Banner
Daily Sahafat Quetta
October 26, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
گیریژن سٹیٹ، دفاعی ضروریات اور قومی ترقی کا نادیدہ توازنوزیراعظم شہباز شریف کا سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر اظہارِ افسوسبلوچستان میں گڈ گورننس کی جانب بڑا قدم، 10 محکموں میں سمریز کی ڈیجیٹلائزیشن شروعوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر اظہارِ افسوسسابق آرمی چیف جنرل (ر) عبد الوحید کاکڑ انتقال کرگئےکوئٹہ: سبزل روڈ پر فائرنگ، 3 افراد جاں بحقبرازیل میں نئی تاریخ رقم، ایل دا سلوا چوتھی بار ملک کے صدر منتخب ہو گئےسربیا، طلبا کی احتجاجی تحریک رنگ لے آئی، انتخابات میں طویل عرصے سے برسر اقتدار رہنما کو شکستوطن سے وفاداری؛ فتنہ الہندوستان سے وابستہ افراد سے اہلخانہ کا اعلانِ لاتعلقیاحتجاج کیس؛ علیمہ خان کے خلاف فیصلہ 26 نومبر کو سنایا جائے گاگیریژن سٹیٹ، دفاعی ضروریات اور قومی ترقی کا نادیدہ توازنوزیراعظم شہباز شریف کا سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر اظہارِ افسوسبلوچستان میں گڈ گورننس کی جانب بڑا قدم، 10 محکموں میں سمریز کی ڈیجیٹلائزیشن شروعوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر اظہارِ افسوسسابق آرمی چیف جنرل (ر) عبد الوحید کاکڑ انتقال کرگئےکوئٹہ: سبزل روڈ پر فائرنگ، 3 افراد جاں بحقبرازیل میں نئی تاریخ رقم، ایل دا سلوا چوتھی بار ملک کے صدر منتخب ہو گئےسربیا، طلبا کی احتجاجی تحریک رنگ لے آئی، انتخابات میں طویل عرصے سے برسر اقتدار رہنما کو شکستوطن سے وفاداری؛ فتنہ الہندوستان سے وابستہ افراد سے اہلخانہ کا اعلانِ لاتعلقیاحتجاج کیس؛ علیمہ خان کے خلاف فیصلہ 26 نومبر کو سنایا جائے گا

گیریژن سٹیٹ، دفاعی ضروریات اور قومی ترقی کا نادیدہ توازن

محترم قارئین، امریکی سیاسی سائنسدان ہیرالڈ لاسویل نے 1941 میں پہلی بار “گیریژن سٹیٹ” (عسکری ریاست) کا مفہوم پیش کیا۔ یہ ایک ایسا معاشی اور سیاسی ڈھانچہ ہے جہاں ریاست کی تمام تر ترجیحات، قومی بیانیہ اور معاشی وسائل کا محور انسانی فلاح و بہبود کے بجائے صرف سیکیورٹی اور دفاعی ضروریات بن جاتے ہیں۔ جب کسی قوم میں مسلسل بیرونی يا اندرونی خطرات کا احساس پروان چڑھتا ہے، تو معاشرے میں طاقت کا توازن قدرتی طور پر سویلین اداروں سے سیکیورٹی اداروں کی طرف منتقل ہونے لگتا ہے۔ اس صورت حال میں سیکیورٹی کا بیانیہ باقی تمام قومی ترجیحات پر حاوی ہو جاتا ہے اور ملک کے قیمتی قومی وسائل کا ایک بڑا حصہ تعلیم اور صحت ڈھانچے کے بجائے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے پر صرف ہوتا ہے۔کسی بھی گیریژن سٹیٹ میں پالیسی سازی کی باگ ڈور روایتی ماہرین معاشیات يا جمہوریت پسند سیاست دانوں کے بجائے عسکری و سیکیورٹی ماہرین کے ہاتھ میں آ جاتی ہے۔ اس نظام کی سب سے بڑی علامت بجٹ میں شدید عدم توازن کی صورت میں سامنے آتی ہے، جہاں انسانی ترقی اور عوامی خوشحالی کے منصوبے ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، سیکیورٹی ادارے سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کے مختلف شعبوں، جیسے کہ ہاؤسنگ، صنعت، اور تجارتی اداروں میں بھی فعال کردار ادا کرنے لگتے ہیں۔ یہ ماڈل دنیا کے مختلف ممالک، بالخصوص مصر، ترکی اور پاکستان جیسے خطوں میں مختلف ادوار میں نمایاں رہا ہے۔ اس نظام میں خارجہ پالیسی بھی مکمل طور پر سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے ترتیب دی جاتی ہے، جس کے باعث تجارتی، ثقافتی اور تعلیمی روابط دفاعی مفادات کے تابع ہو کر رہ جاتے ہیں۔میڈیا، قومی نصاب اور عوامی بیانیے پر سخت کنٹرول بھی ایسی ریاست کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہوتا ہے، جہاں اختلافی آوازوں کو قومی مفاد کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ اس مسلسل عمل کے نتیجے میں پارلیمنٹ، عدلیہ اور پولیس جیسے سویلین ادارے انتظامی طور پر کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں، جس سے سیاسی نااہلی اور ادارہ جاتی عدم توازن جنم لیتا ہے۔ اگرچہ حامیوں کا موقف ہوتا ہے کہ غیر مستحکم خطے میں ریاست کا بقا اور استحکام صرف ایک مضبوط عسکری ادارے کے مرہون منت ہوتا ہے، مگر ناقدین کے نزدیک اس کی معاشی اور سیاسی قیمت انتہائی سنگین ہوتی ہے۔ غیر متوازن ترجیحات کے باعث مہنگائی، سویلین اداروں کی زوال پذیری، اور سفارتی تنہائی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں، جو بالآخر کسی بھی قوم کے پائیدار مستقبل کو متاثر کرتے ہیں۔ایک حقیقی فلاحی ریاست اپنے شہریوں کو صحت، تعلیم اور مساوی مواقع فراہم کرنے کو اولین ترجیح گردانتی ہے، جبکہ ایک گیریژن سٹیٹ سیکیورٹی کو ہر چیز پر مقدم رکھتی ہے۔ کسی بھی قوم کی حقیقی مضبوطی اور پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہ دفاعی ضروریات اور عوامی فلاح کے درمیان ایک معقول اور متوازن حکمت عملی اختیار کرے۔ جب تک سویلین اداروں کو مضبوط نہیں کیا جائے گا اور انسانی ترقی پر توجہ نہیں دی جائے گی، اس وقت تک جامع اور پائیدار ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *