Banner
Daily Sahafat Quetta
July 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےذہنی و فکری معذوری کے حامل بچوں کے لیے ڈے کیئر اور علاج و بحالی کے مراکز بنائے جائیں،سلمی سعید ہاشمیجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےذہنی و فکری معذوری کے حامل بچوں کے لیے ڈے کیئر اور علاج و بحالی کے مراکز بنائے جائیں،سلمی سعید ہاشمی

ملک روشان کون ہے

ملک روشان کون ہے
‎تحریر: انور شاہین

‎ملک روشان مرغہ زکریازی کے اُن عظیم شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی پشتونولی کے اصولوں اور اقدار کی روشنی میں بسر کی۔ آپ 15 مارچ 1878ء کو مرغہ زکریازی کے گاؤں نارین میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام ملک ظریف تھا، جن کا ذکر کوئٹہ پشین گزٹیئر میں سلیمان خیل قبیلے کے ایک ممتاز فرد کے طور پر موجود ہے۔ سلیمان خیل، کاکڑ قبیلے کی ایک اہم شاخ ہے۔ ملک روشان کی پوری زندگی پشتونولی کا عملی مظہر تھی، جس کا اظہار اُن کے کردار، سخاوت اور طرزِ زندگی سے نمایاں طور پر ہوتا تھا۔
‎پشتونولی محض ایک رسم یا روایت نہیں بلکہ ایک مکمل اخلاقی فلسفہ ہے، جس میں عزت، مہمان نوازی، وفاداری، غیرت اور سخاوت کو انسان کی شخصیت کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ ملک روشان اسی فلسفے کی ایک زندہ مثال تھے۔
‎روایت ہے کہ اُن کے پاس ایک نہایت مشہور گھوڑا تھی، جس نے سبی میلے کی گھڑ دوڑ میں سات مرتبہ کامیابی حاصل کی تھی۔ جب اُس گھوڑا نے آخری مرتبہ مقابلہ جیتا تو ایک برطانوی کمشنر نے ملک روشان سے پوچھا:
‎”اس گھوڑا کی قیمت کیا ہے؟”
‎ملک روشان نے جواب دیا:
‎اس گھوڑا کی قیمت تمہاری پوری برطانوی حکومت بھی ادا نہیں کر سکتی۔ لیکن تم میرے مہمان ہو، اور پشتونولی میں عورت کے سوا مہمان کی کوئی خواہش رد نہیں کی جاتی۔ تمہارے احترام یہ گھوڑا میں تمہیں بطور تحفہ دیتا ہوں۔
‎یہ صرف ایک تحفہ نہیں تھا بلکہ پشتونولی کے اُس اعلیٰ تصورِ مہمان نوازی کا اظہار تھا جس میں مادی اقدار، انسانی احترام کے سامنے ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔ اس واقعے سے ملک روشان کی اپنے وطن اور قوم سے محبت بھی واضح ہوتی ہے۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ایک گھوڑا کی قیمت پوری برطانوی حکومت بھی ادا نہیں کر سکتی، تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ وہ ایک بااثر ملک تھے، لیکن انہوں نے کبھی اپنے وطن پر غیر ملکی حکمرانی کو دل سے قبول نہیں کیا اور نہ ہی اپنی سرزمین کو کسی مادی قیمت پر تولنے کے قابل سمجھا۔ پشتون ثقافت میں دولت کا مقصد صرف جمع کرنا نہیں بلکہ عزت، انسانیت اور اعلیٰ اخلاق کی حفاظت کرنا ہے۔
‎ملک روشان کے انصاف اور حق شناسی کی ایک اور مثال بھی قابلِ ذکر ہے۔ ایک روز انہوں نے اپنے بھائی مولوی امین کو بلایا اور کہا:
‎”آج ہم اپنی جائیداد تقسیم کرتے ہیں اور الگ الگ زندگی گزارتے ہیں۔”
‎مولوی امین حیران ہوئے اور وجہ دریافت کی۔ ملک روشان نے جواب دیا:
‎میرا بیٹا ملک حلیم اُس کمبل پر جوتوں سمیت چڑھ گیا ہے جو ہم دونوں کی مشترکہ ملکیت ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اس عمل کا حق تمہیں کیسے ادا کروں۔
‎بظاہر یہ ایک معمولی سی بات تھی، لیکن درحقیقت یہ امانت داری اور حقوق العباد کے اُس بلند احساس کی عکاسی کرتی ہے جو پشتونولی کے گہرے اخلاقی اصولوں میں شامل ہے۔ ملک روشان نہیں چاہتے تھے کہ کسی دوسرے کا حق، خواہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، اُن کے ذمے باقی رہے۔
‎ملک روشان وہ شخصیت بھی تھے جن کی میزبانی افغانستان کے عظیم قومی رہنما اور آزادی کے ہیرو غازی امان اللہ خان نے قبول کی تھی جب وہ جنوبی پشتونخوا تشریف لائے۔ بعض روایات کے مطابق غازی امان اللہ خان دو راتیں اُن کے مہمان رہے، جبکہ بعض روایات صرف ایک ظہرانے کا ذکر کرتی ہیں۔ تاہم دونوں صورتوں میں ایک حقیقت واضح ہے کہ ایسے لوگوں کے دروازے صرف گھروں کے دروازے نہیں ہوتے بلکہ عزت، مہمان نوازی اور قومی شعور کے دروازے ہوتے ہیں۔ اگر ملک روشان ایک باوقار پشتون افغان نہ ہوتے تو غازی امان اللہ خان جیسا وطن دوست رہنما کبھی اُن کی میزبانی قبول نہ کرتا۔
‎انسان کی عظمت اس بات میں نہیں ہوتی کہ اُس کے پاس کتنی دولت ہے، بلکہ اس میں ہوتی ہے کہ وہ اپنی دولت، قوت اور سماجی حیثیت کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ملک روشان وہ انسان تھے جنہوں نے اپنی دولت سخاوت کے لیے، اپنا وقار انسانیت کے لیے، اور اپنی پوری زندگی پشتونولی کے اعلیٰ اقدار کے تحفظ کے لیے وقف کر دی۔
‎اسی لیے ملک روشان کا نام محض ایک فرد کا نام نہیں بلکہ اُس دور کے پشتون اخلاق، مہمان نوازی، انصاف اور سخاوت کی ایک زندہ یادگار ہے؛ ایسی یادگار جو آج بھی پشتونولی کے فلسفے کے ایک روشن باب کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *