Banner
Daily Sahafat Quetta
October 26, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
برازیل میں نئی تاریخ رقم، ایل دا سلوا چوتھی بار ملک کے صدر منتخب ہو گئےسربیا، طلبا کی احتجاجی تحریک رنگ لے آئی، انتخابات میں طویل عرصے سے برسر اقتدار رہنما کو شکستوطن سے وفاداری؛ فتنہ الہندوستان سے وابستہ افراد سے اہلخانہ کا اعلانِ لاتعلقیاحتجاج کیس؛ علیمہ خان کے خلاف فیصلہ 26 نومبر کو سنایا جائے گاپی ٹی آئی کے ڈاکٹر امجد علی کے 13 سال میں 51 مرتبہ بیرونِ ممالک سفر پر تحقیقات شروعپی سی ایل سے نام نہ نکالنے پر توہین عدالت؛ ڈی جی ایف آئی اے اور امیگریشن ذاتی حیثیت میں طلبشرح سود کے تعین کیلیے مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج ہوگاافغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہوئی تو پاکستان ہراقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے، طارق فضل چوہدریایل پی جی کارگو پاکستان پہنچنے کے باوجود قیمتیں کم نہ ہو سکیںعباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم کا خدشہ ظاہر کر دیابرازیل میں نئی تاریخ رقم، ایل دا سلوا چوتھی بار ملک کے صدر منتخب ہو گئےسربیا، طلبا کی احتجاجی تحریک رنگ لے آئی، انتخابات میں طویل عرصے سے برسر اقتدار رہنما کو شکستوطن سے وفاداری؛ فتنہ الہندوستان سے وابستہ افراد سے اہلخانہ کا اعلانِ لاتعلقیاحتجاج کیس؛ علیمہ خان کے خلاف فیصلہ 26 نومبر کو سنایا جائے گاپی ٹی آئی کے ڈاکٹر امجد علی کے 13 سال میں 51 مرتبہ بیرونِ ممالک سفر پر تحقیقات شروعپی سی ایل سے نام نہ نکالنے پر توہین عدالت؛ ڈی جی ایف آئی اے اور امیگریشن ذاتی حیثیت میں طلبشرح سود کے تعین کیلیے مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اہم اجلاس آج ہوگاافغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہوئی تو پاکستان ہراقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے، طارق فضل چوہدریایل پی جی کارگو پاکستان پہنچنے کے باوجود قیمتیں کم نہ ہو سکیںعباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم کا خدشہ ظاہر کر دیا

درس گاہیں مقتل گاہیں کیوں بنتی جا رہی ہیں

پشاور کے ایک نجی اسکول میں قیامت ٹوٹ پڑی۔ بوسیدہ چھت زمین بوس ہوئی تو بتیس معصوم پھول اور دو شفیق اساتذہ منوں مٹی تلے ہمیشہ کے لیے سو گئے۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں تھا، یہ ایک قتل تھا۔ ایسا قتل جس کا مقدمہ ہماری پوری ریاستی بے حسی، انتظامیہ کی مجرمانہ چشم پوشی اور تعلیم کو منافع بخش کاروبار بنانے والی بے رحم ذہنیت کے خلاف درج ہونا چاہیے۔
کہا جا رہا ہے کہ یہ سانحہ اچانک پیش آیا۔ یہ سفید جھوٹ ہے۔ ابتدائی شواہد چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ یہ ایک سوچی سمجھی غفلت کا نتیجہ تھا۔ ننھے بچوں نے خود اپنی آنکھوں سے چھت میں پڑتی ہوئی موت کی دراڑیں دیکھیں اور انتظامیہ کو خبردار بھی کیا۔ مگر علم کے ان سوداگروں نے چند ہزار روپے کی مرمت سے بچنے کے لیے ایک کمزور لکڑی کا ٹیکا لگا کر اسی موت کے سائے تلے کلاسیں جاری رکھیں۔ وہ لکڑی تو بوجھ نہ سہار سکی، مگر اس نے ہماری قومی حس کے جنازے کا بوجھ ضرور سب کے سامنے رکھ دیا۔
یہ پہلا نوحہ نہیں ہے۔ پشاور کی یہ چیخیں کوئی نئی نہیں۔ یہ اسی تسلسل کا حصہ ہے جسے ہم ہر بار بھول جاتے ہیں۔ کیا ہم بھول گئے کہ 2014 میں جھنگ میں ایک اسکول وین میں نصب غیر قانونی گیس سلنڈر پھٹنے سے کتنے معصوم بستہ سمیت راکھ بن گئے تھے؟ کیا 2018 میں اٹک کے سرکاری اسکول کی چھت گرنے سے زخمی ہونے والے بچوں کی آہیں ہمارے کانوں سے محو ہو گئیں؟ اور کیا 2023 میں کوہاٹ کے تانڈہ ڈیم میں پیش آنے والا وہ لرزہ خیز منظر ہماری یادوں سے مٹ گیا ہے، جہاں پچاس سے زائد طلبہ کو بغیر لائف جیکٹ کے، ایک چھوٹی سی ڈونگی نما کشتی میں جانوروں کی طرح ٹھونس کر ڈبونے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا؟ ان تمام سانحات میں ایک قدر مشترک ہے: یہ تمام حادثات روکے جا سکتے تھے۔ یہ قدرت کا قہر نہیں، انسان کی بے حسی کا تحفہ تھے۔
آج صورتحال یہ ہے کہ ہر گلی، ہر محلے میں دو کمروں کے مکان، تاریک تہہ خانے اور غیر قانونی پلازے اسکول بنے ہوئے ہیں۔ جہاں نہ ہوا کا گزر ہے، نہ روشنی کا، نہ ہنگامی اخراج کا کوئی راستہ ہے اور نہ آگ بجھانے کا کوئی آلہ۔ دوسری طرف ہمارے ریگولیٹری ادارے اور محکمہ تعلیم کے دفاتر صرف فیسوں کے چالان اور رجسٹریشن کے کاغذوں تک محدود ہو چکے ہیں۔ کوئی افسر فیلڈ میں جا کر یہ دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ جس عمارت میں ہمارے بچوں کا مستقبل پروان چڑھ رہا ہے، اس کی بنیادیں کتنی کھوکھلی ہیں۔ کیونکہ ہمارے نظام میں ایک غریب کے بچے کی جان کی قیمت ایک اسٹامپ پیپر سے زیادہ نہیں رہی۔

