Banner
Daily Sahafat Quetta
August 4, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
گنداواہ: چہلم حضرت امام حسینؑ کا مرکزی ماتمی جلوس سخت سیکیورٹی میں برآمدبلوچستان کا ایک چہرہ یہ بھی ہےضلع کیچ میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو ترقیاتی فنڈز اور عوامی توقعاتاسٹاک مارکیٹ میں تیزی،امریکی ڈالر مزید سستا ہوگیا4 ممالک کے عمرہ زائرین کیلئے لازمی فوڈ واؤچر متعارفاوورسیز پاکستانیوں کے لیے بڑی سہولت، لندن سے پنجاب کی پہلی ڈیجیٹل اراضی رجسٹری کامیابی سے مکملپاکستان اور ایران کا دوطرفہ تجارت 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہکیچ: بالگتر اور تربت میں زرعی واٹر سکیموں کے لیے ٹینڈر جاریامن و امان کے پیش نظر کوئٹہ میں موبائل سروس معطل رہے گی، ضیاء اللہ لانگوتاجر برادری کے تمام جائز تحفظات دور کیے جائیں گے، ضیاءاللہ لانگوگنداواہ: چہلم حضرت امام حسینؑ کا مرکزی ماتمی جلوس سخت سیکیورٹی میں برآمدبلوچستان کا ایک چہرہ یہ بھی ہےضلع کیچ میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشیٹو ترقیاتی فنڈز اور عوامی توقعاتاسٹاک مارکیٹ میں تیزی،امریکی ڈالر مزید سستا ہوگیا4 ممالک کے عمرہ زائرین کیلئے لازمی فوڈ واؤچر متعارفاوورسیز پاکستانیوں کے لیے بڑی سہولت، لندن سے پنجاب کی پہلی ڈیجیٹل اراضی رجسٹری کامیابی سے مکملپاکستان اور ایران کا دوطرفہ تجارت 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہکیچ: بالگتر اور تربت میں زرعی واٹر سکیموں کے لیے ٹینڈر جاریامن و امان کے پیش نظر کوئٹہ میں موبائل سروس معطل رہے گی، ضیاء اللہ لانگوتاجر برادری کے تمام جائز تحفظات دور کیے جائیں گے، ضیاءاللہ لانگو

مظہر اقبال رانجھا — قول و فعل کی روشنی میں ایک درویش افسر


تحریر: امجد اقبال امجد
زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں عہدہ بڑا نہیں بناتا بلکہ ان کا کردار عہدے کو وقار عطا کرتا ہے۔ ڈی ایس پی چوہدری مظہر اقبال رانجھا انہی شخصیات میں سے ایک ہیں جنہیں دیکھ کر یہ یقین تازہ ہوتا ہے کہ دیانت، شرافت اور خدمتِ خلق ابھی اس دھرتی سے رخصت نہیں ہوئیں۔
پنجاب کی زرخیز مٹی میں جنم لینے والے یہ شخص اپنے آباؤ اجداد کی اُن روایات کے امین ہیں جن میں عزتِ نفس، وعدے کی پاسداری اور انسان دوستی کو سب سے بڑا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور لہجے میں شائستگی اس درخت کے پھل ہیں جس کی جڑیں ایک باوقار اور بااصول خانوادے میں پیوست ہیں۔
محکمہ پولیس جیسے مشکل اور کٹھن شعبے میں کام کرتے ہوئے انسان اکثر حالات کا اسیر ہو جاتا ہے، مگر مظہر اقبال رانجھا نے ثابت کیا ہے کہ اگر نیت صاف ہو تو نظام کی گرد بھی کردار کی چمک کو ماند نہیں کر سکتی۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ جو بات زبان سے کہتے ہیں، اسے عمل سے بھی ثابت کرتے ہیں۔ آج کے دور میں قول و فعل کی یہ یکسانیت کسی نعمت سے کم نہیں۔
میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ بڑے آدمی وہ نہیں ہوتے جن کے پاس اختیارات زیادہ ہوں، بلکہ بڑے وہ ہوتے ہیں جن کے دل میں دوسروں کے لیے جگہ زیادہ ہو۔ مظہر اقبال رانجھا کی شخصیت کا یہی پہلو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ وہ لوگوں کے مسائل سنتے بھی ہیں اور ان کے حل کے لیے عملی قدم بھی اٹھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے لوگوں کی آنکھوں میں احترام اور دل میں محبت محسوس ہوتی ہے۔
اپنے علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے ان کی وابستگی بھی قابلِ تحسین ہے۔ وہ صرف سرکاری فرائض تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کی بہتری کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اصل کامیابی وہ ہے جو دوسروں کی زندگی میں آسانی پیدا کرے۔
ان کے والدِ محترم چوہدری شیر محمد مرحوم کی شرافت، علم دوستی اور سماجی خدمت کا عکس آج بھی ان کی شخصیت میں نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ یہ وہ خاندانی ورثہ ہے جو دولت سے نہیں بلکہ کردار سے منتقل ہوتا ہے۔ اسی لیے مظہر اقبال رانجھا جہاں بھی جاتے ہیں، اپنے خاندان اور اپنے گاؤں پانڈووال بالا کا نام عزت سے بلند کرتے ہیں۔
آج جب معاشرہ کردار کے بحران سے گزر رہا ہے، ایسے لوگوں کا وجود امید کی ایک روشن کرن ہے۔ مظہر اقبال رانجھا ان لوگوں میں شامل ہیں جو اپنے عمل سے یہ پیغام دیتے ہیں کہ سچائی، امانت اور خدمت کا راستہ اگرچہ مشکل ضرور ہے، مگر یہی راستہ انسان کو دلوں کا بادشاہ بناتا ہے۔
میری دعا ہے کہ وہ اسی جذبے، اخلاص اور دیانت کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیتے رہیں اور ان کی شخصیت آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال بنی رہے۔
بعض لوگ عہدوں سے پہچانے جاتے ہیں، مگر بعض عہدے اُن سے پہچانے جاتے ہیں۔ مظہر اقبال رانجھا اسی دوسری صف کے انسان ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *