Banner

تعمیرِ قوم کی معمار سلویٰ معین کی فکری روشنی

featured
Share

Share This Post

or copy the link

تعمیرِ قوم کی معمار
سلویٰ معین کی فکری روشنی

منشاقاضی
حسبِ منشا

محترمہ سلویٰ معین صاحبہ کی شخصیت علم، شعور اور اخلاص کی ایک ایسی روشن مثال ہے جو عصرِ حاضر کے فکری اندھیروں میں چراغِ راہ بن کر جلوہ گر ہوتی ہے۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہرِ نفسیات ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی علمی و فکری گہرائی آپ کو محض ایک استاد یا مقرر تک محدود نہیں رکھتی، بلکہ آپ ایک ایسی مصلحِ قوم کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں ، جو فرد کی باطنی دنیا کو سنوار کر معاشرے کی اجتماعی روح کو جِلا بخشنے کا عزم رکھتی ہیں۔ آپ کا سب سے بڑا تعارف یہی ہے کہ آپ ایک سچی محبِ وطن ہیں، جن کے دل میں پاکستان کی سربلندی کا جذبہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی تحریک کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

پاکستان کو درپیش مسائل میں سب سے بنیادی اور گمبھیر مسئلہ کردار سازی کا فقدان ہے۔ ہمارے معاشرے میں علم کی کمی نہیں، مگر کردار کی تشکیل کے لیئے جو شعوری اور مربوط نظام درکار ہے، وہ کہیں نہ کہیں مفقود دکھائی دیتا ہے۔ محترمہ سلویٰ معین صاحبہ اسی خلا کو محسوس کرتے ہوئے ایک ایسے فکری بیانیئے کی تشکیل میں مصروفِ عمل ہیں جس کا محور بچوں کی متوازن تربیت ہے۔ ان کے نزدیک اگر تربیت کا عمل کمزور ہو تو معاشرہ اپنے وجود کی بنیادوں سے محروم ہو جاتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ ایک واضح، مؤثر اور ہمہ جہت لائحہ عمل کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔

اکیسویں صدی کے تقاضے محض ٹیکنالوجی یا معاشی ترقی تک محدود نہیں بلکہ ایک مہذب، باشعور اور باکردار قوم کی تشکیل میں مضمر ہیں۔ اس عظیم مقصد کے حصول کے لیئے محترمہ سلویٰ معین صاحبہ ماں اور استاد، ان دو بنیادی ستونوں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ ان کے نزدیک ایک بہترین ماں نہ صرف ایک فرد کی شخصیت کی بنیاد رکھتی ہے بلکہ ایک مکمل قوم کے مزاج کو تشکیل دیتی ہے، جبکہ ایک تربیت یافتہ استاد اس بنیاد کو علمی و فکری استحکام بخشتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان دونوں شعبوں میں نہایت دلجمعی، لگن اور خلوص کے ساتھ خدمات انجام دے رہی ہیں۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان کی جدوجہد دراصل اس فکری روایت کا تسلسل ہے جس کی بنیاد مفکرِ پاکستان، علامہ اقبال نے رکھی تھی۔ اقبال کا پیغام خودی، شعور اور عمل کی وہ دعوت ہے جو ایک مردہ قوم میں زندگی کی نئی روح پھونک دیتی ہے، اور محترمہ سلویٰ معین صاحبہ اسی پیغام کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق عملی شکل دینے میں مصروف ہیں۔ ان کی کاوشیں اس حقیقت کی آئینہ دار ہیں کہ اگر نیت میں خلوص، فکر میں گہرائی اور عمل میں استقامت ہو تو ایک فرد بھی قوم کی تقدیر بدلنے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

محترمہ سلویٰ معین صاحبہ کی شخصیت دراصل ایک امید کا استعارہ ہے—ایسی امید جو اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ اگر ہم اپنی آئندہ نسلوں کی تربیت پر توجہ دیں، ماں اور استاد کے کردار کو مضبوط کریں، اور اپنے فکری ورثے کو زندہ رکھیں، تو پاکستان نہ صرف ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے بلکہ دنیا میں ایک باوقار اور باکردار قوم کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ عربی زبان میں آفتاب مونث ہے اور مہتاب مذکر ہے اس لیئے تذکیر و تانیث کو کوئی امتیاز حاصل نہیں ہے ۔ سوائے اس کے کہ اس کا کام بولتا ہے محترمہ سلویٰ معین کا نام نہیں کام بولتا ہے اور وہ اپنے نام کے پیچھے بالکل نہیں ہیں وہ اپنے کام سے مخلص ہیں ۔ بہت سارے لوگ جو ہیں وہ کام کو چھوڑ کر نام کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

بقول عطاعالحق قاسمی کے

کام کو چھوڑ کر نام کے پیچھے ہیں عطا

وہ شجر بوئے نہیں جس کے پھل مانگتے ہیں

تعمیرِ قوم کی معمار سلویٰ معین کی فکری روشنی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us