Banner
Daily Sahafat Quetta
November 4, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
لکی مروت: پولیس کے ساتھ جھڑپ میں خودکش بمبار سمیت 2 خارجی دہشتگرد ہلاکعمران خان اور بشریٰ بی بی کیخلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس سے متعلق اپیلوں میں بڑی پیش رفتوفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا میں ٹرانسفارمر بیسڈ لوڈ مینجمنٹ سسٹم متعارف کروانے کا فیصلہمستحق لوگوں کو ایل پی جی پر بی آئی ایس پی کے ذریعے ریلیف دیں گے، وزیر پیٹرولیمانسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، جی ایس پی پلس اسٹیٹس کوخطرات لاحقعمران خان کا آئندہ احتجاجی سیاست سے دور رہنے کا اعلان، ہائی کورٹ سے معافی مانگ لیغیر قانونی بھرتیاں؛ مولانا فضل الرحمن کے بیٹے کے گرد گھیرا تنگ، نیب اور ایف آئی اے متحرکبلوچستان میں پائیدار امن اور ریاستی عملداری ہر صورت یقینی بنائیں گے،وزیر اعلیٰ بلوچستانکوئٹہ: امداد اسپتال سے اکرم اسپتال تک کا علاقہ فری ٹریفک زون قرارمولانا فضل الرحمٰن کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے، ہر مشکل گھڑی میں ساتھ کھڑے ہیں، میر نعیم خان عمرانیلکی مروت: پولیس کے ساتھ جھڑپ میں خودکش بمبار سمیت 2 خارجی دہشتگرد ہلاکعمران خان اور بشریٰ بی بی کیخلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس سے متعلق اپیلوں میں بڑی پیش رفتوفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا میں ٹرانسفارمر بیسڈ لوڈ مینجمنٹ سسٹم متعارف کروانے کا فیصلہمستحق لوگوں کو ایل پی جی پر بی آئی ایس پی کے ذریعے ریلیف دیں گے، وزیر پیٹرولیمانسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، جی ایس پی پلس اسٹیٹس کوخطرات لاحقعمران خان کا آئندہ احتجاجی سیاست سے دور رہنے کا اعلان، ہائی کورٹ سے معافی مانگ لیغیر قانونی بھرتیاں؛ مولانا فضل الرحمن کے بیٹے کے گرد گھیرا تنگ، نیب اور ایف آئی اے متحرکبلوچستان میں پائیدار امن اور ریاستی عملداری ہر صورت یقینی بنائیں گے،وزیر اعلیٰ بلوچستانکوئٹہ: امداد اسپتال سے اکرم اسپتال تک کا علاقہ فری ٹریفک زون قرارمولانا فضل الرحمٰن کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے، ہر مشکل گھڑی میں ساتھ کھڑے ہیں، میر نعیم خان عمرانی

آخر آگیا ہے وہ شاہکار جس کا ہم سب کو تھا بے پناہ انتظار!

آخر آگیا ہے وہ شاہکار جس کا ہم سب کو تھا بے پناہ انتظار!
تحریر،پلوشہ خان
قارئین، احمد خان اچکزئی کی کتاب “واشنگٹن سے بیجنگ تک: دی گریٹ گیم کا خاتمہ” آخر کار شائع ہو چکی ہے۔ احمد خان اچکزئی کی یہ تصنیف محض کاغذ کے چند ورق نہیں، بلکہ ایک سچے راہ پیما کی بیس بہاروں کی کاوشِ مسلسل کا گہوارہ ہے، جس کی ہر سطر ان کے جواں سالی سے لے کر پختگی تک کے سفرِ فکر کی آئینہ دار ہے، اور جن کی زندگی آج بھی افقِ جاں پر ایک مہتاب کی مانند روشن ہے، جو ہمارے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ اس کتاب میں احمد خان اچکزئی نے اپنی ذات کے دشتِ آرزو سے لے کر زیست کے پیچ و خم، اپنی جدوجہد کی داستانِ درد سے لے کر علاقائی سیاست کے پیچیدہ معرکے، پشتون قوم کے نفسیاتی شعور کی گہری تہوں، ان کی پولیٹیکل اکانومی کی بے سر و سامانی، ان کے سماجی زوال کے اسبابِ بنیادی، ان کی زندگی میں مذہب کے مقامِ رفیع، اور تعلیم سے بیگانگی کے المناک انجام جیسے حساس موضوعات کا احاطہ کیا ہے۔ انہوں نے عالمی تاریخ کے ان انقلابات کا بھی گہرا تجزیہ کیا ہے جن میں ریڈ آرمی اور کے جی بی کا زوال، برطانوی سلطنت کی زوال پذیری، افغانستان کی تاریخ کے خونی موڑ اور وہاں کی موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی جیو سٹریٹجک اہمیت، اس کے ساحل و وسائل اور وہاں جاری شورش کے پسِ پردہ محرکات کے ساتھ امریکی تاریخ، اس کی دنیا پر حکمرانی کے عروج و زوال اور اس عظیم کھیل یعنی “نیو گریٹ گیم” تک جو دنیا کے سرکش طاغوتوں کے درمیان رواں ہے، ہر موضوع پر احمد خان اچکزئی نے ایسے صائب نظر کی حیثیت سے گفتگو کی ہے، اور ایسے پختہ قلم سے حقیقت نگاری کی ہے کہ قاری حیرت زدہ و ششدر رہ جاتا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک ہی انسان میں، ایک ہی وقت میں، علوم و فنون کا اتنا وسیع، جامع اور عمیق احاطہ ہو؟ یہ محض احمد خان اچکزئی کے قلم کا کمال نہیں، بلکہ ان کے فکر کا کرتب ہے، بصیرت کا جلوہ ہے، اور اس ذات کا معجزہ ہے جس نے اپنے تجربے کی چنگاریوں سے پڑھنے والوں کے سینکڑوں سوالات کے مدلل اور تاریخی جوابات دیے ہیں۔ یہ کتاب بین الاقوامی تعلقات، عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں اور طاقت کے بدلتے ہوئے مراکز کو سمجھنے کے لیے ایک مستند ترین دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ مصنف نے واشنگٹن کے ایوانوں سے لے کر بیجنگ کی ابھرتی ہوئی معاشی و عسکری قوت تک کے سفر کو جس معروضی انداز میں قلمبند کیا ہے، وہ قاری کو تاریخ کے ایک ایسے سحر انگیز سفر پر لے جاتا ہے جہاں ماضی، حال اور مستقبل کے دھارے آپس میں ملتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس بے مثال تالیف کا ایک ایک لفظ گواہ ہے کہ جب گہری تحقیق، ذاتی مشاہدات، اور بے لوث فکری سچائی یکجا ہو جائیں تو ایسا ہی لافانی شاہکار تخلیق پاتا ہے جو آنے والی نسلوں کے فکری شعور کی آبیاری کرتا رہے گا۔ یہ تصنیف فکر و نظر کے نئے دریچے وا کرتی ہے اور عالمی سیاست کے طالب علموں، محققین اور دانشوروں کے لیے ایک ناگزیر فکری زادِ راہ ثابت ہوگی۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *