Banner

اسرائیل اور امریکہ

Share

Share This Post

or copy the link


گذشتہ چند برسوں میں امریکی ایڈ نے اسرائیل کو دنیا کی سب سے ترقی یافتہ افواج کی فہرست میں لا کے کھڑا کر دیا ہوا ہے۔ہے اور امریکی امداد کے باعث وہ امریکہ سے جدید ترین فوجی ساز و سامان بھی خریدتا ہے۔
مثال کے طور پر اسرائیل نے 50 ایف 35 لڑاکا طیارے خریدے ہیں جو میزائل حملوں کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے 27 طیارے اسرائیل کو پہنچا دیے گئے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی لاگت دس کروڑ ڈالر کے قریب ہے۔
اس کے علاوہ اسرائیل نے آٹھ کے سی 46 اے بوئینگ پیگاسس طیارے بھی خریدے جن کی لاگت اندازاً 2.4 ارب ڈالر ہے۔ یہ طیارے ایف 35 جیسے لڑاکا طیاروں کو فضا میں ہی ایندھن دوبارہ فراہم کر سکتے ہیں۔
سال 2020 میں اسرائیل کو دیے گئے 3.8 ارب ڈالر میں سے 50 کروڑ ڈالر میزائل ڈیفینس کے لیے دیے گئے جس میں اسرائیل کے آئرن ڈوم نظام اور دیگر سسٹم شامل ہیں جو اسرائیل پر فائر کیے گئے راکٹس کو فضا میں ہی روک دیتے ہیں۔ 2011 سے اب تک امریکہ نے آئرن ڈوم دفاعی نظام کے لیے 1.6 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔
اس کے علاوہ اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ عسکری ٹیکنالوجی پر مل کر کام کرتے ہوئے کروڑوں ڈالر خرچ کیے ہیں جس میں اسرائیل میں غیر قانونی داخلے کے لیے زیرِ زمین سرنگوں کا سراغ لگانے والی ٹیکنالوجی بھی شامل ہے۔
اسرائیلی حکومت عسکری ساز و سامان اور تربیت میں بے پناہ سرمایہ کاری کرتی ہے۔ یہ مشرقِ وسطیٰ کی دیگر طاقتوں سے کہیں چھوٹا ملک ہے اور یہ امریکی امداد کو اسی کمی کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق دوسری عالمی جنگ سے اب تک اسرائیل امریکی بیرونی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔
US AID کے مطابق سال 2019 میں اسرائیل افغانستان کے بعد سب سے زیادہ امریکی امداد حاصل کرنے والا ملک تھا۔ پھر اس کے بعد اردن، مصر اور عراق کا نمبر آتا ہے اور اس رقم میں اسرائیل کو میزائل ڈیفینس کے لیے دیے گئے 50 کروڑ ڈالر شامل نہیں ہیں۔
افغانستان کو دیا گیا بہت سا پیسہ ملک میں استحکام لانے کی امریکی فوج کی کوششوں پر استعمال ہوا ہے جو 2001 میں امریکہ کے حملے کے بعد سے جنگ کا شکار رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کو ہی سب سے زیادہ امریکی امداد ملتی ہے۔ مصر اور اُردن بھی سب سے زیادہ امریکی امداد حاصل کرنے والوں میں سے ہیں۔ دونوں ہی ممالک اسرائیل سے ایک مرتبہ جنگ لڑنے کے بعد اب امن معاہدے کر چکے ہیں۔
دونوں ممالک کو سال 2019 میں امریکی امداد کی مد میں 1.5 ارب ڈالر ملے تھے۔امریکہ کی جانب سے اسرائیل کے لیے عسکری امداد کی کئی وجوہات ہیں جس میں 1948 میں یہودی ریاست کے قیام کے لیے امریکی حمایت کے وقت تک کے وعدے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ امریکہ اسرائیل کو مڈل ایسٹ میں ایک اہم اتحادی کے طور پر لیتا ہے اور اس کے نزدیک دونوں ممالک کے مشترکہ مقاصد اور عزائم ہیں۔ امریکی خارجہ امداد ان روابط کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ امریکی حکام اور کئی قانون ساز اسرائیل کو طویل عرصے سے خطے میں ایک اہم شراکت دار کے طور پہ دیکھتے ہیں۔ ‘امریکی امداد یہ یقینی بناتی ہے کہ اسرائیل دیگر ممکنہ علاقائی خطوں پر اپنی عسکری Superiority قائم رکھے۔’
اور امریکی امداد کا مقصد یہ بھی ہے کہ اسرائیل اتنا محفوظ ہو کہ وہ تاریخی اقدامات اٹھا سکے جو فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے اور علاقائی امن کے لیے ضروری ہیں۔’
کئی دہائیوں سے ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کی خارجہ پالیسی میں یہ شامل رہا ہے کہ اسرائیل خود کو خطے میں بیرونی خطرات سے بچا سکے۔
سال 2020 میں ڈیموکریٹ جماعت نے اپنی الیکشن کمپین کے دوران اسرائیل کے لیے ’آہنی امداد‘ کا وعدہ کیا مگر پارٹی میں بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے کچھ لوگ اب اسرائیل کے لیے امداد کے امریکی عہد پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

اسرائیل اور امریکہ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us