Banner

سیاست کے درویش مولانا صدیق شاہ رح !

featured
Share

Share This Post

or copy the link

خالد ولید سیفی

زندگی انسان کو ایک بار ملتی ہے ، وہ اسے کیسے گزارتا ہے اس کے لگے بندھے اصول وہ اپنی فراست سے طے کرتا ہے ، دیکھنے میں سارے انسان ایک طرح لگتے ہیں لیکن ان کی زندگی گزارنے کے رنگ ڈھنگ مختلف ہوتے ہیں ، انسانوں کے اس میلے میں بیشتر لوگ اپنی ذات کے حصار میں رہتے ہیں ، ان کی زندگی کا مقصد گھر کی چار دیواری ہوتی ہے ، خاندان ہوتا ہے اور بچے ہوتے ہیں ، سماج ، نظرئیہ ، اجتماعیت ، خدمت انسانیت ، ایثار اور قربانیاں ان کی ڈکشنری میں نہیں پائے جاتے ہیں ، لیکن اسی طرح کے سوچ رکھنے والے انسانی سماج میں کچھ نابغہ روزگار شخصیت کا بھی جنم ہوتا ہے ، جو اپنی ذات کی نفی ہوتے ہیں اور ان کی زندگی کے لمحے انسانی فلاح کے جذبے سے عبارت رہتے ہیں ۔

قلات کی سرزمین میں جنم لینے والے درویش صفت انسان مولانا صدیق شاہ صاحب رح انسانوں کے اسی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے ، جس کی زندگی ہمہ جہت تھی ، اس میں کئی رنگ بکھرے ہوئے تھے اور ہر رنگ سے پھوٹتی خوشبو نے ایک جہاں معطر کر رکھا تھا ۔
مولانا صدیق شاہ صاحب ایک ذات نہیں بلکہ انجمن تھے اور بیک وقت انسانی خدمت کے کئی محاذوں پر موجود رہتے ، وہ خطیب تھے ، معلم تھے ، مدرس تھے ، سماجی مسائل کے حل میں کردار ادا کرتے تھے ، قبائلی مسائل و مشکلات کے پیچیدہ تنازعات میں ان کی رائے محترم سمجھیں جاتی تھی ، علمی مقام مسلمہ تھا ، مسند کی رونقیں ان سے قائم تھیں ، لیکن زندگی بھر ان سب میں سے سیاست ان کی خدمات کا نمایاں میدان رہا تھا ۔

مولانا صدیق شاہ نے جس دور میں سیاست کے میدان کا انتخاب کیا اس دور میں سیاست ابتلاء ، آزمائش اور مشکلات اور ذاتی زندگی کو تیاج دینے کا دور تھا ، سیاست کی ابتداء بھی جے یو آئی کے پلیٹ فارم سے کیا کہ ، بلوچستان جیسے نیشنلسٹ خطہ اور قبائلی ریجن جہاں جمعیت علماء اسلام کی سیاست کا آغاز کرنا اپنی زندگی داؤ پر لگانے کا مترادف تھا ۔

مولانا صدیق شاہ 1968 کو دینی تعلیم کے حصول سے فارغ ہوئے ، اور اس کے ساتھ ہی عملی سیاسی زندگی کا آغاز کیا ، 70 کی دہائی میں بلوچستان کی سیاست نیشنلزم کے رنگ میں رنگا ہوا تھا ، بلوچستان تو شروع سے ہی نیشنلزم کی سیاست اور قبائلی نظام کا گڑھ رہا ہے ، یہاں میر یوسف عزیز مگسی نے نیشنلزم کی سیاست کی بنیاد رکھی اور بعد ازاں میر غوث بخش بزنجو ، نواب خیر بخش مری اور سردار عطاء اللہ مینگل میر یوسف عزیز مگسی کے فکری و سیاسی وارث ٹہرے ، 70 کی جس دہائی میں مولانا صدیق شاہ صاحب نے سیاست کی اس پرخار وادی میں قدم رکھا وہ بلوچستان میں سیاست کا پرآشوب دور تھا ، سیاست کی ہنگامہ خیزیاں اپنے عروج پر تھیں ، ایوب خان کی آمریت ختم ہوچکی تھی ، ون یونٹ ٹوٹ گیا تھا ، بلوچستان میں نیپ کی سیاست سکہ رائج الوقت تھا ، ہر سو نیشنلزم کےخمار کا بسیرا تھا ، ون یونٹ کے خاتمے کی کامیابی نے نیشنلزم کی سیاست میں نئی روح پھونکی تھی ، بلوچستان کے تین قد آور جن میں سے دو قبائلی شخصیت شامل تھیں ، سیاست کے بلند مینارے پر ایستادہ عوام کی توجہ کا مرکز تھے ، اور پورا بلوچستان ان کی سیاست کے سحر میں مبتلا تھا ، نیشنلزم کی اسی جادو نگری میں ایک سادہ منش ، سادہ مزاج ، زمانے کی ہیراپھیریوں سے یکسر نابلد ، سیاست کی فریب کاریوں سے کوسوں دور ، کندھے پر چادر ڈالے سیاست کی اس وادی میں اترے جو اپنی ابتداء میں سیاست کی کسی گنتی میں شامل نہ تھے اور بلوچستان کے سیاسی و قبائلی سماج میں ایک عام ملا تھے ، جو کچھ عرصے بعد اپنی جہد مسلسل ، تنظیمی گرفت ، سیاسی کمٹمنٹ ، عوامی طرز سیاست ، اور ہمدردی کے بے پناہ جذبے سے ایک عظیم سیاسی ، فکری اور علمی راہنما کے طور پر ابھر کر سب کو ورطہ حیرت میں ڈال گئے ۔

مولانا صدیق شاہ کے سیاسی حریف بلوچ قوم پرست سیاست اور اس دور کا سخت ترین قبائلی سسٹم تھا ، لیکن اس کے باوجود ان کے سیاسی رویے میں نفرت کی آمیزش نہ تھی ، ان کی سیاست کی زمین پر کسی مخالف کےلیے فتوے کاشت نہیں ہوتے تھے ، وہ مذہب کی آڑ لے کر قوم پرستی کی سیاست کے خلاف میدان نہیں سجاتے تھے ، بلکہ خدمت ان کا شعار تھا ، شرافت ان کی پہچان تھی ، سادگی ان کی شناخت تھی ، دعوت ان کا مزاج تھا ، دل و دماغ کو مسخر کرنے کا علم رکھتے تھے ، ان کا پیغام ہمیشہ محبت تھا اور تادم محبت ہی رہا ۔

وہ جن لوگوں کےلیے سیاست کرتے تھے انہی کی طرز زندگی جیتے تھے ، عوام اور راہنما کی زندگیوں میں فاصلے نہ تھے ، جب وہ عوام میں ہوتے تو کوئی پہچان نہیں تھی کہ ورکر کون ہے اور راہنما کون ہے ، یہی وجہ تھی کہ ساراوان اور جھالاوان کے قد آور ، نامور اور قبائلی شخصیات کے مقابلے میں لوگوں نے ایک عام انسان کو سیاسی راہنما کے طور پر چنا جو انہیں پانچ وقت کی نماز پڑھاتے تھے ، درس قرآن دیتے تھے ، ان کی غمی خوشی کا حصہ تھے ، لوگ سرداروں سے دور اور ان کے قریب ہونے لگے یہ قربت رفتہ رفتہ بڑھتی گئی اور بیس سال کے عرصے میں اس قدر بڑھی کہ ، 1988 کو خان آف قلات کے صاحب زادے کے مقابلے میں مولانا صدیق شاہ بھاری اکثریت سے ایم این اے منتخب ہوئے تب جاکر سیاسی مخالفین کو اندازہ ہوا کہ پیدل چلنے والے اور سوکھی روٹی اور کبھی فاقے کرنے والا یہ عام ملا کتنا طاقتور ہے ۔

مولانا صدیق شاہ کی زندگی سادگی سے عبارت تھی ، کوئی کروفر نہیں تھا ، کوئی آؤ بھگت نہیں تھی ، کوئی شان و شوکت نہیں تھی ، جب وہ عام انسان تھے تب بھی وہی زندگی جئیے جب دوبار ایم این بنے تب بھی چال ڈھال میں معمولی فرق بھی نہیں آیا ۔

مولانا صدیق شاہ دوبار 1988 اور 1990 قلات ، سوراب ، مستونگ اور خاران کی نشست سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ، یہ ادوار بلوچستان میں قوم پرست سیاست کے شباب کے دور تھے ، اور جس حلقے سے وہ انتخاب لڑ کر جیتتے رہے وہاں عالم یہ تھا کہ سردار ہی لوگوں کی زندگیوں کے ہر معاملے میں دخیل تھے ، سردار سے بغاوت اور ایک مولوی کو ووٹ دینا کوئی معمولی بات نہ تھی لیکن مولانا صدیق شاہ کا اپنے کاز سے مضبوط کمٹمنٹ نے یہ انہونی کردی کہ لوگوں نے آزادانہ سیاسی فیصلے کیے ، مولانا صدیق شاہ صاحب نے اپنے حلقہ انتخاب میں آزادانہ سیاسی سوچ کی بنیاد رکھی اور سخت قبائلی نظام میں یہ شعور اجاگر کیا کہ ہر انسان آزاد پیدا ہوا ہے اور انہیں آزادانہ اپنے فیصلے کرنے کا اختیار ہے ۔

حریفوں کو سیاسی شکست دینے کے باوجود کبھی ان سے مخاصمانہ والا رویہ نہ تھا ، بلکہ سیاست میں بھی مکمل دعوتی مزاج کار فرما تھا ، یہی وجہ تھی کہ وہ ہمیشہ سب کےلیے قابل احترام رہے ۔

مولانا صدیق شاہ صاحب اٹھارہ سال تک جے یو آئی بلوچستان کے جنرل سکریٹری رہے ، بلوچستان کے گاؤں گاؤں اور ہر دیہات تک سفری سہولیات کی عدم دستیابی کے باوجود جماعت کا پیغام پہنچاتے تھے ، سیاست کے علاؤہ علاقے میں اصلاح احوال ، دعوت و تبلیغ ، درس تدریس کے شعبے بھی سنبھالتے رہے ہیں ۔
مولانا صدیق شاہ صاحب 1968 سے علمی سفر سے فراغت کے بعد اپنی بھرپور 34 سالہ سیاسی ، عوامی اور دعوتی زندگی جی کر 20 مارچ 2002 کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے ، آج بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام ایک عوامی جماعت ہے ، معزز نواب اور سردار اس جماعت کا حصہ ہیں ، اور جے یو آئی بلوچستان میں سب سے بڑے ووٹ بنک رکھنے والی جماعت ہے ان سب میں مولانا صدیق شاہ صاحب کی قربانیاں شامل ہیں ، آج مولانا آغا سید محمود شاہ صاحب کی صورت میں علاقے کے عوام کو ایک اور درویش میسر ہے جو وہ اپنے والد کے سیاسی جانشین اور فکری و علمی ورثے کے امین ہیں اور یوں عوام کی محبتیں سمیٹے یہ کارواں اپنے سفر پر رواں دواں ہے ۔

سیاست کے درویش مولانا صدیق شاہ رح !

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us