مشکلات پیدا کرتا ہے اگر اس شخص نے پہلی درخواست پر سگریٹ بجھا دی ہوتی تو نہ کسی کو مار پڑتی نہ پولیس سے جھگڑا ہوتا نہ گرفتاری کا سامنا کرنا پڑتا اور نہ ہی اس واقعے کی ویڈیو اس کی شناخت کے ساتھ دنیا بھر میں گردش کرتی چند لمحوں کی برداشت اسے ایک طویل آزمائش سے بچا سکتی تھی لیکن اب معاملہ محض سگریٹ کا نہیں رہا یہ قانون انسانی وقار، برداشت اور انا کے درمیان فرق سمجھنے کا معاملہ بن چکا ہے۔
ہمیں اپنے گھروں میں بچوں کو صرف کامیاب ہونا نہیں اختلاف برداشت کرنا بھی سکھانا ہوگا درگزرکرنا بھی سیکھانا ہوگا انہیں صرف آگے بڑھنے کا حوصلہ نہیں ضرورت پڑنے پر پیچھے ہٹنے کی حکمت بھی سکھانی ہوگی انہیں بتانا ہوگا کہ بلند آواز دلیل نہیں دولت کردار نہیں اور کسی کمزور پر ہاتھ اٹھا دینا بہادری نہیں یاد رکھیے زندگی میں بعض جنگیں جیت کر بھی انسان ہار جاتا ہے اور بعض موقعوں پر خاموشی معذرت اور درگزر اسے بڑی شکست سے بچا لیتے ہیں انا وقتی تسکین دیتی ہے مگر اس کی قیمت اکثر بہت طویل ہوتی ہے اس لیے درگزر کرنا سیکھیں ہر بات کا جواب دینا ہر اختلاف میں جیتنا اور ہر موقع پر اپنی برتری ثابت کرنا ضروری نہیں کبھی کبھی ایک قدم پیچھے ہٹ جانا ہی عزت، سکون اور وقار کی طرف سب سے بڑا قدم ہوتا ہے کیونکہ آخر میں انسان کی پہچان یہ نہیں ہوتی کہ اس نے کتنے لوگوں کو خاموش کرایا بلکہ یہ ہوتی ہے کہ اس نے کتنے مواقع پر اپنے غصے کو خاموش رکھا اور اپنی عزت بچائ ۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *