Banner

احمـــــدخان خان اچکـــــزئی کا وژن اور بلوچستان کا تعلیمی مستقبل

featured
Share

Share This Post

or copy the link

تحریر و رپورٹ محمدنسیم رنزوریار

احمـــــدخان خان اچکـــــزئی کا وژن اور بلوچستان کا تعلیمی مستقبل

سفیرِ دانش ۔ عالمی سیاسی بصیرت سے علاقائی تعلیمی اِنقلاب تک

قارئین کرام ! احمد خان اچکزئی اور علیم شاہ خلجی کے درمیان تعلیمی سلسلے سے ایک نہایت اہم اور بامقصد ملاقات ہوئی۔ جس میں عصمت خان اچکزئی یوسف احمدخان اچکزئی اسماعیل احمدخان اچکزئی اور اسحاق احمدخان اچکزئی موجود تھیں ۔احمدخان اچکزئی بلوچستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے ایک فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ معروف مصنفThe End of the Great Game
اورAK Group of Companies UAE
کے چیئرمین، اور ایک بین الاقوامی سیاسی تجزیہ کار بھی ہیں۔ عالمی اور علاقائی امور پر ان کی گہری بصیرت ان کی شخصیت کو مزید منفرد اور مؤثر بناتی ہے۔ ملاقات کے دوران بلوچستان میں ان کی اور ان کے خاندان کی تعلیمی خدمات، خصوصاً کاکا شہید فاؤنڈیشن کے نمایاں کردار پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے علم کے فروغ میں قابلِ قدر خدمات انجام دے رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ملاقات کا ایک غیر معمولی پہلو احمد خان اچکزئی کا بلوچستان کے نوجوانوں کی تعلیم اور تربیت کے لیے بے مثال جذبہ تھا، جو نہ صرف متاثر کن ہے بلکہ ایک مضبوط اور روشن مستقبل کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ مزید بلوچستان میں Cisco NetAcad
کے بین الاقوامی کورسز کے آغاز، اساتذہ اور نجی تعلیمی اداروں کی تربیت، اور مجموعی تعلیمی نظام کی بہتری پر بھی جامع تبادلہ خیال کیا گیا۔ احمد خان اچکزئی نے اس منصوبے کو بلوچستان کی ترقی کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ایسی بصیرت، عزم اور تعلیم سے وابستگی یقیناً ایک روشن اور مستحکم مستقبل کی علامت ہے۔احمد خان اچکزئی علمی، قبائلی اور عالمی افق پر ایک روشن ستارہ ۔علمی و فکری تحریک اور بلوچستان میں جدید تعلیمی اصلاحات کا علمبردار شخصیت ہیں۔احمد خان اچکزئی کی شخصیت محض ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی ہمہ گیر تحریک کا عنوان ہے جس نے بلوچستان کی بنجر زمین میں علم و شعور کے بیج بوئے ہیں۔ ان کی تعلیمی خدمات کا تسلسل ان کے خاندان کی دہائیوں پر محیط قربانیوں کا ثمر ہے، جس میں “کاکا شہید فاؤنڈیشن” کا کردار ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ احمد خان اچکزئی نے روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے Cisco NetAcad جیسے بین الاقوامی کورسز کے انعقاد اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے جو وژن پیش کیا ہے، وہ خطے کے تعلیمی ڈھانچے میں ایک انقلابی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جب تک نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے عالمی معیار کے مطابق ہم آہنگ نہیں ہوں گے، بلوچستان کا نوجوان عالمی دوڑ میں پیچھے رہے گا۔ ان کی زیرِ قیادت احمد خان ایجوکیشن سسٹم محض ایک ادارہ نہیں بلکہ غریب اور مستحق طلبہ کے لیے امید کی ایک ایسی کرن ہے جہاں نسل در نسل علم کی شمع روشن کی جا رہی ہے۔ وہ اپنی تحریروں اور کالموں کے ذریعے مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تعلیم ہی وہ واحد ہتھیار ہے جس سے جہالت اور پسماندگی کے اندھیروں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ ان کی تعلیمی وابستگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر کاروباری مصروفیات کے باوجود اپنے آبائی علاقے قلعہ عبداللہ گلستان اور گردونواح میں تعلیمی بنیادوں و جڑوں کی بہتری کو اپنی اولین ترجیح بنائے رکھا ہے۔قبائلی مصالحت، سماجی ہم آہنگی اور علاقائی استحکام میں کلیدی کردار ادا کرنے کیساتھ ساتھ پشتون بیلٹ کی سماجی اور قبائلی ساخت میں احمد خان اچکزئی کا نام ایک معتبر ثالث اور مدبر رہنماء کے طور پر ابھرا ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ان کی قبائلی خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ “مصلحت” اور بین القبائلی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔ وہ قبائلی تنازعات کے حل کے لیے جرگہ سسٹم اور سماجی مذاکرات کے ایسے ماہر ہیں جو فریقین کے درمیان انصاف کی بنیاد پر صلح کرانے کی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی شخصیت کا یہ پہلو انہیں ایک عام سیاست دان سے ممتاز کر کے ایک مخلص سماجی مصلح کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ بلوچستان کے پسماندہ علاقے بالخصوص قلعہ عبداللہ میں امن و امان کے قیام اور مقامی آبادی کے حقوق کے تحفظ کے لیے ان کی آواز ہمیشہ مقدم رہی ہے۔ وہ غریبوں کے ہمدرد اور انسانیت کے محسن کے طور پر جانے جاتے ہیں، جن کا دروازہ ہر ضرورت مند کے لیے دن رات کھلا رہتا ہے۔ قبائلی عصبیتوں سے بالاتر ہو کر انہوں نے جس طرح انسانیت کی خدمت کی ہے، اس نے انہیں عوامی سطح پر “محسنِ بلوچستان” کا مقام عطاء کیا ہے۔ ان کے اقدامات سے نہ صرف سینکڑوں خاندانوں کے درمیان دیرینہ دشمنیاں ختم ہوئیں بلکہ علاقے میں معاشی اور سماجی ترقی کے نئے راستے بھی ہموار ہوئے۔ وہ سماجی انصاف کے قائل ہیں اور ان کا ہر قدم علاقے کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے جدید تقاضوں کے مطابق اصلاحِ احوال کی جانب اٹھتا ہے۔
بین الاقوامی سیاسی بصیرت، قلمی جہاد اور عالمی امور پر عمیق مشاہدہ رکھنے اور کرنے والے ممتاز شخصیت احمد خان اچکزئی کی فکر کا دائرہ کار صرف مقامی حدود تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک عالمی سطح کے تجزیہ نگار اور مصنف کے طور پر اپنی پہچان منوا چکے ہیں۔ ان کی شہرہ آفاق تصنیف “The End of the Great Game” ان کے گہرے تاریخی مطالعے اور جیو پولیٹیکل بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں، علاقائی اتحادوں اور بین الاقوامی حالات و واقعات پر نہ صرف گہری نظر رکھتے ہیں بلکہ ان کا مشاہدہ مستقبل کی درست سمت متعین کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ بطور کالم نگار اور محقق، انہوں نے عالمی سیاست کے پیچیدہ تانے بانے کو انتہائی سادہ اور مدلل انداز میں عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔ ان کی تجزیاتی صلاحیتیں انہیں بین الاقوامی فورمز پر ایک معتبر آواز بناتی ہیں، جہاں وہ خطے کی نمائندگی کرتے ہوئے یہاں کے مسائل اور ممکنہ حل پر کھل کر اظہارِ خیال کرتے ہیں۔ وہ ایک ایسے مشاہد ہیں جو حالات کی نبض پر ہاتھ رکھنا جانتے ہیں، اسی لیے ان کے مضامین اور تجزیے عالمی معیار کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ AK Group of Companies UAE کے چیئرمین کی حیثیت سے ان کا بین الاقوامی تجربہ ان کے وژن کو مزید وسعت دیتا ہے، جس کا فائدہ وہ براہِ راست بلوچستان کے تعلیمی اور معاشی منصوبوں کو پہنچا رہے ہیں۔ احمد خان اچکزئی کی زندگی علم، عمل اور انسانیت کی خدمت کا ایک ایسا امتزاج ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی اور ان کی خدمات کو تاریخ کے سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔

احمـــــدخان خان اچکـــــزئی کا وژن اور بلوچستان کا تعلیمی مستقبل

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us