Banner
Daily Sahafat Quetta
September 21, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ترقیاتی منصوبوں میں معیار اور شفافیت کو یقینی بنایا جائےگا،فیصل جمالیوفاقی وزیر ساجد حسین طوری کی وفد کے ہمراہ چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد سے ملاقاتعوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے، مہراللہ بادینیمقررہ اہداف کے حصول کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں، مہراللہ بادینیعلماء و طلباء امت کی رہنمائی اور اسلام کے سفیر ہیں، مولانا محمود الحسن قاسمیکاروباری سرگرمیوں کے ساتھ ٹریفک روانی بھی برقرار رکھی جائے، ماجد سلیمحکومت سیاسی انتقام اور غیر جمہوری ہتھکنڈے ترک کرے، مولانا عبدالقادر لونیکوئٹہ ‘ ڈائریکٹر زراعت غلام سرور سمیت دو افراد قتلمسافروں کے خلاف کریک ڈاؤن دوسرے روز بھی جاریبی وائی سی رہنما گل زادی کو قتل کیس میں عمر قید کی سزاترقیاتی منصوبوں میں معیار اور شفافیت کو یقینی بنایا جائےگا،فیصل جمالیوفاقی وزیر ساجد حسین طوری کی وفد کے ہمراہ چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد سے ملاقاتعوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے، مہراللہ بادینیمقررہ اہداف کے حصول کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں، مہراللہ بادینیعلماء و طلباء امت کی رہنمائی اور اسلام کے سفیر ہیں، مولانا محمود الحسن قاسمیکاروباری سرگرمیوں کے ساتھ ٹریفک روانی بھی برقرار رکھی جائے، ماجد سلیمحکومت سیاسی انتقام اور غیر جمہوری ہتھکنڈے ترک کرے، مولانا عبدالقادر لونیکوئٹہ ‘ ڈائریکٹر زراعت غلام سرور سمیت دو افراد قتلمسافروں کے خلاف کریک ڈاؤن دوسرے روز بھی جاریبی وائی سی رہنما گل زادی کو قتل کیس میں عمر قید کی سزا

لورالائی یونیورسٹی میں 20 ہزار زیتون کے پودے موجود ہیں،احسان اللہ کاکڑ

لورالائی(میاں محمدعامربشیر آرائیں )یونیورسٹی آف لورالائی نے زیتون کی کاشت، تحقیق، جدید پراسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تربیت اور زیتون سے متعلق کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سلطنت اردن کے ساتھ ادارہ جاتی تعاون کے نئے امکانات تلاش کرنے کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان علمی، تحقیقی اور فنی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے یونیورسٹی آف لورالائی کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ خان کاکڑ نے سلطنت اردن کے سفیر عزت مآب ڈاکٹر معین خریسات سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور اردن کے درمیان باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں بالخصوص بلوچستان میں زیتون کے شعبے کی ترقی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، تحقیق، پیداوار میں اضافے اور زیتون سے وابستہ کاروباری مواقع پیدا کرنے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ خان کاکر نے اردن کے سفیر کو یونیورسٹی آف لورالائی کی جانب سے زیتون کے شعبے میں جاری اقدامات، مستقبل کے منصوبوں اور تحقیقی و تربیتی وژن سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کے زیتون منصوبے کا رقبہ تقریباً 220 ایکڑ پر محیط ہے، جہاں تقریباً 20 ہزار زیتون کے پودے موجود ہیں۔ یونیورسٹی کا مقصد اس منصوبے کو مستقبل میں ایک جامع زیتون تحقیق، پیداوار، تربیت اور کاروباری مرکز میں تبدیل کرنا ہے تاکہ زیتون کے شعبے سے وابستہ کسانوں، طلبہ، محققین اور نوجوان کاروباری افراد کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جدید سہولیات اور تربیت فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت معیاری زیتون کے پودوں کی تیاری کے لیے جدید نرسری کے قیام، معیاری پودوں کی فراہمی، زیتون کے تیل کی جدید طریقہ کار کے مطابق کشید و پراسیسنگ، تحقیقی و لیبارٹری سہولیات، معیار کی جانچ، پیداوار میں بہتری اور جدید زرعی طریقوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
وائس چانسلر نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی زیتون کی کاشت سے متعلق جدید تکنیک، آبپاشی، برداشت اور بعد از برداشت طریقوں کے حوالے سے کسانوں، طلبہ اور محققین کے لیے تربیتی پروگرامز بھی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ زیتون سے تیار ہونے والی مختلف ویلیو ایڈڈ مصنوعات، جدید پیکجنگ، برانڈنگ اور مارکیٹنگ کے ذریعے مقامی پیداوار کو قومی اور بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچانے کے امکانات بھی تلاش کیے جا رہے ہیں۔ملاقات میں یونیورسٹی کے مرکز برائے کاروباری سرگرمیوں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا۔ بتایا گیا کہ مرکز برائے کاروباری سرگرمیاں پہلے ہی 16 کمپنیوں کو کاروباری سہولیات اور رہنمائی فراہم کر چکا ہے، جس سے زیتون کے شعبے میں نوجوانوں کے لیے نئے کاروباری مواقع پیدا کرنے اور انہیں زیتون کی مکمل ویلیو چین کا حصہ بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔اس موقع پر اردن کے زیتون کے شعبے میں حاصل کیے گئے تجربات سے استفادہ کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ اردن کی زیتون کی کاشت، زیتون کے تیل کی پیداوار، جدید پراسیسنگ، معیار، تحقیق اور ویلیو ایڈیشن کے شعبوں میں تجربات کو بلوچستان کے حالات کے مطابق بروئے کار لانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔دونوں جانب سے اس امر پر بھی غور کیا گیا کہ مستقبل میں یونیورسٹی آف لورالائی اور اردن کی جامعات، تحقیقی اداروں، سرکاری تنظیموں اور زیتون کے شعبے سے وابستہ اداروں کے درمیان روابط قائم کیے جائیں، جن کے ذریعے مشترکہ تحقیقی منصوبے، ماہرین اور طلبہ کے تبادلے، تربیتی پروگرامز، نرسری ڈویلپمنٹ، جدید زیتون کشید ٹیکنالوجی، لیبارٹری ٹیسٹنگ، معیار کی یقین دہانی، سرٹیفکیشن، ویلیو ایڈیشن اور برانڈنگ کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔یونیورسٹی آف لورالائی کی جانب سے زیتون کے شعبے کے لیے ’’فارم ٹو بوتل‘‘ کے مکمل نظام کے قیام کا وژن بھی پیش کیا گیا۔ اس تصور کے تحت زیتون کی نرسری اور باغات سے لے کر کاشت، دیکھ بھال، برداشت، تیل کی کشید، لیبارٹری ٹیسٹنگ، معیار اور سرٹیفکیشن، پیکجنگ، برانڈنگ اور مارکیٹنگ تک تمام مراحل کو ایک مربوط نظام کے تحت منظم کرنے کا منصوبہ ہے۔
اس وژن کا مقصد بلوچستان میں زیتون کے شعبے کو جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی سے منسلک کرتے ہوئے مقامی کسانوں اور پیداوار کنندگان کی استعداد کار میں اضافہ، نوجوانوں کے لیے روزگار و کاروباری مواقع پیدا کرنا اور زیتون کی مصنوعات کو قومی و عالمی منڈیوں تک رسائی کے قابل بنانا ہے۔
وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ خان کاکر نے اردن کے سفیر ڈاکٹر معین خریسات کی جانب سے زیتون کے شعبے میں تعاون اور مفید تبادلہ خیال کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور اردن کے درمیان علمی و تحقیقی روابط کو مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان مستقبل میں عملی روابط قائم ہوں گے اور زیتون کے شعبے میں تحقیق، جدت، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تربیت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات سامنے آئیں گے۔
یونیورسٹی آف لورالائی کے اس اقدام کو بلوچستان میں زیتون کے شعبے کی ترقی، جدید زرعی تحقیق کے فروغ، نوجوانوں کی کاروباری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور پاکستان و اردن کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *