Banner
Daily Sahafat Quetta
September 21, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ساؤتھ ایشین فیسٹول بخیر و خوبی جاری و ساریپشین : پشین چیمبر اف کامرس ایند اندسٹری بلوچستان کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیازیارت شہداء کمیٹی کا جمعیت نظریاتی کے تعاون پر اظہار تشکرموئن جو دڑو ٹرین بحال، روہڑی سے سروس کا دوبارہ آغاز سکھر، لاڑکانہ اور دادو کے مسافروں کو سستی سفری سہولت بحالبغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 140 مسافر پکڑے گئےفرید احمد قمبرانی پاکستان میڈیا کونسل ضلع اوستا محمد کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری منتخب، سیاسی و سماجی حلقوں کی مبارکبادجشنِ امجد اقبال امجد چالیس سالہ ادبی سفر ، لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ اور محبتوں کی تاریخی شاملورالائی یونیورسٹی میں 20 ہزار زیتون کے پودے موجود ہیں،احسان اللہ کاکڑہر شہری کی شکایت پر فوری ایف آئی آر درج کی جائے، عبدالرحمن رفیقمسلمانوں کا عروج قرآن سے وابستگی میں ہے، محمود الحسن قاسمیساؤتھ ایشین فیسٹول بخیر و خوبی جاری و ساریپشین : پشین چیمبر اف کامرس ایند اندسٹری بلوچستان کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیازیارت شہداء کمیٹی کا جمعیت نظریاتی کے تعاون پر اظہار تشکرموئن جو دڑو ٹرین بحال، روہڑی سے سروس کا دوبارہ آغاز سکھر، لاڑکانہ اور دادو کے مسافروں کو سستی سفری سہولت بحالبغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 140 مسافر پکڑے گئےفرید احمد قمبرانی پاکستان میڈیا کونسل ضلع اوستا محمد کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری منتخب، سیاسی و سماجی حلقوں کی مبارکبادجشنِ امجد اقبال امجد چالیس سالہ ادبی سفر ، لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ اور محبتوں کی تاریخی شاملورالائی یونیورسٹی میں 20 ہزار زیتون کے پودے موجود ہیں،احسان اللہ کاکڑہر شہری کی شکایت پر فوری ایف آئی آر درج کی جائے، عبدالرحمن رفیقمسلمانوں کا عروج قرآن سے وابستگی میں ہے، محمود الحسن قاسمی

مودی کے خواب چکنا چور؛ ٹرمپ کا بھارت پر بھاری ٹیرف عائد کرنے پر سنجیدگی سے غور


امریکی حکومت نے بھارت سمیت 60 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے بھارت سمیت اپنے بڑے تجارتی شراکت داروں پر نئے اضافی درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ جس کے تحت بھارتی مصنوعات پر 12.5 فیصد جبکہ برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا اور میکسیکو سمیت متعدد ممالک کی درآمدات پر 10 فیصد اضافی ڈیوٹی لگائی جا سکتی ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام ’’جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات‘‘ کی عالمی تجارت کے خلاف تحقیقات کے بعد تجویز کیا گیا ہے۔

امریکی رپورٹ میں بھارت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ان معیشتوں میں شامل ہے جہاں جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے قوانین یا تو ناکافی ہیں یا ان پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بھارت بعض عالمی سپلائی چینز میں ایک درمیانی کردار ادا کرتا ہے جہاں جبری مشقت سے تیار کردہ خام مال یا مصنوعات شامل ہوسکتی ہیں۔

دوسری جانب بھارتی حکومت نے امریکی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر واشنگٹن کے ساتھ رابطے میں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور مجوزہ ٹیرف ابھی حتمی نہیں ہے۔

ادھر امریکی حکام کے مطابق یہ ٹیرف فوری طور پر نافذ نہیں ہوں گے۔ مجوزہ اقدامات پر 6 جولائی تک عوامی آراء طلب کی گئی ہیں جبکہ 7 جولائی کو باضابطہ سماعت ہوگی، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

امریکا کا یہ مؤقف بھی رہا ہے کہ متعدد ممالک ایسی اشیا کی درآمد روکنے یا اس پر مؤثر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہے ہیں جس سے امریکی کارکنوں اور صنعتوں کو غیر منصفانہ مقابلے کا سامنا ہے۔

تجویز کے مطابق بھارت، چین، جاپان، جنوبی کوریا، برازیل اور سوئٹزرلینڈ سمیت 54 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے جبکہ کینیڈا، میکسیکو، برطانیہ، یورپی یونین، تائیوان اور بعض دیگر ممالک پر 10 فیصد اضافی ڈیوٹی لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ امریکی تجارتی مذاکرات کار اس وقت نئی دہلی میں بھارتی حکام کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں تاہم نئے ٹیرف سے ان مذاکرات پر بھی اثر پڑسکتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *