Banner

سفارت کاری کے آئینے میں پاکستان مکالمے سے منزل تک کا سفر

Share

Share This Post

or copy the link

سفارت کاری کے آئینے میں پاکستان
مکالمے سے منزل تک کا سفر

منشاقاضی
حسبِ منشا

پاکستان کی فعال سفارت کاری اور اس کے عالمی تناظر میں کردار پر گفتگو محض ایک سیاسی موضوع نہیں بلکہ ایک فکری و تہذیبی عمل بھی ہے، جو قوموں کی شناخت، وقار اور مستقبل کے راستوں کا تعین کرتا ہے۔ اسی تناظر میں “سرزمین فورم” کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس اہم نشست میں ممتاز شخصیات نے شرکت کر کے نہ صرف سفارت کاری کے پیچیدہ پہلوؤں کو اجاگر کیا بلکہ ایک ایسے فکری مکالمے کی بنیاد رکھی جو قوم کی اجتماعی سوچ کو نئی جہت دے سکتا ہے۔

اس فکری نشست کی صدارت معروف صحافی اور دانشور صفدر علی خان نے کی، جو اپنی علمی بصیرت اور تجزیاتی نگاہ کے باعث قومی مسائل پر ایک معتبر آواز سمجھے جاتے ہیں۔ صفدر علی خان کے دل کی سرزمین ہمیشہ شاداب رہی ہے اور ان کے سوچ کے چشمے جب اُبلتے ہیں تو فکری رعنائیوں کی آبِ جُو بہتی چلی جاتی ہے ۔ ایسے جلیل القدر صحافی دانشور کا وجود کسی بھی معاشرے میں ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتا ہے ان کے ساتھ مہمانِ خصوصی ممتاز عسکری دانشور لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ تھے، جن کا عسکری و سفارتی تجربہ اس مکالمے کو ایک عملی اور حقیقت پسندانہ رنگ دیتا ہے۔ یہ اجتماع اے ایف او ایچ ایس کلب، پی اے ایف فالکن کمپلیکس، گلبرگ III لاہور میں منعقد ہوا، جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک سنجیدہ اور باوقار فکری نشست ثابت ہوا۔

سفارت کاری دراصل محض ریاستی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسی فنکارانہ حکمت عملی ہے جس کے ذریعے قومیں اپنے نظریات، ثقافت اور امن کے پیغام کو دنیا تک پہنچاتی ہیں۔ پاکستان، جو ایک جغرافیائی و نظریاتی اہمیت کا حامل ملک ہے، اس کی سفارت کاری ہمیشہ سے عالمی سیاست کے پیچیدہ دھاروں میں ایک حساس اور اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ اس نشست میں اس امر پر زور دیا گیا کہ جدید دنیا میں سفارت کاری روایتی حدود سے نکل کر ڈیجیٹل، معاشی اور عوامی سفارت کاری کے نئے دائروں میں داخل ہو چکی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ نے اپنے خطاب میں اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ پاکستان کو اپنے سفارتی بیانیئے کو مزید مؤثر، مربوط اور حقیقت پسندانہ بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، عالمی طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے قومی مفادات کا تحفظ ایک نازک مگر ضروری عمل ہے، جس کے لیئے دانش، بصیرت اور جرات کا امتزاج درکار ہے۔

صفدر علی خان نے اپنی صدارتی گفتگو میں اس پہلو پر روشنی ڈالی کہ میڈیا اور دانشور طبقہ سفارت کاری کے بیانیئے کو عوام تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، جب تک قوم کو اپنی خارجہ پالیسی کے خدوخال کا شعور نہ ہو، تب تک ایک مضبوط اور متحد سفارتی مؤقف تشکیل نہیں پا سکتا۔ دیگر مقررین میں ، ملک کے نامور صحافی ہماری صحافت کی آبرو آنے والی نسلوں کی آرزو میری تو جستجو ہیں میری مراد جناب مجیب الرحمٰن شامی جنہوں نے اپنے شائستہ اور تہذیبی لہجے سے لفظوں کو اذیناک ہونے نہیں دیا ۔ آپ نے اختلافات کے بطن سے حکمت و دانائی کی شمعیں فروزاں کیں ہیں ۔ ہر آنے والے مقرر نے آپ کا نام لیئے بغیر اپنا بیان اور خطاب مکمل نہیں کیا ۔ پروفیسر ڈاکٹر افتخار الحق، پروفیسر نعیم، سید محمد مہدی، شفقت اللہ مشتاق، ندیم بھٹی، ذوالفقار احمد گھمن ، علی شیر چوھدری ، چوہدری محمد مجید ، نوید ریاض، عارف میاں، تاجر رہنما محمد ابوبکر، فرخ آصف، رانا مبشر ، عافیہ مقبول ، تسنیم کوثر اور منیر حسین نے خطاب کیا ۔ یہ نشست دراصل ایک فکری آئینہ تھی، جس میں پاکستان کی سفارت کاری کے ماضی، حال اور مستقبل کی جھلک دیکھی جا سکتی تھی۔ یہاں ہونے والی گفتگو نے یہ واضح کیا کہ سفارت کاری صرف حکومتی سطح کا عمل نہیں بلکہ یہ ایک قومی شعور ہے، جس میں ہر فرد کا کردار اہم ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس نوعیت کے فکری مکالمے نہ صرف علمی و فکری افق کو وسعت دیتے ہیں بلکہ قوم کو ایک ایسے راستے پر گامزن کرتے ہیں جہاں مکالمہ، برداشت اور حکمت عملی کے ذریعے ترقی اور استحکام کی منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔ “سرزمین فورم” کی یہ کاوش بلاشبہ ایک روشن فکری روایت کا تسلسل ہے، جو مستقبل میں بھی قومی بیانیئے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔ ۔

سفارت کاری کے آئینے میں پاکستان مکالمے سے منزل تک کا سفر

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us