Banner
Daily Sahafat Quetta
September 20, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
زیارت شہداء کمیٹی کا جمعیت نظریاتی کے تعاون پر اظہار تشکرموئن جو دڑو ٹرین بحال، روہڑی سے سروس کا دوبارہ آغاز سکھر، لاڑکانہ اور دادو کے مسافروں کو سستی سفری سہولت بحالبغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 140 مسافر پکڑے گئےفرید احمد قمبرانی پاکستان میڈیا کونسل ضلع اوستا محمد کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری منتخب، سیاسی و سماجی حلقوں کی مبارکبادجشنِ امجد اقبال امجد چالیس سالہ ادبی سفر ، لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ اور محبتوں کی تاریخی شاملورالائی یونیورسٹی میں 20 ہزار زیتون کے پودے موجود ہیں،احسان اللہ کاکڑہر شہری کی شکایت پر فوری ایف آئی آر درج کی جائے، عبدالرحمن رفیقمسلمانوں کا عروج قرآن سے وابستگی میں ہے، محمود الحسن قاسمینوشکی میں 21 ستمبر کو مکمل کرفیو نافذ ہوگا، انتظامیہبلوچستان میں 9 ہزار سے زائد طلبہ کا ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ مکمل، راحیلہ حمید درانیزیارت شہداء کمیٹی کا جمعیت نظریاتی کے تعاون پر اظہار تشکرموئن جو دڑو ٹرین بحال، روہڑی سے سروس کا دوبارہ آغاز سکھر، لاڑکانہ اور دادو کے مسافروں کو سستی سفری سہولت بحالبغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 140 مسافر پکڑے گئےفرید احمد قمبرانی پاکستان میڈیا کونسل ضلع اوستا محمد کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری منتخب، سیاسی و سماجی حلقوں کی مبارکبادجشنِ امجد اقبال امجد چالیس سالہ ادبی سفر ، لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ اور محبتوں کی تاریخی شاملورالائی یونیورسٹی میں 20 ہزار زیتون کے پودے موجود ہیں،احسان اللہ کاکڑہر شہری کی شکایت پر فوری ایف آئی آر درج کی جائے، عبدالرحمن رفیقمسلمانوں کا عروج قرآن سے وابستگی میں ہے، محمود الحسن قاسمینوشکی میں 21 ستمبر کو مکمل کرفیو نافذ ہوگا، انتظامیہبلوچستان میں 9 ہزار سے زائد طلبہ کا ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ مکمل، راحیلہ حمید درانی

جشنِ امجد اقبال امجد چالیس سالہ ادبی سفر ، لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ اور محبتوں کی تاریخی شام

لاہور، 19 ستمبر 2026ء — ہالِ خاکسار تحریک
کچھ شامیں محض شامیں نہیں ہوتیں، تاریخ کے اوراق پر روشن باب بن جاتی ہیں۔ 19 ستمبر 2026ء کی شام ہالِ خاکسار تحریک لاہور میں منعقد ہونے والا جشنِ امجد اقبال امجد بھی ایسی ہی ایک یادگار شام تھی، جہاں امجد اقبال امجد کی چالیس سالہ ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور انہیں لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ کی شیلڈ سے نوازا گیا۔
یہ جشن محض ایک ادبی تقریب نہ تھا بلکہ محبت، دوستی، شعر و سخن اور خلوص کی ایسی بارات تھی جس میں ہر شخص اپنے دل کا کوئی نہ کوئی پھول لے کر شریک ہوا۔
انیس احمد کی بے مثال محبت
تقریب کے میزبان چیئرمین خاکسار تحریک محمد قاسم الکریم تھے، جبکہ مرکزی صدرِ علم و ادب انیس احمد، صدر وحید ناز، جنرل سیکرٹری خالد اقبال خالد، منور لودھی اور شوکت ڈھلوں سمیت خاکسار تحریک کی پوری ٹیم نے تقریب کو یادگار بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔
خصوصاً انیس احمد کی محبت اس جشن کی روح بن گئی۔ استقبال سے اختتام تک ان کی اپنائیت، گرم جوشی، برجستہ گفتگو اور مسلسل توجہ ہر لمحے محسوس ہوئی۔ پھولوں کے ہار پہنائے گئے، گل پاشی ہوئی اور مہمانوں کا ایسا استقبال کیا گیا جیسے سب کسی ادبی تقریب میں نہیں بلکہ اپنے گھر کی خوشی میں شریک ہوں۔
واقعی یوں محسوس ہوتا تھا کہ انیس احمد نے تقریب کا انتظام نہیں کیا، محبت کو منتظم بنا دیا ہے۔
ساتھ والے ہال میں شادی کی تقریب بھی جاری تھی اور وہاں سے آنے والی ڈھول کی ہلکی ہلکی آواز نے اس ادبی جشن میں ایک عجیب دل فریب رنگ بھر دیا۔ امجد اقبال امجد بھی اس ماحول میں ایسے لگ رہے تھے جیسے ادب کے دولہا ہوں؛ اگر دولہن اور نکاح خواں بھی موجود ہوتے تو شاید اسی رات ولیمہ بھی پکا ہوجاتا!
تلاوت سے شعر و سخن تک
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا۔ اس کے بعد صدرِ مشاعرہ محمد علی صابری نے اپنی خوب صورت صدارت کا حق ادا کرتے ہوئے اپنا کلام پیش کیا اور امجد اقبال امجد کی شخصیت اور ادبی خدمات پر نہایت محبت بھرے خیالات کا اظہار کیا، جسے حاضرین نے بھرپور دادِ تحسین سے نوازا۔
ڈاکٹر جنید رضا نے امجد اقبال امجد پر نہایت خوب صورت مکالہ پیش کیا اور محبت کے تمام پھول ان کی نذر کردیے۔ ان کی گفتگو میں ادبی احترام اور قلبی وابستگی نمایاں تھی۔
رخشندہ سیما نے امجد اقبال امجد کے لیے نظم پیش کی، جبکہ ڈاکٹر مدیحہ بتول نے ایک پُراثر مضمون کے ذریعے انہیں شاعر، نظامت کار، ادب دوست اور صاحبِ دل انسان کے طور پر پیش کیا۔
اثرا اسلم — کلام، نظم اور تحفۂ محبت
اثرا اسلم نے اپنی خوب صورت نظم اور کلام سے محفل کو شعری حسن عطا کیا اور امجد اقبال امجد کے لیے محبت و عقیدت کا اظہار کیا۔
انہوں نے امجد اقبال امجد اور انیس احمد دونوں کو سوٹ کا تحفہ بھی پیش کیا۔ یہ محض ایک تحفہ نہیں بلکہ دونوں شخصیات کے لیے خلوص، احترام اور محبت کی خوب صورت علامت تھا۔
شوکت علی ناز: “امجد آ چکا ہے اور چھا چکا ہے”
شوکت علی ناز اسلام آباد سے اپنا خصوصی کام چھوڑ کر اس جشن میں شرکت کے لیے آئے۔ انہوں نے “امجد آ چکا ہے اور چھا چکا ہے” کے عنوان سے اپنے مخصوص شگفتہ اور برجستہ انداز میں ایسی شاندار پیش کش کی کہ ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
ان کی پیش کش میں مزاح بھی تھا، محبت بھی اور امجد اقبال امجد کے لیے بے ساختہ خراج بھی۔
شعرا اور شاعرات کی محبت
ممتاز راشد لاہوری، انسپکٹر ندیم خالد، ملک سلیم اختر، طاہر فراز گل، رئیس مبین، ڈیوڈ پرستی، خاور شاہ، فیصل مبین اور دیگر شعرا نے اپنا کلام پیش کیا۔
شاعرات میں وفا تبسم، ڈاکٹر مدیحہ بتول، رخشندہ سیما اور اثرا اسلم نے کلام، نظم اور مبارک باد کے ذریعے جشن کی ادبی رونق میں اضافہ کیا۔
یوں محسوس ہوتا تھا کہ ہر شاعر اپنے ساتھ امجد اقبال امجد کے لیے کوئی خصوصی شعر، نظم، تحریر یا محبت بھرا جملہ لے کر آیا ہے۔
لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ
جشن کا سب سے باوقار لمحہ وہ تھا جب امجد اقبال امجد کو چالیس سالہ ادبی خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ کی شیلڈ پیش کی گئی۔
یہ شیلڈ چار دہائیوں کی شاعری، نظامت، ادبی وابستگی، مشاعروں اور اہلِ قلم سے تعلق کی ایک خوب صورت علامت تھی—چالیس برس کی محنت پر محبت کی مہر ۔
بریانی، چائے اور محبت
مہمانوں کی بریانی اور چائے سے پرتکلف تواضع کی گئی۔ یوں شعر و سخن کے ساتھ پاکستانی ضیافت کا ذائقہ بھی محفل میں شامل رہا۔
ننھی شاعرہ ولیزہ بھی تقریب میں موجود رہی اور تقریباً پانچ گھنٹے تک نہایت دلچسپی سے محفل میں بیٹھی، ویڈیوز اور فوٹو شوٹ کرتی رہی اور شعرا کو داد بھی دیتی رہی۔ اس کی موجودگی نے محفل میں ایک معصوم اور خوب صورت رنگ بھر دیا۔
وفا تبسم نے بھی کلام اور مبارک باد پیش کرکے جشن کی چاشنی میں اپنا حصہ ڈالا۔
ہال بھرا تھا، دل بھی بھرے ہوئے تھے
ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ شعر، نثر، قہقہے، تالیاں اور محبت بھری گفتگو کا سلسلہ کئی گھنٹے جاری رہا، مگر وقت گزرنے کا احساس نہ ہوا۔
حسبِ دستور شان کی شاہی فوٹوگرافی نے تقریب کے یادگار لمحات کو محفوظ کیا اور خوب داد وصول کی۔
آخرکار یہ شام صرف امجد اقبال امجد کا جشن نہ رہی؛ یہ ادب، دوستی اور محبت کا جشن بن گئی۔ انیس احمد اور خاکسار تحریک کی پوری ٹیم نے خلوص کا ایسا سنہری باب رقم کیا جسے بھلانا آسان نہیں۔
19 ستمبر 2026ء کی یہ شام شاید اسی لیے یاد رکھی جائے گی کہ اس روز ایک شاعر کی چالیس سالہ ادبی خدمات
خراج پیش کرتے ہوئے، پورے شہرِ ادب نے مل کر محبت کا ایک خوب صورت چراغ روشن کیا۔
اور محفل کا سب سے برجستہ جملہ شاید اسی پوری شام کا عنوان بن گیا:
“امجد آ چکا ہے
اور چھا چکا ہے ۔”

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *