Banner

ہلمند سے بکوا اور گلستان تک،افغان صحراؤں میں افیون کا عروج،پانی کا زوال و ہجرت اور عالمی المیہ

Share

Share This Post

or copy the link


​رپورٹ ۔اے کے میڈیاء ٹیم پاکستان
تلخیص و مقامی تحقیق۔احمد خان اچکزئی
ترتیب و تدوین ۔ محمد نسیم رنزوریار
(بشکریہ ڈیوڈ مینسفیلڈ، افغانستان ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن یونٹ – AREU)

[ہلمند سے بکوا اور گلستان تک]

[افغان صحراؤں میں افیون کا عروج]

[پانی کا زوال و ہجرت اور عالمی المیہ]!!!

محترم قارئین!!! افغانستان ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن یونٹ (AREU) کی جانب سے اپریل 2020 میں جاری کردہ ڈیوڈ مینسفیلڈ کی یہ مایہ ناز اور چشم کشا تحقیقی دستاویز، جنوب مغربی افغانستان (ہلمند، فراہ، نیمروز اور قندھار) کے بنجر اور تپتے ہوئے صحراؤں کی ایک ایسی ہوش ربا معاشی، جغرافیائی اور ماحولیاتی کایا پلٹ کو بے نقاب کرتی ہے جس نے عالمی محققین اور پالیسی سازوں کو حیرت کے سمندر میں دھکیل دیا ہے۔ تاریخی و جغرافیائی پس منظر کے مطابق، 1990 کی دہائی کے آخری حصے تک یہ پورا خطہ مکمل طور پر غیر آباد، ہولناک حد تک بنجر اور قحط زدہ تھا، جہاں انیسویں صدی کے اوائل سے جاری 300 روایتی کاریز (زیر زمین نہری نظام) گرتے گرتے 60 سے بھی کم رہ گئے تھے، اور رہی سہی کسر 1998 سے 2002 کے درمیان پڑنے والے صدی کے بدترین قحط نے پوری کر دی تھی۔ تاہم، سنہ 2001 میں طالبان کے پہلے دورِ حکومت کے خاتمے کے بعد، 2002 سے مقامی قبائلی کمانڈروں (نورزئی، اسحاق زئی اور بارک زئی) نے ان لاوارث سرکاری زمینوں پر غاصبانہ قبضے شروع کیے، جس کے بعد پناہ اور روزگار کی تلاش میں بھٹکتے ہوئے دیہی خاندانوں کی ہجرت کا ایک ایسا بے قابو سیلاب امڈ آیا جس نے اگلے بیس سالوں میں اس مہیب بیابان کو 1.4 ملین (چودہ لاکھ) سے زائد متحرک آبادی اور 141,000 سے زائد رہائشی احاطوں پر مشتمل ایک وسیع و عریض معاشی سلطنت میں تبدیل کر دیا۔ اس محیر العقول جغرافیائی ارتقاء اور زرعی دھماکے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سیٹلائٹ امیجری اور جغرافیائی تجزیے (NDVI ٹیکنالوجی) کے مطابق، 2009 میں جو زیرِ کاشت رقبہ محض 101,000 ہیکٹر تھا، وہ 2012 میں 157,000 ہیکٹر اور سنہ 2019 تک چھلانگ لگا کر 344,467 ہیکٹر تک پہنچ گیا، جس کا واحد محور و مرکز افیون (پوست) کی ممنوعہ کاشت کاری تھی۔اس پورے صحرائی انقلاب اور تاریخ ساز آباد کاری کا اصل معاشی انجن افیون کی معیشت تھی، جس کی رفتار کو سنہ 2008 میں نافذ کیے جانے والے برطانوی و امریکی افواج کے “ہلمند فوڈ زون” (HFZ) نامی پروگرام نے نادانستہ طور پر مزید تیز اور مستحکم کر دیا۔ جب روایتی نہری علاقوں میں افیون کی کاشت پر سخت ترین پابندی عائد کی گئی، تو غریب کسان، دہقان اور مزارعین بوغرا نہر کے شمال میں واقع گہرے اور بے رحم صحرا کی طرف منتقل ہو گئے، جہاں دیکھتے ہی دیکھتے اراضی کی قیمتیں $1,250 سے یکدم بڑھ کر $2,100 فی ہیکٹر تک پہنچ گئیں، کیونکہ افیون کی محنت طلب فصل کے لیے فی ہیکٹر 360 مزدوروں کی افرادی قوت درکار ہوتی ہے جس نے روزگار کا ایک وسیع نیٹ ورک پیدا کر دیا۔ دوسری جانب، فراہ کے خطے بکوا میں آباد کاری کا انداز سنہ 2006-2007 کی حکومتی پابندی کے بعد بالکل منفرد اور اچھوتا تھا، جہاں 99 فیصد اراضی پر غلبہ رکھنے والے نورزئی قبیلے نے زمینیں مستقل بیچنے کے بجائے باہر سے آنے والے بے زمین مزارعین کے ساتھ ایک مخصوص پانچ سالہ مالیاتی و زرعی معاہدہ قائم کیا جسے مقامی اصطلاح میں “لیکھا سسٹم” (Lekha System) کہا جاتا ہے۔ اس نظام کے تحت زمیندار ابتدائی طور پر گہرا کنواں کھود کر اور ڈیزل جنریٹر فراہم کرتا تھا، جبکہ کسان فصل کا 5/6 یا 6/7 حصہ اپنے پاس رکھ کر تمام جاری اخراجات (بیج، کھاد، تیل) خود اٹھاتا تھا اور اس پانچ سالہ اسٹرٹیجک مدت کے اختتام پر ایک فعال، زرخیز کنواں اصل مالک کے حوالے کر دیتا تھا۔
اس تیز رفتار زرعی پھیلاؤ کو جدید بنانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا سہار ا لیا گیا، جس میں سب سے پہلے بلوچستان (پاکستان) کے تجربات سے سیکھی گئی “بارما” (Deepwell) ٹیکنالوجی کے ذریعے سینکڑوں فٹ گہرے ٹیوب ویل کھودے گئے، لیکن جب 2012 سے 2015 کے دوران پے درپے چار سال تک افیون کی پیداوار گرنے لگی اور مارچ 2015 میں ڈیزل کی قیمت $1.40 فی لیٹر تک پہنچنے سے کاشت کاری کی لاگت ناقابلِ برداشت ہو گئی، تو افغان کسانوں نے چینی سولر پینلز کی سستی اور بلا تعطل سپلائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں ایک عظیم الشان “سولر دھماکہ” (Solar Explosion) کر دیا۔ ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر کے حیران کن اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پانی ذخیرہ کرنے والے مصنوعی حوضوں (جوہڑوں) کی تعداد جو 2014 میں صرف 182 تھی، وہ 2018 میں 50,360 اور 2019 تک 67,000 سے تجاوز کر گئی، جہاں بکوا کے 98 فیصد کسان محض چند سالوں میں مفت سولر توانائی پر منتقل ہو کر زمین کی اتھاہ گہرائیوں سے پانی نچوڑنے لگے۔ اسی معاشی جوش و خروش نے لیبر کی لاگت کو مزید کم کرنے کے لیے زرعی کیمیکلز اور جڑی بوٹی مار ادویات (Herbicides) کے بے تحاشا اور اندھا دھند استعمال کا رواج ڈالا، جس میں چین، ایران اور پاکستان سے اسمگل شدہ “پیرا کواٹ”، “ٹاپک” اور “پاور پیوما” جیسی زہریلی ادویات شامل تھیں، جن کے نام مارکیٹ میں خریداروں کو راغب کرنے کے لیے “کروز” اور “ځوانمرګي” (بمعنی خودکش بمبار) جیسے عجیب و غریب اور خوفناک رکھے گئے تھے۔ ان کیمیکلز نے کسانوں کے بچوں کو تپتی دھوپ میں گوڈی کرنے کی مشقت سے تو آزادی دلائی اور فی ہیکٹر $400 کی بچت بھی کرائی، جس کے نتیجے میں دلارام، ناد علی اور جون 2018 میں قائم ہونے والے “گورز” (Gurz) بازار جیسے مستقل معاشی و تجارتی مراکز قائم ہو گئے جو دیکھتے ہی دیکھتے میتھامفیٹامائن (آئس) بنانے والی خفیہ لیبارٹریوں اور پہاڑی جڑی بوٹی “ایفڈرا” (اومن) کے ہول سیل عالمی مراکز بن گئے، لیکن اس اندھی معاشی دوڑ نے ایک انتہائی بھیانک، ناقابلِ تلافی اور خاموش ماحولیاتی المیے کو جنم دے دیا۔مفت سولر پاور کے ذریعے 24 گھنٹے بلا تعطل چلنے والے ہزاروں ٹیوب ویلوں نے زیرِ زمین پانی کا وہ بے دریغ اور بے رحمانہ ضیاع شروع کیا کہ بغرا کے شمال میں پانی کی سطح 10 میٹر سے گر کر 30 میٹر اور بکوا کے صحراؤں میں 60 میٹر سے زائد پاتال میں چلی گئی، جس سے پینے کے صاف پانی کے کنویں مکمل طور پر خشک ہو گئے، جبکہ دوسری طرف کیمیائی کھادوں اور ادویات کے زہریلے اثرات نے زیر زمین پانی میں نائٹریٹ کی مقدار کو عالمی ادارہ صحت (WHO) کی مقرر کردہ 50 ملی گرام کی محفوظ حد سے کہیں اوپر پہنچا کر معصوم نوزائیدہ بچوں میں “بلیو بیبی سنڈروم” (بچوں کے جسم میں آکسیجن کی کمی اور نیلا پڑ جانا) کا ہلاکت خیز زہر گھول دیا ہے۔ موجودہ ہولناک صورتحال اس تیزی سے ابھرنے والے صحرائی اقتصادی ماڈل کے ناگزیر زوال (Boom to Bust) کی واضح اور خوفناک نشاندہی کر رہی ہے، کیونکہ سنہ 2018 کے سیزن میں ضرورت سے زیادہ عالمی پیداوار کی وجہ سے افیون کی قیمتیں تاریخی گراوٹ کا شکار ہو کر محض $45 فی کلو گرام پر آ گئیں، جس سے کسانوں کا منافع یکسر ختم ہو گیا اور پانی کے شدید قحط نے کنوؤں کو مستقل طور پر خشک کرنا شروع کر دیا۔ اس معاشی و ماحولیاتی بحران کا سب سے پہلا، براہِ راست اور ہولناک نشانہ یہاں کی کل آبادی کا 54 فیصد حصہ یعنی تقریباً 761,400 غریب مزارعین اور بے زمین دہقان بن رہے ہیں، جو اب اپنے خاندانوں سمیت ان صحراؤں سے نکل کر لشکر گاہ، قندھار یا پھر انسانی اسمگلروں کے خطرناک نیٹ ورکس کے ذریعے ایران، ترکی اور یورپ کی طرف ہجرتِ فرار پر مجبور ہو رہے ہیں، جبکہ باقی ماندہ 648,600 اراضی مالکان بقا کی آخری اور مایوس کن جنگ لڑتے ہوئے اپنے اثاثے بیچنے یا اپنی کم عمر بیٹیوں کی شادیاں بھاری رقوم (ولور) کے عوض کرنے پر مجبور ہیں اور اس معاشی تباہی کا ذمہ دار افغان حکومت اور مغربی طاقتوں کی ناقص پالیسیوں کو گردانتے ہیں۔ اس پورے انسانی المیے کا سب سے تاریک اور دلدوز پہلو ان صحراؤں کے بند احاطوں میں مقید خواتین کی وہ قید نما، کٹھن زندگی ہے جو شدید معاشرتی کٹاؤ، جغرافیائی تنہائی اور بنیادی طبی سہولیات و ہسپتالوں کی عدم دستیابی کے باعث شدید نفسیاتی ڈپریشن اور خودکشیوں کی ہولناک صورت میں سامنے آ رہی ہے۔اسی طرح گلستان کی زمین پر بظاہر لہلہاتی افیون کی یہ فصل دراصل ایک خونی اور بدبخت سراب ہے، جس کی جڑیں ہماری نسلوں کی تباہی اور مٹی کی موت میں دھنسی ہوئی ہیں۔ وہ گلستان جو کبھی شادابی کی علامت تھا، آج وہاں چھ ہزار (6000) کے لگ بھگ ٹیوب ویل چوبیس گھنٹے زمین کا سینہ چاک کر کے ہر ایک منٹ میں ہزاروں انچ پانی بیدردی سے باہر پھینک رہے ہیں، تاکہ سال میں دو سے تین مرتبہ اس سیاہ فصل کو سیراب کیا جا سکے۔ پانی کا یہ بے رحمانہ اور اندھا دھند اخراج اس ہولناک حقیقت کا پیش خیمہ ہے کہ وہ سیاہ دن اب دور نہیں جب پانی کا ایک ایک قطرہ ختم ہو جائے گا اور یہ پوری آبادی یہاں سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی (ہجرت) کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ آئے روز پانی اور زمین کی غیر منصفانہ تقسیم پر ہونے والا قتل عام، غارت گری، قبائلی جنگ و جدل، اموات اور زخمیوں کے دردناک واقعات کوئی اتفاق نہیں، بلکہ اس منحوس کاشت کا شاخسانہ ہیں جس نے ہمارے بھائی چارے کو بارود اور نفرت میں بدل دیا ہے۔ تاریخ گواہ رہے گی کہ افیون کی اس ہوس نے ہمیں معاشی طور پر عارضی فائدہ تو دیا، مگر بدلے میں ہماری امن و امان، اخلاقیات اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو ہمیشہ کے لیے نگل لیا، جس کے بھیانک نقصانات کا ازالہ شاید اب صدیوں تک ممکن نہ ہو پائے۔​تاریخ کا یہ سبق بالکل واضح، دوٹوک اور بے لچک ہے کہ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں تو یہ مکمل بائیکاٹ اور پانی کا خاتمہ لاکھوں انسانوں کو ایک ایسے بے قابو اور وسیع انسانی و جغرافیائی بحران کی طرف دھکیل دے گا، جس کی تباہ کن لہریں صرف گلستان تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ پورے خطے اور پڑوسی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گی۔ اس ہولناک تباہی سے بچنے کا واحد راستہ سائنسی ریسرچ اور مانیٹرنگ کے ساتھ ساتھ بخش آباد اور کمال خان جیسے ڈیموں کے پانی کا ایک منصفانہ نظام تشکیل دینا ہے، تاکہ ورلڈ بینک کی ہدایات کے مطابق کاشتکاروں کو حلال روزگار کے لیے متبادل اور زرخیز اراضی فراہم کی جا سکے۔ ہنگامی بنیادوں پر جدید باغبانی (Modern Horticulture) اور لائیوسٹاک (مال مویشی کی جدید ترویج) جیسے پائیدار ذرائع معاش کو اپنانا ہو گا، اور سب سے بڑھ کر زیرِ زمین پانی کو اندھا دھند کھینچنے والے سولر پینلز کی درآمد پر سمارٹ ٹیکسیشن عائد کرنی ہو گی تاکہ پانی کے اس اسراف کو روکا جا سکے۔ گلستان اور آس پاس کے عوام کے لیے اب یہ سوچنے کا وقت نہیں بلکہ فیصلہ کرنے کا وقت ہے۔کیا ہم چند روپوں کے عوض اپنی مٹی کو بنجر، اپنے بچوں کو پیاسا اور اپنے جوانوں کو زمین و پانی کی جنگ میں قتل ہوتا دیکھتے رہیں گے، یا پھر اس خونی فصل کو خیرباد کہہ کر حلال، پائیدار اور پرامن مستقبل کا انتخاب کریں گے؟ ہماری بقاء صرف اور صرف افیون کی مکمل دستبرداری اور پانی کے ایک ایک قطرے کی حفاظت میں پوشیدہ ہے۔

ہلمند سے بکوا اور گلستان تک،افغان صحراؤں میں افیون کا عروج،پانی کا زوال و ہجرت اور عالمی المیہ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us