Banner

عالمی تغیرات انسانیت، سیاست اور جغرافیائی کشمکش

Share

Share This Post

or copy the link

صحافت منظرنامہ
عالمی تغیرات انسانیت، سیاست اور جغرافیائی کشمکش
قارئین صحافت ۔موجودہ عالمی منظرنامہ ایک ایسی پیچیدہ صورتحال کا عکاس ہے جہاں انسانی حقوق کی پامالی اور طاقت کا توازن بگڑتا دکھائی دے رہا ہے خاص طور پر فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت نے انسانیت کے ماتھے پر بدنماء داغ سجا دیا ہے جہاں غزہ کے نہتے شہریوں پر بمباری اور غیر انسانی سلوک نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے لیکن بین الاقوامی ادارے تاحال کسی بڑے حل سے قاصر نظر آتے ہیں دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پورے خطے کو ایک خطرناک جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جس کے اثرات لبنان اور شام تک پھیل رہے ہیں عراق بھی برسوں کی خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کے بعد ابھی تک استحکام کی تلاش میں ہے جبکہ وہاں کی اندرونی سیاست میں غیر ملکی اثر و رسوخ انسانی حقوق کی صورتحال کو مزید ابتر بنا رہا ہے ادھر یوکرائن اور روس کے درمیان طویل ہوتی جنگ نے عالمی معیشت اور توانائی کے بحران کو جنم دیا ہے جہاں روسی پیش قدمی اور مغربی ممالک کی جانب سے یوکرائن کو فراہم کردہ اسلحے نے اس تنازع کو عالمی سرد جنگ کی نئی شکل دے دی ہے اس جنگ میں ہونے والا جانی و مالی نقصان اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تاریخ کا ایک سیاہ باب بن رہی ہیں ایشیاء کی جانب دیکھیں تو افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد سے خواتین کی تعلیم اور بنیادی انسانی حقوق پر لگی پابندیوں نے وہاں ایک انسانی المیہ پیدا کر دیا ہے غربت اور بھوک کی لہر نے افغان عوام کو بے حال کر رکھا ہے جبکہ عالمی برادری کے ساتھ ان کے تعلقات تاحال منجمد ہیں پاکستان ان تمام حالات کے درمیان ایک نازک جغرافیائی پوزیشن پر کھڑا ہے جہاں اندرونی معاشی چیلنجز اور دہشت گردی کی نئی لہر نے عوام کو شدید متاثر کیا ہے خاص طور پر سرحدی علاقوں میں ہونے والے واقعات اور افغان مہاجرین کا مسئلہ پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے امریکہ اپنی عالمی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے جہاں ایک طرف اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے وہیں دوسری جانب بحر ہند اور بحر الکاہل میں چین کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے کے لیے نئی صف بندیاں کر رہا ہے چین اپنی معاشی طاقت اور بیلٹ اینڈ روڈ جیسے منصوبوں کے ذریعے دنیا پر اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے لیکن تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین کے معاملے پر امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی سرد جنگ کسی بھی وقت بڑے تصادم میں بدل سکتی ہے عالمی طاقتوں کے اس ٹکراؤ میں تیسری دنیا کے ممالک بری طرح پس رہے ہیں جہاں انسانی جان کی قیمت محض سیاسی مفادات کے تابع ہو کر رہ گئی ہے انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں محض بیانات تک محدود ہیں جبکہ عملی طور پر طاقتور ممالک اپنی مرضی مسلط کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں بے گناہ انسانوں کا قتل عام اور ان سے غیر انسانی سلوک روز کا معمول بن چکا ہے جو کہ عالمی برادری کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔
موجودہ عالمی سیاست کے ان بدلتے ہوئے حالات میں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اقوام متحدہ جیسے ادارے اب بھی اپنا موثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

عالمی تغیرات انسانیت، سیاست اور جغرافیائی کشمکش

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us