اگر ہم واقعی نہیں چاہتے کہ کل کسی اور ماں کی گود اجڑے، تو ہمیں رسمی تعزیتی بیانات اور کاغذی انکوائری کمیٹیوں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ اول: ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں کے لیے سالانہ
Infrastructure Safety Audit
کو لازمی قرار دیا جائے۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے تصدیق شدہ انجینئر سے فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر کسی اسکول کو تدریس کی اجازت نہ دی جائے۔ دوم: ہر اسکول میں فائر ایکسٹنگوئشر، ابتدائی طبی امداد اور ہنگامی راستوں کو لازمی قرار دے کر ہر چھ ماہ بعد Safety Drills کرائی جائیں، تاکہ بچہ کتاب کے ساتھ اپنی جان بچانا بھی سیکھے۔ سوم: محکمہ تعلیم ایک پبلک سیفٹی ایپ اور ہیلپ لائن متعارف کروائے جہاں کوئی بھی والد، استاد یا طالب علم کسی بھی مخدوش عمارت یا غیر محفوظ وین کی تصویر اور ویڈیو خفیہ طور پر اپ لوڈ کر سکے، جس پر 48 گھنٹے میں کارروائی قانوناً لازم ہو۔ چہارم: اسکول ٹرانسپورٹ کے لیے ٹریفک پولیس اور محکمہ تعلیم کی مشترکہ ٹاسک فورس بنائی جائے جو گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ اور ڈرائیوروں کی اہلیت کی کڑی نگرانی کرے۔ پنجم اور سب سے اہم: انتظامی غفلت سے ہونے والی ہلاکتوں کو محض حادثہ یا قتلِ خطا نہ سمجھا جائے۔ ذمہ دار اسکول مالک اور رشوت لے کر چشم پوشی کرنے والے انسپکٹر کے خلاف مجرمانہ غفلت اور اقدامِ قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا کا صوبہ بھر کے نجی اسکولوں کی ہنگامی بنیادوں پر جانچ پڑتال کا حالیہ حکم نامہ بلاشبہ ایک بروقت اور خوش آئند قدم ہے۔ گورنر راج کے اس دور میں جہاں انتظامیہ براہِ راست گورنر ہاؤس کے ماتحت ہے، امید کی جانی چاہیے کہ یہ مہم ماضی کی طرح محض چند روز کی اخباری سرخی بن کر نہیں رہے گی، بلکہ اس پر آہنی ہاتھوں سے عملدرآمد ہوگا۔ کیونکہ اب کسی قسم کی سیاسی مصلحت یا محکمانہ سستی کا جواز باقی نہیں رہا۔ اگر اب بھی غفلت برتی گئی تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم جاگ جائیں۔ علم کے ان مقدس ایوانوں کو مقتل گاہیں بننے سے روک لیں، ورنہ کل جب تاریخ لکھی جائے گی تو ہم سب اس خون میں برابر کے شریک ٹھہریں گے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *